Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سے جو تیرا محبوب ہے اس کے ذریعے اسلا م کو عزت عطا فرما۔ ‘‘  ([1])

تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دونوں   میں   سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرمائی گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ہیں  ۔

(8)فاروقِ اعظم کے قبولِ اسلام پر فرشتوں   کی خوشی:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ کے قبول اسلام پر فرشتوں   نے بھی خوشیاں   منائیں   ،  آپ کے قبول اسلام کے بعد جبریل امین حاضر ہوئے اور عرض کیا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لَقَدِ اسْتَبْشَرَ اَھْلُ السَّمَآءِ بِاِسْلَامِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ یعنی حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں  ۔([2])

(9)فاروقِ اعظم کی اعلانیہ ہجرت مدینہ:

جب کفار مکہ کاظلم وستم حدسےبڑھاتو مسلمانوں   نے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنا شروع کردی ،  تمام مسلمان تقریباً چھپ کر ہجرت کرتےتھےتاکہ کفار کے ظلم وستم سے محفوظ رہیں   لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ

 تَعَالٰی عَنْہکی یہ خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِعلانیہ مدینہ منورہ ہجرت کی ۔([3])

(10)میرے بعد نبی ہوتے تو عمر ہوتے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ واحد خلیفہ ہیں   جن کے بارے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو ضرور وہ عمر ہوتے۔ ‘‘  آپ کے علاوہ کسی خلیفہ کے لیے یہ فرمان جاری نہ ہوا۔([4])

(11)فاروقِ اعظم سے شیطان کی گھبراہٹ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہیبت سے شیطان بھی ڈرتا ہے ،  بلکہ جس راستے سے آپ گزرتے ہیں   شیطان وہ راستہ ہی تبدیل کرلیتاہے۔شیطان آپ کی آہٹ سے بھی بھاگ جاتاہے۔([5])

(12)فاروقِ اعظم کی وفات پر اسلام روئے گا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال پر اسلام رویا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جبریل امین نے مجھے بتایا:   ’’ لَيَبْكِ الإِسْلامُ عَلَى مَوْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُیعنی اسلام حضرت عمر کی وفات پر روئے گا۔ ‘‘  ([6])

(13)اے عمر!ہمیں   دعاؤں   میں   یاد رکھنا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ صحابی

 ہیں   کہ ایک بار آپ کہیں   سفر پر گئے تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بذاتِ خود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنی دعاؤں   میں   یاد رکھنے کا فرمایا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا سالم بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ ایک بار میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عمرہ کی اجازت مانگی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اجازت عطا فرمائی اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا:  لَا تَنْسَنَا يَا أَخِيْ مِنْ دُعَائِكَ یعنی اے بھائی! ہمیں   اپنی دعاؤں   میں   نہ بھول جانا۔ ‘‘  ([7])

ترمذی میں   یہ الفاظ ہیں  :   ’’ اَيْ اَخِيْ اَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا یعنی اے میرے بھائی! ہمیں   بھی اپنی دعاؤں   میں   شریک رکھنا کہیں   بھول نہ جانا۔ ‘‘  ([8])

(14)غیرت فاروقِ اعظم:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی غیرت کو خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیان فرمایا۔چنانچہ:

حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن رافع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اللہَ غَيُّوْرٌ يُحِبُّ الْغَيُّوْرَ وَاِنَّ عُمَرَ



[1]   ترمذی  ، کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۳ ،  حدیث: ۳۷۰۱.

