Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بات کا جواب دو۔ ‘‘   وہ کہنے لگا:  ’’ آپ نے صحیح کہا میں   واقعی کفار کا نجومی تھا۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ تمہارے جن نے تمہیں   جوسب سے عجیب خبر دی ہووہ بتاؤ؟ ‘‘  وہ کہنے لگاکہ ایک دن میں   بازار میں   تھا ،  میرا جن میرے پاس ڈرا ہوا آیا اور کہنے لگا:  ’’ کیا تم کو معلوم نہیں   جب سے جنات کو آسمان کی خبروں   سے روک دیا گیا ہے وہ کس قدر خوف زدہ اور مایوس ہیں   وہ اونٹنیوں   کے پالانوں   اور ان کے جھولوں   کے ساتھ چمٹ گئے ہیں  ۔ ‘‘  یعنی وہ جن مجھے بتارہا تھا کہ ہماری جن قوم ہر مقام کی خبر حاصل کرلیتی ہے اور اب انہیں   نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نبوت کا علم ہوگیا ہے اور جنات ان پر ایمان لارہے ہیں   ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  اس جن نے سچ کہا تھا کیونکہ ایک بار میں   بھی دورِ جاہلیت میں   کفار کے جھوٹے خدائوں   کے پاس تھاکہ ایک شخص نے ان کے چرنوں   میں   ایک بچھڑا لا کر ذبح کیااس بچھڑے نے زوردار چیخ ماری ایسی شدید چیخ میں   نے کبھی نہیں   سنی تھی ،  پھر اس بچھڑے نے کہا:  ’’  اے وہ شخص جس کے سر کے بال تھوڑے ہیں   ،  بڑا صبر آزما مرحلہ آگیا ہے۔ ایک فصیح اللسان شخص کہہ رہا ہے:  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہ۔ ‘‘   یہ سن کر لوگ اچھل پڑے تو میں   نے دل میں   فیصلہ کیا کہ جب تک اس آواز کی حقیقت معلوم نہ ہوجائے مجھے یہاں   سے نہیں   جاناچاہیے۔چنانچہ پھر آواز آئی۔ ’’  ایک فصیح اللسان شخص کہہ رہا ہے:  لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہ۔ ‘‘   یہ سن کر میں   اُٹھ کھڑا ہوا اور یہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی ہیں  ۔([1])

(32) اجنبی شخص کی پہچان :

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمسجد میں   تشریف فرما تھے ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصحاب بھی تھے کہ ایک شخص کا وہاں   سے گزر ہوا۔ان کا نام سیِّدُنا سواد بن قارب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ انہیں   نہ جانتے تھے اس کے باوجود ان سے ارشاد فرمایا:   ’’ کیا تم ابھی تک اپنے علم نجوم پر عمل پیرا ہو؟ ‘‘   اس پر انہیں   غصہ آگیا اور وہ کہنے لگے:   ’’ خدا کی قسم! جب سے میں   مسلمان ہوا ہوں  آپ جیسی بات کسی نے نہیں   کہی۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’  سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! زمانہ جاہلیت میں  ہم شرک کی برائی میں   مبتلا تھے جو یقیناً تمہارے علم نجوم سے زیادہ بُری بات تھی۔چلو مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظہور کی غیبی اطلاع کیسے دی تھی؟ ‘‘  حضرت سیِّدُنا سواد بن قارب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ ٹھیک ہے میں   بتاتا ہوں  ۔ ‘‘  پھر فرمایا:   ’’ ایک رات میں   بیداری اور خواب کی ملی جُلی کیفیت میں   تھاکہ ایک جن آیا ،  اس نے مجھے پائوں   سے ٹھوکر ماری اور کہنے لگا : سواد بن قارب ! اٹھو  ،  اگر سمجھ دار ہو تو سمجھ لو ،  اگر تمہیں   عقل ہے تو یہ بات اپنی عقل میں   بٹھالو کہ لؤی بن غالب کی اولاد میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک رسول بھیجا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے بعد اس جن نے یہ اشعار کہنا شرو ع کیے:

