Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیرتِ فاروقِ اعظم کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپ کی رائے (یعنی آپ کے قول)کی موافقات کے ساتھ ساتھ بسا اوقات آپ کے فعل کو بھی موافقت حاصل ہوجاتی تھی کہ آپ سے کوئی فعل صادر ہوا اور اس کی کتاب اللہ سے یا دیگر ذرائع سے موافقت ہوگئی۔لہٰذا اس باب میں   آپ کی قولی ،  فعلی وغیرہ تمام موافقات کو ذکر کیا گیا ہے۔ نیزاس باب  ’’ موافقاتِ فاروقِ اعظم ‘‘   کوچار حصوں   میں   تقسیم کیا گیا ہے:

(1) کتاب اللہ کی موافقت (2) رسول اللہ کی موافقت (3) صحابہ کرام کی موافقت (4) دیگر موافقات

کتاب اللہ سے موافقت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قرآن پاک کی کم وبیش بیس آیات مبارکہ ایسی ہیں   جو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قول یا فعل کی موافقت میں   نازل ہوئیں۔

(1)پہلی آیت مبارکہ ،  مقام ابراہیم کو مصلےٰ بناؤ:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایاکہ تین باتوں   میں   رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے میری موافقت ہوئی (ان میں   سے ایک یہ بھی ہے کہ) میں   نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:   ’’ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ اِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر ہم مقامِ ابراہیم کو مُصَلّٰی(یعنی نماز پڑھنے کی جگہ) بنائیں   (تو کیسا رہے گا؟) ‘‘  تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہی آیتِ مبارکہ میری تائید میں   نازل فرماکر مقامِ ابراہیم کو مُصَلّٰی بنانے کا حکم ارشاد فرمادیا:  (وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ-) (پ۱ ،  البقرۃ: ۱۲۵)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔ ‘‘  ([1])

 ’’ مقام ابراہیم  ‘‘  سے متعلق۶مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی تمام موافقات میں   مقام ابراہیم کو مُصَلّٰییعنی جائے نماز بنانے والی موافقت بہت ہی معروف ہے ،  لیکن کئی لوگوں   کو یہ معلوم ہی نہیں   ہوتا کہ یہ مقام ابراہیم ہے کیا؟ لہٰذا قارئین کے فائدے کے لیے مقامِ ابراہیم سے متعلق ۶مدنی پھول پیش خدمت ہیں  :

(1)…مقام ابراہیم وہ مبارک پتھر ہے جس پر چڑھ کر حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کعبۃ اللہ شریف کی دیواریں   بلند فرمائی تھیں   ،  آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے جیسے ہی اس پر اپنے قدم رکھے تو خاص وہ حصہ رب عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کاملہ سے مٹی کی طرح نرم ہوگیا اور اور قدمین مبارکہ کا نقش اس میں   ثبت ہوگیا جبکہ بقیہ حصہ ویسا ہی رہا۔یہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا بہت ہی عظیم معجزہ تھا۔قرآن پاک میں   دو جگہ پارہ ۴ ، سورہ آل عمران آیت نمبر۹۷ اور پارہ ۱ ،  سورہ بقرہ آیت نمبر۱۲۵میں   مقام ابراہیم کا ذکر ہے۔([2])

(2)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمرورَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا:  ’’ رکن (حجراسود)اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں   میں   سے دو یاقوت ہیں   ، اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان دونوں   کا نور نہ مٹا دیتا تو یہ مشرق ومغرب کی ہر چیز کو روشن کردیتے ۔ ‘‘   ([3])

(3)…صدرالشریعہ بدر الطریقہ حضرت مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ طواف کے بعد مقامِ ابراہیم میں   آکر آیۂ کریمہ:  ( وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ-)پڑھ کر دو رکعت طواف پڑھے اور یہ نماز واجب ہے  ، (البتہ یہ نماز مقامِ ابراہیم پر پڑھنا سنت مبارکہ ہے)پہلی(رکعت) میں   قُلْ یادوسری میں   قُلْ ھُوَ اللہ پڑھے بشرطیکہ وقت کراہت مثلاً طلوع صبح سے بلندی آفتاب تک یا دوپہر یا نمازِ عصر کے بعد غروب تک نہ ہو ،  ورنہ وقت کراہت نکل جانے پر پڑھے۔ حدیث میں   ہے:  ’’ جو مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں   پڑھے ،  اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں   گے اور قیامت کے دن امن والوں   میں   محشور ہوگا(یعنی اٹھایا جائے گا)۔ ‘‘   ([4])

(4)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دور میں   یہ پتھر کعبۃ اللہ شریف کے سامنے رکھا ہوا تھا اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام اسی پتھر کی طرف رخ کرکے نماز ادا فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مقام ابراہیم میں   پڑے ہوئے نشان (پتھر)کے بارے میں   سوال کیاتو انہوں   نے فرمایا:  ’’ جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو اِعلان حج کا حکم دیا گیا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسی پتھر پرکھڑے ہوکر اِعلانِ حج فرمایا۔ اعلان سے فارغ ہوئے تو حکم دیا کہ اس پتھر کو لے جا کر کعبۃ اللہ شریف کےدروازہ کے سامنے رکھ دیا جائے۔چنانچہ اسے وہیں   رکھ دیا گیا اورآپ عَلَیْہِ السَّلَام اسی پتھر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ ‘‘   ([5])

(5)…مقام ابراہیم خانہ کعبہ سے تقریباً سوا 31 میٹر مشرق کی جانب قائم ہے۔اس پتھر میں   ایک قدم مبارک کے نشان کی گہرائی دس سینٹی میٹر اور دوسرے کی نو سینٹی میٹر ہے ،  البتہ ان پر اب حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مبارک انگلیوں   کے نشانات نہیں   ہیں   ،  اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتداء ً یہ پتھر کسی فریم یا بکس وغیرہ میں   محفوظ نہیں   تھا اور عشاق اس سے برکات لینے کےلیے اس کو چھوتے اور بوسے لیتے تھے اسی سبب سے انگلیوں   کے نشانات باقی نہ رہے۔اس مبارک پتھر میں   ہر قدم کی لمبائی بائیس سینٹی میٹر اور چوڑائی گیارہ سینٹی میٹر ہے۔ اس کے متعلق حیرت انگیز بات یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں   مشرکین عرب پتھروں   کی پوجا کیا کرتے تھےلیکن اس مبارک پتھر کو شرف حاصل ہے کہ یہ ہر قسم کی پوجا اور پرستش سے ہر



[1]   بخاری ،  کتاب الصلوۃ ،  باب ما جاء فی القبلۃ۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۱۵۸ ،  حدیث: ۴۰۲ ملتقطا۔

                                                 در منثور ،  پ۱ ،  البقرۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۵ ،  ج۱ ،  ص۲۹۰۔

[2]   تفسیر کبیر ،  پ۳ ،  آل عمران ،  تحت الآیۃ: ۹۶ ،  ج۳ ،  ص۲۹۷۔

[3]   ترمذی  ،  کتاب الحج  ،  باب ماجاء فی فضل الحجر والا سود والرکن ،  ج۲ ،  ص۲۴۸ ،  حدیث: ۸۷۹۔

[4]   بہارشریعت ،  ج۱ ،  حصہ ۶ ،  ص۱۱۰۲۔

[5]   در منثور ، پ۱ ،   البقرۃ ،   تحت الآیۃ ۱۲۵  ، ج۱  ،  ص۲۹۲ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To