[2]   ابن ماجہ  ، کتاب السنۃ ،  فضل عمر ،  ج۱ ،  ص۷۶ ،  حدیث: ۱۰۳۔

[3]   تھذیب الاسماء  ،  عمر بن الخطاب ،  ج۲ ،  ص۳۲۶۔

[4]   ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ ، ج۵ ،  ص۳۸۵ ،  حدیث: ۳۷۰۶۔

[5]   اس موضوع کے مختلف واقعات اسی کتاب میں   صفحہ ۱۷۳پر ملاحظہ کیجئے۔

[6]   معجم کبیر ،  سن عمرووفاتہ۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۶۷ ،  حدیث: ۶۱۔

[7]   ابو داود ،  کتاب الوتر ،  باب الدعا ،  ج۲ ،  ص۱۱۴ ،  حدیث: ۱۴۹۸۔

[8]   ترمذی ، احادیث شتی ،  باب من ابواب الدعوات ،  ج۵ ،  ص۳۲۹ ،

(4)…سب سے پہلے قاضی بننے والے:

  • (5)…سب سے پہلے ’’ دُرَّہ ‘‘ بنانے والے:

  • (6)…سب سے پہلے ہجری تاریخ کی ابتدا کرنے والے:

  • ایک اہم وضاحت:

  • (7)…سب سے پہلے راتوں کودورہ کرنے والے:

  • (8)…سب سے پہلے خلیفہ جن کے دور میں بے شمار فتوحات ہوئیں :

  • (9)…سب سے پہلے درازیٔ عمر کی دعا دینے والے:

  • (10)…سب سے پہلے تائید الہی کی دعا دینے والے:

  • (11)…سب سے پہلے ہجوکرنے پرسزا دینے والے:

  • (12)…سب سے پہلے جلا وطنی کی سزا دینے والے:

  • (13)…سب سے پہلے اہل عرب کی عدم غلامی کا قاعدہ مقرر کرنے والے:

  • (14)…سب سے پہلے یہود کو عرب سے نکالنے والے:

  • (15)…سب سے پہلے وارث بننے والے دادا:

  • (16)…سب سے پہلے وارث بننے والے آقا:

  • (17)…سب سے پہلے امام جنہوں نے شہادت پائی:

  • فاروقِ اعظم کی مذہبی اَوّلیات

  • (18)…سب سے پہلے جمع قرآن کا مشورہ دینے والے:

  • (19)…سب سے پہلے جماعتِ تراویح قائم کرانے والے:

  • (20)…سب سے پہلے نمازجنازہ کی چار تکبیرات پر اجماع قائم کرانے والے:

  • (21)…سب سے پہلے اذان کے الفاظ میں اضافہ کرنے والے:

  • (22)…سب سے پہلے اصحابِ فرائض میں  مسئلۂ عَول ایجاد کرنے والے:

  • (23)…سب سے پہلے شراب پر اَسی کوڑے لگانے والے:

  • (24)…سب سے پہلے مال کوملکیت میں رکھ کر صدقہ کرنے والے:

  • (25)…سب سے پہلے ائمہ ومؤذنین کی تنخواہیں جاری کرنے والے:

  • (26)…سب سے پہلےمسجد حرام کی توسیع وکشادگی کرنے والے:

  • (27)…سب سے پہلے مسجد حرام کی بیرونی دیوار بنانے والے:

  • (28)…سب سے پہلے مسجدوں کو روشن کرنے والے:

  • (29)…سب سے پہلے مسجد نبوی کا فرش پکا کرانے والے:

  • (30)…سب سے پہلے مسجد میں  چٹائیاں بچھانے والے:

  • (31)…سب سے پہلے مسجد نبوی کی توسیع کرنے والے:

  • فاروقِ اعظم کی فلاحی اَوّلیات

  • (32)…سب سے پہلے نہریں کھدوانے والے:

  • (33)…سب سے پہلے شہروں کو تعمیر کرانے والے:

  • (34)…سب سے پہلے مفتوحہ ممالک کو تقسیم کرنے والے:

  • (35)…سب سے پہلے مردم شماری کرانے والے:

  • (36)…سب سے پہلے معلموں اورمدرسوں کے مشاہرے مقرر کرنے والے:

  • (37)…سب سے پہلے گورنروں کی تنخواہیں  مقرر کرنے والے:

  • (38)…سب سے پہلے لوگوں کے لیے وظائف مقرر کرنے والے:

  • (39)…سب سے پہلے شیر خواربچوں کے وظائف مقرر کرنے والے:

