Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

یوں   عرض کرنے لگا کہ ایک عورت میرے پاس کچھ خریدنے آئی تو میں   اسے اپنے کمرہ خاص میں   لے گیا اور زنا کے علاوہ سب کچھ کیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيْبٌ فِي سَبِيْلِ اللہتیری بربادی ہو شاید اس کا شوہر جہاد پر گیا ہے؟ ‘‘   اس نے کہا:  ’’  جی ہاں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   جاؤ۔ ‘‘   وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   گیا اور سارا معاملہ بیان کیا تو انہوں   نے بھی حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ لَعَلَّهَا مُغِيْبٌ فِيْ سَبِيْلِ اللہشاید اس کا شوہر جہاد پر گیا ہے؟ ‘‘   اس نے کہا:   ’’ جی ہاں  ۔ ‘‘  پھر وہ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی وہی ارشاد فرمایا جو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا تھا۔ ‘‘  پھر سورۂ ھود کی یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی:  (وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ(۱۱۴)) (پ۱۲ ،  ھود: ۱۱۴) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں   کناروں   اور کچھ رات کے حصوں   میں   بیشک نیکیاں   برائیوں   کو مٹا دیتی ہیں   یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں   کو ۔ ‘‘ 

تو اس شخص نے پوچھا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا اس آیت میں   جو حکم ہے وہ صرف میرے لیے خاص ہے؟ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا:   ’’ یہ تیرے لیے خاص نہیں   بلکہ سب کے لیے عام ہے۔ ‘‘   حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی تائید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ صَدَقَ عُمَرُ یعنی عمر نے سچ کہا۔ ‘‘  ([1])

رسول  اللہ کی موافقت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے بے شمار ایسے واقعات بھی ہیں   جن میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو خود سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے کسی معاملے میں   تائید اور موافقت عطا ہوئی ،  چند واقعات پیش خدمت ہیں  :

(20)الفاظِ اذان کے متعلق فاروقِ اعظم کا خواب :

            حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ میٹھے میٹھے آقا ،  مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے لوگوں   کو نماز کی دعوت کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دیا تو میں   نے خواب میں   دیکھا کہ ایک شخص دو سبز کپڑوں   میں   ملبوس ہاتھ میں   ایک ناقوس لے کر میرے پاس آیا۔ میں   نے کہا:  ’’  اے اللہ کے بندے ! کیا یہ ناقوس مجھے بیچو گے؟ ‘‘   وہ کہنے لگا:   ’’ یہ تمہارے کس کام کا؟ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ میں   اس کے ساتھ لوگوں  کو نماز کی طرف بلائوں   گا۔ ‘‘   وہ کہنے لگا:   ’’ اگر تم چاہو تو میں   تمہیں   نماز کے لیے بلانے کا اس سے بہتر طریقہ نہ بتاؤں  ؟ ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ ضرور بتائیے۔ ‘‘   وہ کہنے لگا:   ’’  تم یہ کہا کرو:  اللہ اکبر اللہ اکبر۔ ‘‘   اوراس نے ساری اذان کہہ سنائی ۔پھر اس نے کہا:   ’’ جب تم جماعت قائم کرنے لگو تو یوں   کہو: اللہ اکبر اللہ اکبر۔ ‘‘   اوراس نے ساری اقامت کہہ سنائی۔ جب صبح ہوئی تو میں   حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارگاہ میں   حاضر ہوا اور اپنا خواب بیان کیا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:   ’’  اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہاتو یہ خواب ضرور سچ ہوگا ۔ تم بلال کے ساتھ جاؤ اور جو کچھ تم نے خواب میں   سنا ہے وہ بلال کو سناتے جائو کیونکہ اس کی آواز تم سے بلند ہے۔ ‘‘   تو میں   نے حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ساتھ کھڑا کرلیا  ،  میں   سیِّدُنا بلال کو کلمات اذان بتاتا رہا اور آپ اذان دیتے رہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے گھر میں   یہ آواز سنی تو دوڑے دوڑے مسجد میں   آئےاور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کی چادر زمین پر گھسٹتی آرہی تھی اور وہ کہہ رہے تھے:   ’’ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَاَى یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس خدا کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا ہے ،  میں   نے آج خواب میں   یہی الفاظ سنے ہیں  ۔ ‘‘   حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  ’’ فَلِلَّهِ الْحَمْدُیعنی تمام تعریفیں   رب عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں  ۔ ‘‘  ([2]) 

(21)فاروقِ اعظم کی رائے پر الفاظِ اذان میں   ضافہ:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ مؤذن رسول حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہابتداء ًاذان میں    ’’ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ‘‘   کے بعد  ’’ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ ‘‘   کہا کرتے تھے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اے بلال! اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہکے بعداَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہ کہا کرو۔ ‘‘  یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو حکم ارشاد فرمایا:   ’’ قُلْ كَمَا اَمَرَكَ عُمَرُ یعنی اے بلال!جیسا عمر نے تمہیں   حکم دیا ہے ویسا ہی کہو۔ ‘‘  ([3])

(22)…غزوۂ اُحد میں   آپ کے قول کی موافقت:

غزوۂ اُحد میں   جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہادت کی خبر پھیل گئی تو ابو سفیان (جو فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تھے)نے اس بات کی تصدیق کے لیے تین سوالات کیے تو رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا جواب دینے سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو دو مرتبہ منع فرمایالیکن تیسری بار منع نہ فرمایا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے جواب دیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تیسری بارجواب دینے سے منع نہ کرنا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ابو سفیان کوجواب دینے کی موافقت تھی۔ چنانچہ غزوۂ اُحد میں   حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم امیر المؤمنین ،  خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہودیگر چند صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ ایک پہاڑ کے دامن میں   موجود تھے۔ابو سفیان نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہادت کی تصدیق کرنے کے لیے اس پہاڑ پر آکر باآواز بلند کہا:   ’’ اَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ یعنی کیا تم میں   محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )موجود ہیں  ؟ ‘‘  تو



[1]   مسند امام احمد ،  مسند عبد اللہ بن عباس ،  ج۱ ،  ص۲۵۹ ،  حدیث: ۲۲۰۶۔

[2]   ابو داود  ، کتاب ا لصلاۃ  ، باب کیف الاذان ،  ج۱ ،  ص۲۱۰ ،  حدیث: ۴۹۹۔

[3]   صحیح ابن خزیمۃ ،  کتاب الصلوۃ ،  باب فی بدء الاذان والاقامۃ ،  ج۱ ،  ص۱۸۸ ،  حدیث: ۳۶۲۔



Total Pages: 349

Go To