Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

یہ آیت مبارکہ بھی حضرت سیِّدُن / ا ابوبکر صدیق و سیِّدُناعمر فاروق وسیِّدُنا عثمان غنی وسیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے بارے میں   نازل ہوئی:  (وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴)) (پ۱۷ ، الحج: ۳۴)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور ہر امت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں   اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں   پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنا دو ان تواضع والوں   کو ۔ ‘‘  ([1])

آیت نمبر(18)…اللہ کی طرف سے کفار کی تکذیب:

(وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْؕ-وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۱۲)) (پ۲۰ ،  العنکبوت: ۱۲) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’  اور کافر مسلمانوں   سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں   گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں   میں   سے کچھ نہ اٹھائیں   گے بیشک وہ جھوٹے ہیں   ۔ ‘‘  اس آیت مبارکہ میں    ’’ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا ‘‘   یعنی مؤمنین سے مراد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورحضرت سیِّدُنا خباب بن ارت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔ کُفّارِ مکّہ نے مومنین سے کہا تھا کہ تم ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا دین اختیار کرو تمہیں   اللہ کی طرف سے جو مصیبت پہنچے گی اس کے ہم کفیل ہیں   اور تمہارے گناہ ہماری گردن پر۔ یعنی اگر ہمارے طریقہ پر رہنے سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تم کو پکڑا اور عذاب کیا تو تمہارا عذاب ہم اپنے اوپر لے لیں   گے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی تکذیب فرمائی ۔([2])

آیت نمبر(19)…رحمت الہی کے سزاوار:

(وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ-اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵۴)) (پ۷ ، الانعام: ۵۴) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں   جو ہماری آیتوں   پر ایمان لاتے ہیں   تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمّہ کرم پر رحمت لازم کر لی ہے کہ تم میں   جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا عطاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   کہ یہ آیت مبارکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ،  حضرت سیِّدُنا بلال ،  حضرت سیِّدُنا سالم بن ابی عبیدہ ،  حضرت سیِّدُنا مصعب بن عمیر ،  حضرت سیِّدُنا حمزہ ،  حضرت سیِّدُنا جعفر ،  حضرت سیِّدُنا عثمان بن مظعون ،  حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر  ،  حضرت سیِّدُنا ارقم بن ابی ارقم ،  حضرت سیِّدُنا ابوسلمہ بن عبد الاسد رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے بارے میں   نازل ہوئی۔           ([3])

آیت نمبر(20)…آپس میں   بھائی بھائی:

(وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷)) (پ۱۴ ، الحجر:  ۴۷)ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اور ہم نے ان کے سینوں   میں   جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں   بھائی ہیں   تختوں   پر روبرو بیٹھے۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ’’  یہ آیت مبارکہ بنوہاشم ،  بنوتمیم ،  بنو عدی  ،  حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق  ، حضرت سیِّدُنا عمر فاروق کے بارے میں   نازل ہوئی۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا امام ابوجعفرباقر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے پوچھا گیا کہ حضرت سیِّدُنا علی بن حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے جویہ بات منقول ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق  ، حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اور حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے بارے میں   نازل ہوئی درست ہے؟انہوں   نے فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی قسم! یہ آیت انہیں   کی بارے میں   نازل ہوئی ہے اگران کے بارے میں   نازل نہیں   ہوئی توپھرکس کے بارے میں   نازل ہوئی ہے؟ ‘‘  پوچھا گیا کہ اس میں   توان کے کینے کا ذکر ہے حالانکہ ان کے دلوں   میں   توایک دوسرے کے لیے کوئی کینہ نہیں   ہے؟فرمایا:  ’’ اس کینے سے مراد زمانہ جاہلیت والا کینہ ہے جوان کے قبائل بنو عدی  ،  بنو تمیم ،  بنوہاشم میں   پایاجاتاتھاجب یہ تمام لوگ اسلام لےآئے  ، تو کینہ ختم ہوگیا اورآپس میں   شیروشکر ہوگئے ، نیزان کے مابین اس قدر الفت ومحبت پیداہوگئی کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پہلو میں   درد ہوا توحضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اپنے ہاتھ کوگرم کرکے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پہلو کو سکائی کرنے لگے۔ رب تعالٰیکو یہ ادااتنی پسندآئی کہ اس پریہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ ‘‘  ([4])

عشق ومحبت کے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہاں   اِس آیت مبارکہ سے شیخین کریمین یعنی امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شانِ مبارکہ ظاہر ہوتی ہے وہیں   یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ خلفائے راشدین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے درمیان بے پناہ الفت ومحبت تھی۔ بلکہ ایسی محبت تھی کہ خود قرآن عظیم جیسی مقدس کتاب میں   اس کو بیان فرمایا گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آج بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے عشاق اُن کی باہمی الفت ومحبت کو نہایت ہی عقیدت ومحبت سے



[1]   المحرر الوجیز ،  پ۱۷ ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ج۴ ،  ص۱۲۲۔

[2]   تفسیر مقاتل ،  پ۲۰ ،  العنکبوت ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ، ج۲ ،  ص۵۱۳۔

[3]   خازن ،  پ۷ ،  الانعام ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ج۲ ،  ص۲۰۔

[4]   درمنثور ، پ۱۴ ،  الحجر ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،   ج۵ ،  ص۸۴۔۸۵۔



Total Pages: 349

Go To