  • (40)…سب سے پہلے لاوارث بچوں کی پرورش کا انتظام کرنے والے:

  • فاروقِ اعظم کی اِدارتی اَوّلیات

  • (41)…سب سے پہلے بیت المال قائم کرنے والے:

  • ایک اہم وضاحت:

  • (42)…سب سے پہلے دیوان بنانے والے:

  • (43)…سب سے پہلے جیل خانہ قائم کرنے والے:

  • (44)…سب سے پہلے پولیس کا محکمہ قائم فرمانے والے:

  • (45)…سب سے پہلے مسافر خانے اور گودام بنوانے والے:

  • (46)…سب سے پہلے شہروں میں  مہمان خانے قائم کرنے والے:

  • (47)…سب سے پہلےخبر رسانی کا نظام بنانے والے:

  • (48)…سب سے پہلے شورائی نظام قائم فرمانے والے:

  • (49)…سب سے پہلے شہروں میں قاضی مقرر کرنے والے:

  • (50)…سب سے پہلے عمال کے کاموں کو بیان کرنے والے:

  • (51)…سب سے پہلے عمال کا احتساب مکتب بنانے والے:

  • (52)…سب سے پہلے جنگلات کی پیمائش کرانے والے:

  • (53)…سب سے پہلے پہاڑوں کی پیمائش کروانے والے:

  • فاروقِ اعظم کی معاشی اَوّلیات

  • (54)…سب سے پہلے مصر سے مدینہ اَناج منگوانےوالے:

  • (55)…سب سے پہلےدریائی قیمتی مال پر محصول مقرر کرنے والے:

  • (56)…سب سے پہلے اسلامی سکے رائج کرنے والے:

  • (57)…سب سے پہلے حربی تاجروں پرعشرمقرر کرنے والے:

  • (58)…سب سے پہلے تجارت کے گھوڑوں پر زکوۃ مقرر کرنے والے:

  • (59)…سب سے پہلے بنو تغلب کے عیسائیوں سے محصول وصول کرنے والے:

  • (60)…سب سے پہلے کتابیوں سے بطریق معیشت جزیہ لینے والے:

  • فاروقِ اعظم کی جنگی اَوّلیات

  • (61)…سب سے پہلے فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے والے:

  • (62)…سب سے پہلے فوجیوں کی گھروں سے جدائی کی مدت معین کرنے والے:

  • (63)…سب سے پہلے جنگی گھوڑے کا حصہ نافذ کرنے والے:

  • فاروقِ اعظم کی اُخروی اَوّلیات

  • (64)…سب سے پہلے نامۂ اَعمال دائیں ہاتھ میں دیے جانے والے:

  • سترہواں باب

  • وصالِ فاروقِ اعظم

  • فاروقِ اعظم کا آخری حج:

  • فاروقِ اعظم اور شہادت کی دعا

  • مدینہ منورہ میں شہادت کی دعا:

  • فاروقِ اعظم کی شہادت کی دعا:

  • تورات میں فاروقِ اعظم کی شہادت کا ذکر:

  • اللہچاہے تو شہادت سے نواز سکتاہے :

  • شہادت فاروقِ اعظم پر لوگوں کو اطلاع

  • سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری کا خواب:

  • سیِّدُنا حذیفہ اورذکرِ شہادتِ فاروقِ اعظم:

  • اجنبی شخص اور شہادت فاروقِ اعظم :

  • فاروقِ اعظم اور شہادت کی خبر

  • فاروقِ اعظم نے اپنی شہادت کی خبر دی:

  • جن اور شہادت فاروقِ اعظم کی خبر:

  • فاروقِ اعظم پر قاتلانہ حملہ

  • ابولؤلؤ کا فاروقِ اعظم پر قاتلانہ حملہ:

  • قاتل نے خود کشی کرلی:

  • امیر کی اطاعت میں ہی بہتری ہے:

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کو گھر لایا گیا:

  • فاروقِ اعظم کا قاتل کون تھا؟

  • فاروقِ اعظم کاشکر ادا کرنا:

