Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(6)فاروقِ اعظم کی زمین پر حکمرانی:

حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی امام الحرمین کی کتاب  ’’ الشامل ‘‘   کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں   کہ ایک بار امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں   مدینے شریف میں   شدید زلزلہ آیا اور زمین ہلنے لگی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کچھ دیر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد و ثناء کرتے رہے مگر زلزلہ ختم نہ ہوا۔ فوراًجلال میں   آگئے اور اپنا دُرّہ زمین پر مار کر فرمایا:   ’’  قَرِّیْ اَلَمْ اَعْدِلْ عَلَیْکَ فَاسْتَقَرَّتْ مِنْ وَقْتِھَایعنی اے زمین !ساکن ہو جا کیا میں   نے تیرے اُوپرانصاف نہیں   کیا ہے؟یہ فرماتے ہی فوراً زلزلہ ختم ہوگیا اور زمین ٹھہر گئی۔ ‘‘   ([1])

(7)زمین نے تیل واپس کردیا:

عہدِ فاروقی میں   ایک خاتون کا تیل زمین پر گر گیا۔ تیل زمین پر گر کرزمین میں   جذب ہوگیا۔ وہ عورت فرط غم سے کھڑی رو رہی تھی کہ وہاں   سے امیر المؤمنین حضر ت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گزرے ۔ آپ نے اس خاتون سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے سارا معاملہ عرض کردیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کوڑا لے کر زمین کو مارنے لگے اور فرمانے لگے:   ’’ اے زمین! کیا تونے میرے دورِ خلافت میں   اس خاتون کا تیل غصب کیا ؟ تیل واپس کر۔ ‘‘  یہ فرمانا تھا کہ زمین نے تیل اگل دیا اور اس خاتون نے اسے اپنے برتن میں   ڈال لیا۔([2])

(8)حکم فاروقی سے آگ فورا ٹھنڈی ہوگئی:

امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ ایک بار مدینہ منورہ کے گھروں   میں   آگ لگ گئی جو بجھنے کا نام نہ لیتی تھی ،  لوگ بہت زیادہ پریشان ہوگئے اور بارگاہِ فاروقی میں   حاضر ہو کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک رقعہ پر لکھا ’’ يَا نَارُ! اُسْكُنِيْ بِاِذْنِ اللہ یعنی اے آگ!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے رُک جا۔ ‘‘  اور وہ رقعہ لوگوں   کو دیا کہ اسے آگ میں   ڈال دو۔ لوگ وہ رقعہ لے کر گئے اور جیسے ہی آگ میں   ڈالا تو آگ فورا ٹھنڈی ہوگئی۔([3])

(9)فاروقِ اعظم کی چادردیکھ کر آگ بجھ گئی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   ایک مرتبہ اچانک ایک پہاڑ کے غار سے بہت ہی خطرناک آگ نمودار ہوئی جس نے آس پاس کی تمام چیزوں   کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا۔جب لوگوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   فریاد کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنی چادر مبارک عطافرمائی اور ارشادفرمایا کہ تم میری یہ چادر لے کر آگ کے پاس چلے جاؤ ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاُس مقدس چادر کو لے کرر وانہ ہوگئے اورجیسے ہی آگ کے قریب پہنچے یکایک وہ آگ بجھنے اورپیچھے ہٹنے لگی یہاں   تک کہ وہ غار کے اندر چلی گئی اورجب یہ چادر لے کرغار کے اندر داخل ہوگئے تو وہ آگ بالکل ہی بجھ گئی اور پھر کبھی بھی ظاہر نہیں   ہوئی۔ ([4])

(10)بادلوں   نے فاروقِ اعظم کی اطاعت کی :

حضرت سیِّدُنا خوات بن جبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور میں   شدید قحط پڑا۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگو ں   کو دو رکعت  ’’ نما زِ استسقاء  ‘‘  (یعنی بارش کے لیے پڑھی جانے والی نماز) پڑھائی۔اس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے چادر کا دایاں   حصہ بائیں   کندھے پر اور بایاں   حصہ دائیں   کندھے پرڈالا۔پھر  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   دست ِ سوال دراز کرتے ہوئے یوں   التجاء کی:  ’’ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ!ہم تجھ سے ہی مغفرت کے طالب ہیں   اورتیری وحدہ لاشریک ذات سے بارش کا سوا ل کرتےہیں  ۔ ‘‘  ابھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی جگہ سے ہٹے بھی نہ تھےکہ بارش برسنے لگی ۔کچھ دنو ں   بعد چند اعرابی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اور عرض کی:  ’’ اے امیر المومنین !ہم اپنے علاقے میں   بیٹھے تھے کہ اچانک کہیں   سے بادل آگئےجن سے یہ آواز آرہی تھی:  ’’ اے ابو حفص !مدد آگئی ، اے ابو حفص! مدد آگئی۔ ‘‘  ([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا پانچوں  واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حکمرانی نہ صرف زمین والوں   پر تھی بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حکمرانی خود زمین پر بھی چلتی تھی ،  سورج بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے جلال کو پہچانتا تھا ،  آگ آپ کا حکم مانتی تھی ،  بادل آپ کے حکم کے تابع تھے اور کیوں   نہ ہوتے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی غلامی جو اختیار کرلی تھی ۔ یقیناً جس نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اتباع کو اپنا زیور بنا لیا اس کی کل کائنات پر حکمرانی قائم ہوگئی۔

اُن کے جو غلام ہو گئے

وقت کے اِمام ہو گئے

نام لیوا اُن کے جو ہوئے

اُن کے اُونچے نام ہو گئے

 



[1]   جامع کرامات الاولیاء ، ھذہ کرامات اربعۃ و خمسین۔۔۔الخ ، ج۱ ، ص۱۵۷۔

[2]   مرآۃ المناجیح ،  ج۸ ،  ص۳۸۱۔

[3]   تفسیر کبیر ،  پ۱۵ ،  الکھف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ج۷ ،  ص۴۳۳۔

[4]   ازالۃ الخفاء  ،  ج۴ ، ص۱۰۹۔

[5]   موسوعۃ لابن ابی الدنیا ،  الھواتف ،  ج۲ ،  ص۴۴۱ ، الرقم: ۱۶۔



Total Pages: 349

Go To