Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(22)فاروقِ اعظم اس امت کے  ’’ مُحَدَّث ‘‘   :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس امت کے محدث ہیں  ۔چنانچہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ

الْمُتَوَکِّلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ پہلی امتوں   میں   مُحَدَّثْ ہوتے تھے میری امت میں   اگر کوئی مُحَدَّث ہے تو عمر ہے۔ ‘‘   ([1])

 ’’ مُحَدَّث  ‘‘   کسے کہتے ہیں  ؟

علامہ محب طبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   :  ’’ یہاں   مُحَدَّث کا معنی یہ ہے کہ جس پر ربانی الہام ہو ،  یعنی وہ لوگ جن پر وحی نہیں   آتی مگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے آئینہ قلب پر اسرار نازل فرماتاہے۔ ‘‘  ([2])

(23)فاروقِ اعظم کے جنتی محل کو رسول اللہ نے دیکھا:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایاکہ جب میں   جنت میں   داخل ہوا تو میں   نے ایک سونے کا محل دیکھا۔ میں   نے پوچھا:   ’’ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ یعنی یہ محل کس کا ہے؟ ‘‘  تو فرشتوں   نے عرض کیا:  ’’ لِرَجُلٍ مِّنَ الْعَرَبِ یعنی یہ ایک عربی نوجوان کا ہے۔ ‘‘   میں   نے کہا:  ’’ اَنَا عَرَبِیٌّ میں   بھی عربی ہوں  ۔ ‘‘  تو فرشتوں   نے عرض کیا:  ’’ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ یعنی یہ ایک قرشی نوجوان ہے۔ ‘‘   میں   نے کہا:  ’’ قرشی تو میں   بھی ہوں   ،  پھر یہ کس کا ہے؟ ‘‘  تو فرشتوں   نے عرض کیا:  ’’ لِرَجُلٍ مِّنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ یعنی یہ امت محمدیہ کے ایک شخص کا ہے۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ اَنَا مُحَمَّدٌ یعنی محمد تو میں   ہوں  ۔ فرشتوں   نے عرض کیا:   ’’ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یعنی یہ محل عمر بن خطاب کا ہے۔ ‘‘   پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ فَلَوْلَا مَا عَلِمْتُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ یعنی اے عمر! اگر مجھے تمہاری غیرت کا علم نہ ہوتا تو میں   اس محل میں   ضرور داخل ہوتا۔ ‘‘   یہ سن کر سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآبدیدہ ہوگئے اور عرض کرنے لگے:   ’’ بِاَبِیْ وَاُمِّیْ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اَغَارُ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا میں   آپ پر بھی غیرت کروں   گا۔ ‘‘  ([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سولہواں باب

اَوَّلیاتِ فاروقِ اعظم

اس باب میں ملاحضہ کیجئے۔۔۔۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذارتی اَوّلیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مذہبی اَوّلیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فلاحی اَوّلیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اِدراتی اَوّلیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی معاشی اَوّلیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جنگی اَوّلیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اُخروی اَوّلیات

٭…٭…٭…٭…٭…٭

اَوَّلیاتِ فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ’’ اَوَّلِیَات ‘‘   جمع ہے  ’’ اَوَّل ‘‘   کی اور  ’’ اَوَّل ‘‘   اس کام کو کہتے ہیں   جو کسی شخص سے سب سے پہلے صادر ہو۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کےقبولِ اسلام سے اُن کے وصال ظاہری تک کئی ایسے معاملات ہیں   جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَوّلیات ہیں  ۔نیز بروز قیامت بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو چند اَوّلیات حاصل ہوں   گی ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَوّلیات کی کل تعداد64ہے ،  ان تمام اَوّلیات کو درج ذیل پانچ حصوں   میں   تقسیم کیا گیاہے:

 



[1]   بخاری  ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن الخطاب ،  ج۲ ،  ص۵۸۷ ،  حدیث: ۳۶۸۹۔

[2]   ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۲۸۷۔

[3]   بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص ۵۲۵ ،   حدیث: ۳۶۷۹۔

 مسلم ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  باب من فضائل عمر ،  ص۱۳۰۴ ،  حدیث: ۲۰۔ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۵ ،  حدیث:  ۳۷۰۹  ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To