  • سیِّدُنا کعب کی شہادت کی یاددہانی:

  • عبدالرحمن بن عوف نے نماز فجر پڑھائی:

  • ہماری عمریں بھی فاروقِ اعظم کو لگ جائیں :

  • فاروقِ اعظم نے نماز فجر ادا کی:

  • تین دن تک نماز ادا فرمائی:

  • عیاد ت کےلیے لوگوں کی بے تابی:

  • انتقال کے وقت بھی فکر آخرت:

  • اللہ کا حکم پورا ہو کر رہے گا:

  • شہادت سے قبل چند وصیتیں :

  • موت مؤخر کرنے کی دعاکی درخواست:

  • فاروقِ اعظم اور بنی اسرائیل کا عادل بادشاہ:

  • فاروقِ اعظم جنتی ، مولاعلی کی گواہی:

  • رب تعالی فاروقِ اعظم کو عذاب نہ دےگا:

  • قیامت کے دن گواہی دو گے؟

  • فرشتے غصہ کرتے ہیں :

  • میت پر رونے سے میت کو عذاب:

  • میت کو عذاب دیے جانے کی وجوہات:

  • جنازے کو جلدی لے کرچلنے کی وصیت:

  • جنازے کے ساتھ آگ وعورت کی ممانعت:

  • رخسار زمین سے ملا دینے کی وصیت:

  • قرض کی ادائیگی کی وصیت:

  • انتخابِ خلیفہ کے لیے مجلس شورٰی کا قیام

  • اِنتخاب خلیفہ میں فاروقِ اعظم کی خواہش:

  • رسول اللہ کی سنت پر عمل :

  • فاروقِ اعظم کی خلیفہ کو وصیت:

  • فاروقِ اعظم کی قبر اَنورکی کھدائی:

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی شہادت

  • مغفرت نہ ہوئی تو ہلاکت ہے:

  • شانِ فاروقِ اعظم بزبان مولاعلی

  • فاروقِ اعظم محبوب شیر خدا:

  • مولاعلی کی پسندیدہ شخصیت:

  • رسول اللہ کے بعد سب سے زیادہ محبوب:

  • فاروقِ اعظم کا غسل مبارک

  • فاروقِ اعظم کو کس نے غسل دیا؟

  • کتنی بار اور کس پانی سےغسل دیا گیا؟

  • مشک سے غسل کی ممانعت:

  • فاروقِ اعظم کا کفن مبارک

  • کن کپڑوں میں تکفین کی گئی؟

  • کتنے کپڑوں میں تکفین کی گئی؟

  • فاروقِ اعظم کی نماز جنازہ

  • رسول اللہ کی چارپائی پر جنازہ:

  • چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ:

  • فاروقِ اعظم کا جنازہ پڑھانے والے صحابی:

  • قبر ومنبر کے درمیان جنازہ:

  • جنازے کے بعد مدح وثناء:

  • فاروقِ اعظم کی تدفین

  • سیدہ عائشہ سے تدفین کی اجازت:

  • چار صحابہ نے قبر میں اتارا:

  • قبر میں فاروقِ اعظم کا جسد مبارک:

  • فاروقِ اعظم کا پاؤں مبارک ظاہر ہوگیا:

  • شہادت کے بعد آپ کے اصحاب کے تاثرات

  • مسلمانوں پر سب سے بڑی مصیبت:

  • آپ کی شہادت میں بدترین مخلوق کا ہاتھ :

  • فاروقِ اعظم ، اسلام کا مضبوط قلعہ:

  • فاروقِ اعظم کے چاہنے والے کتے سے محبت:

  • اِسلام آج کمزور ہوگیا:

  • حق واہل حق دور نہ ہوتے تھے:

  • گویا قیامت قائم ہوگئی:

  • دنیا سے تہائی علم چلا گیا:

  • اِسلام آگے بڑھنے والاتھالیکن۔۔۔:

  • ہرگھر میں نقص داخل ہوگیا:

  • امیر المؤمنین کی وفات کالوگوں پراثر:

