Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

۔  ‘‘  اس نو جوان نے قبر سے جواب دیا:  ’’  يَا عُمَرُ! قَدْ اَعطَانِيْهِمَا رَبِّيْ عَزَّوَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ مَرَّتَيْن یعنی اے امیر المؤمنین !میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے (مجھ پر اپنا فضل و کرم فرماتے ہوئے )یہ دو جنتیں   عطافرمادی ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

(2)فاروقِ اعظم کی اہل بقیع سے گفتگو:

امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک مر تبہ اہل بقیع سے مخاطب ہو کر یوں   ارشاد فرمایا:   ’’  السَّلامُ علیکُم یا اَھْلَ الْقُبُور!یعنی اے قبروالو! تم پر سلامتی ہو ،  ہمارے پاس تمہارے لئے نئی خبریں   یہ ہیں   کہ تمہاری عورتوں   نے شادیاں   رچا کر گھر بسا لئے  ، تمہاری رہائش گاہیں   دوسرے لوگوں   سے آباد ہوگئیں   ، تمہارے مال و دولت کے انبار تقسیم ہوگئے ۔ ‘‘  تو ان قبروں   کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک آواز آئی:  ’’ اے عمر بن خطاب !ہماری طرف سے آپ کے لئے نئی خبریں   یہ ہیں   کہ ہماری نیکیوں   کا اجر ہمیں   مل چکا ،  راہ خدا میں   خرچ کی جانےوالی رقم سے ہمیں   فائدہ ہوا ، دنیا میں   چھوڑی ہوئی رقم سے ہمیں   سراسر نقصان ہوا۔ ‘‘  ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ دو بہت بڑی کرامتیں   ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک صاحب قبر اور جنت البقیع میں   مدفون لوگوں  سے دو طرفہ گفتگو کی ۔نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قبروں   پر جانا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت مبارکہ ہے اور کیوں   نہ ہو کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو اس کا حکم خود دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دیا۔ چنانچہ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو مخاظب کر کے ارشاد فرمایا:  ’’  إنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا تُذَكِّرْكُمَ الآخِرَةَیعنی پہلے میں   نے تمہیں   زیارۃ ِ قبور سے منع کیا تھالیکن اب تم قبروں   کی زیارت کیاکرو کیوں   کہ یہ عمل تمہیں   آخرت کی یا د دلائے گا۔ ‘‘  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اُس نیک نوجوان کی حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص نیکیوں   بھری زندگی گزارے گا اور خوف خدا سے لرزاں   وترساں   رہے گا ،  بارگاہِ الٰہی میں   کھڑا ہونے سے ڈرے گا ،  وہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کاملہ سے دو جنتوں   کا حقدار قرار پائے گا۔ جوانی میں   عبادت کرنے اور خوف رکھنے والوں   کو مبارک ہو کہ بروز قیامت جب سورج سوا میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا  ،  سایۂ عرش کے علاوہ اس جاں   گزا یعنی جان کو تکلیف میں   ڈالنے والی گرمی سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہوگا تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے خوش قسمت مسلمان کو اپنے عرشِ پناہ گاہ اہل عرش کا سایہ رحمت عطا فرمائے گا ۔چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۸ صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ ‘‘   صفحہ ۲۰ پر ہے:   ’’ حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابو الدرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف خط لکھا کہ اِن صفات کے حامل لوگ عرش کے سائے میں   ہوں   گے: (اُن میں   سے دو یہ ہیں  ) (۱):  وہ شخص جس کی نشو ونما اس حال میں   ہوئی کہ اس کی صحبت ،  جوانی اور قوت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پسند اور رضا والے کاموں   میں   صرف ہوئی اور (۲) وہ شخص جس نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کیا اور اس کے خوف سے اس کی آنکھوں   سے آنسو بہہ نکلے۔([4])

مرے اشک بہتے رہیں   کاش ہر دم

ترے خوف سے یاخدا یاالٰہی

تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ

میں   تھر تھر رہوں   کانپتا یاالٰہی

مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو

کر اخلاص ایسا عطا یاالٰہی

بنادے مجھے نیک نیکوں   کا صدقہ

گناہوں   سے ہردم بچا یاالٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(3)…فاروقِ اعظم اورسینکڑوں   میل دُور اسلامی لشکر کی دستگیری:

            ایران کے شہر ہمدان کے جنوبی حصے میں   پہاڑوں   کے پاس واقع ایک بستی جس کا نام  ’’ نہاوند ‘‘  ہے ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر  ’’ نہاوند ‘‘   کی سرزمین پر جہاد کرنے کے لیے روانہ فرمایا۔ جنگ کی صورت حال کچھ اس طرح تھی کہ اسلامی لشکر کھلے میدان میں   لڑ رہا تھا اوردشمن نے اسلامی لشکر کو چار جانب سے گھیر کر پسپا کرنے کی کوشش میں   لگا ہوا تھا ، جب جنگ فیصلہ کن مرحلےمیں   داخل ہوئی تو اسلامی لشکر ’’ سخت آزمائش  ‘‘   کا شکار تھا۔ عین اس موقعے پر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمسجد نبو ی میں   منبر رسول پر جلو ہ افروز ہوکر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔جب اسلامی لشکر پر کفار کے غالب ہونے کے آثار دیکھے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہیں   منبر سے اسلامی لشکرکی دستگیری فرماتے ہوئے لشکر کے سپہ سالار  ’’ حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ‘‘  کو ان الفاظ



[1]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۵ ،  ص۴۵۰۔

[2]   شرح الصدور ،  باب زیارۃ القبور ،  ص۲۰۹۔

[3]   مصنف ابی شیبہ ، کتاب الجنائز ،  من رخص فی زیارۃ القبور ، ج۳ ،  ص۲۲۳ ،  حدیث: ۳۔

[4]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام سلمان ،  ج۸ ،  ص۱۷۹ ،  حدیث: ۱۲ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To