عَجَبْتُ لِجِنٍّ وَتَجَسُّسَاتِھَا وَسَدِّھَا الْعِیْسْ بِاَحْلَاسِھَا

ترجمہ:  ’’  مجھے جنوں   اور اُن کی سراغ رسانیوں   پر تعجب ہے  ،  وہ کہاں   کہاں   تک سفر کرکے جا پہنچتے ہیں  ۔ ‘‘ 

تَھْوِی اِلٰی مَکَّتَہُ تَبْغِی الْھُدٰی مَاخَیْرُ الْجِنِّ کَاَنْجَاسِھَا

ترجمۂ:   ’’ یہ جن مکہ میں   آپہنچے ہیں   ،  ہدایت کی تلاش میں   ،  اور اچھے جن گندے جنوں   کی طرح نہیں   ہیں  ۔ ‘‘ 

فَارْحَلْ اِلَی الصَّفْوَۃِ مِنْ ھَاشِمْ وَاسْمِ بَغْیَتَکَ اِلٰی رَاْسِھَا

ترجمۂ:   ’’ اپنے اصل مقصود پر نظر رکھتے ہوئے بنو ہاشم کے برگزیدہ انسان کی طرف ہجرت کرو۔ ‘‘ 

اس کے بعد دو تین راتیں   وہ جن اِسی طرح آتا رہا اور مجھے اشعار سناتا رہا۔ تب میرے دل میں   اسلام کی محبت بیٹھ گئی۔ چنانچہ چوتھے روز کی صبح میں   نے رخت سفر باندھا اور مکہ مکرمہ جاپہنچا۔ وہاں   مجھے پتا چلا کہ نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تو مدینہ منورہ ہجرت کرگئے ہیں   تو میں   بھی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آگیا۔ یہاں   پہنچنے پر معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں   تشریف فرما ہیں  ۔ چنانچہ میں   نے مسجد کے باہر اپنی اونٹنی باندھی اور مسجد میں   داخل ہوگیا۔ آپ مجھے اپنے قریب بلاتے رہے یہاں   تک کہ میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بالکل سامنے پہنچ گیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’ مجھے اپنا قصہ سنائو۔ ‘‘   میں   نے اپنے ساتھ پیش آنے والا یہ سارا واقعہ سنادیا اور ساتھ ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بہت ہی مسرور ہوئے اور ان کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا سواد بن قارب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ واقعہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاُٹھے اور ان سے بغل گیر ہوگئے۔ فرمایا:  ’’  میری تمنا تھی کہ میں   یہ واقعہ تمہاری زبان سے سنوں  ۔  ‘‘   ([2])

آسمانی کتابوں   سے آپ کی موافقت

(33)فاروقِ اعظم کے الفاظ اور تورات کی موافقت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا سالم بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا کعب احبار نےجو یہود کے بہت بڑے عالم تھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   یہ عرض کیا:   ’’ وَيْلٌ لِّسُلْطَانِ الْاَرْضِ مِنْ سُلْطَانِ السَّمَاءِ یعنی آسمانوں   کے مالک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے زمین کے بادشاہ کے لیے تباہی وبربادی ہے۔ ‘‘  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اِلَّا مَنْ حَاسَبَ نَفْسَہُ یعنی یہ تباہی وبربادی اس بادشاہ کے لیے نہیں   ہے جو اپنے



[1]   بخاری  ، کتاب المناقب  ، اسلام عمر بن خطاب  ، ج۲ ،  ص۵۷۸ ،   حدیث: ۳۸۶۶۔

[2]   مستدرک حاکم ، کتاب معرفۃ الصحابہ  ، ذکر سواد بن قارب الازدی ، ج۴ ،  ص۷۹۸ ،  حدیث: ۶۶۱۷ملتقطا۔

                                                 معجم کبیر   ، سواد بن  قارب ،   ج۷ ،  ص۹۲ ،  حدیث: ۶۴۷۵ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To