  • مولاعلی اور خلفائے راشدین:

  • مولاعلی اور افضلیت شیخین:

  • صحابہ کرام کی فاروقِ اعظم سے محبت:

  • وصالِ فاروقِ اعظم اور جنات

  • فاروقِ اعظم کی وفات پر ایک جن کے اشعار:

  • فاروقِ اعظم کی وفات پردو غیبی اَشعار:

  • تدفین کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہ کاپردہ کرنا:

  • سیدہ عائشہ صدیقہ کا عقیدۂ حیات النبی:

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی عمر اور زمانۂ خلافت:

  • فیضانِ مزارات ثلاثہ

  • تینوں قبور مبارکہ کی اندرونی کیفیت :

  • تینوں قبور مبارکہ کی بیرونی کیفیت :

  • تینوں قبور مبارکہ کی وضع وساخت:

  • چوتھی قبر کی جگہ خالی ہے:

  • سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تدفین:

  • سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سبز عمامہ شریف میں :

  • پانچ کونوں والی دیوار:

  • سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار:

  • مقصورہ شریف کی وضاحت:

  • رسول اللہ کی قبر انور کی موجودہ تصاویر:

  • مزارات پر حاضری دینا سنت ہے:

  • شفاعت واجب ہوگئی:

  • سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر کی روضۂ رسول پر حاضری:

  • سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ کی روضۂ رسول پر حاضری:

  • سیِّدُنا انس بن مالک کی روضہ رسول پر حاضری:

  • سرکار کا سلام عطّار کے نام:

  • اٹھارہواں باب

  • فضائل فاروقِ اعظم بزبان اولیاءِ امتِ

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام جعفر صادق

  • میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں :

  • جو ابوبکروعمرکی فضیلت نہیں جانتاوہ جاہل ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام زین العابدین

  • عہدِ رسالت میں شیخین کا مقام:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنامحمد بن سیرین

  • فاروقِ اعظم کی شان گھٹانے والامحب نبی نہیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناسفیان ثوری

  • تمام مہاجرین وانصار صحابہ کو خطاوار ٹھہرانے والا:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا شریک

  • مولاعلی کو شیخین پر مقدم کرنے والے میں کوئی خیر نہیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا اسامہ

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر اسلام کے ماں باپ ہیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مجاہد

  • فاروقِ اعظم کی رائے کے مطابق نزول قرآن:

  • شیاطین کو بیڑیاں لگی ہوئی تھیں :

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام مالک

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر کا مقام قرب:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا شقیق

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی محبت سنت ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان امام حسن

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی محبت فرض ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا زید بن علی

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر سے براءت مولا علی سے براءت ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مالک بن مغول

  • سیِّدُنا ابوبکر وعمر کی محبت کی وصیت:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا مالک بن انس

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا جبریل امین

  • فاروقِ اعظم کی رضاحکم اورجلال عزت ہے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان حضور داتا گنج بخش

  • سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے اوصاف حمیدہ:

  • گوشہ نشینی کے دو طریقے:

  • شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا سراج طوسی

  • شان فاروقِ اعظم بزبان اعلی حضرت

  • شان فاروقِ اعظم بزبان برادر اعلی حضرت

  • شان فاروقِ اعظم بزبان مفتی احمد یار خان نعیمی

  • شان فاروقِ اعظم بزبانِ امیر اہلسنت

  • انیسواں باب

  • شانِ فاروقِ اَعظم بزبان مستشرقین وغیرمسلم لیڈر

  • ’’ مائیکل ایچ ہارٹ کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ سٹینلے لین پول کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ ولیم میورکا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ ایم ، این رائےکا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ ڈیوش ولندیزی فاضل کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ پنڈت ہنس راج کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ لالہ لاجبت رائے کا خراج تحسین ‘‘

  • ’’ گاندھی کا خراج تحسین ‘‘

  • حیاتِ فاروقِ اعظم تاریخ کے آئینے میں