Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حق کی اتباع کرتا تھا۔ ایسے شخص کیلئے میزان عدل کا حق ہے کہ وزنی ثابت ہو  ، جو حق سے عدول کرتا رہا اس کی نیکیاں   ہلکی ہوں  گی اور ایسے شخص کے لیے میزان کا حق ہے کہ ہلکا ثابت ہو۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اہل جنت کا ذکر کیا تو نہایت اعلیٰ صفات کے ساتھ کیا اور ان کے گناہ معاف کردیئے۔ جب میں   انہیں   یاد کرتا ہوں  تو(خوفِ خدا کے سبب) جنتی نہ ہونے سے ڈرتاہوں  اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنمیوں   کا ذکر کیا تو نہایت برے اعمال کے ساتھ کیااور ان کے بہتر کاموں   کا بدلہ انہیں   دنیا میں   ہی دے دیا۔ جب میں   انہیں   یاد کرتا ہوں   تو(رحمت الہی کے سبب)جہنمی نہ ہونے کی امید کرتاہوں  ۔ اس لیے بندے کو خوف اور امید کے درمیان رہنا چاہیےاس طرح کہ نہ تو فقط رحمت پر تو کل کربیٹھے (کہ بالکل نیکیاں   کرناہی چھوڑدے)اور نہ ہی رحمت سے مایوس ہو(کہ لوازمات دنیاسے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلے)۔ اے عمر ! اگر تم نے میری وصیت یاد رکھی تو موت سے زیادہ کوئی چیز تمہیں   محبوب نہ ہوگی۔ مگر اسے کوئی اپنے اختیار میں   نہیں   لاسکتا۔ ‘‘   ([1])

امید وخوف کے درمیان رہو:

حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا:   ’’  اگر آ پ نے میری وصیت یاد نہ رکھی تو کوئی چیز آپ کو موت سے زیادہ بُری نظر نہ آئے گی۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نرمی کے ساتھ سختی بھی رکھ دی ہے تاکہ مومن امید اور خوف کے مابین رہے۔ میں   جب اہل جنت کا ذکر کرتا ہوں   تو خوف خداوندی کے سبب یہ خیال آتا ہے کہ میں   ان میں   سے نہیں   ہوں   اور اہل جہنم کا تذکرہ کرکے رحمت الٰہی کے سبب یہی تصور کرتا ہوں   کہ میں   ان میں   سے بھی نہیں   ہوں  ۔ اس لیے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اہل جنت کا نہایت بہتر صفات کے ساتھ اور اہل جہنم کا بے حد بُرے اعمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے۔ جنتیوں   کے کچھ گناہ بھی تھے جو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مٹا دیئے اور جہنمیوں   کے پاس نیکیاں   بھی تھیں   جو ضائع ہوگئیں  ۔ ‘‘  ([2])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے حق میں   صدیق اکبر کی دعا:

حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وصیتیں   فرمانےکے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عالم تنہائی میں   پروردگارِ عالم کے حضور ہاتھ اٹھا کریوں   دعا کی:  ’’ اے میرے پروردگار! میں   لوگوں   کی خیروبھلائی کا خواہش مند ہوں  ۔ ،  مجھے ان پر فتنہ وآزمائش کے سایہ فگن ہونے کا خوف ہوا تو میں   نے وہی کیا جسے تو اَوروں   کی بنسبت بخوبی جاننے والا ہے۔میں   نے بھرپور غوروفکر کے بعد ان میں   سے بہتر ،  قوی اور نیکی پر حریص شخصیت کو نگران بنایا ہے۔ تیرا امر یقینی میرے پاس آچکا۔ لہٰذا تو ان کے درمیان میرا جانشین مقرر فرمادے۔ یہ تیرے ہی تو بندے ہیں  ۔ ان کی پیشانیاں   تیرے دست قدرت میں   ہیں  ۔ اے اللہ رب العزت! ان کے حکمرانوں   کی اِصلاح فرما۔ اے رب العالمین! اس کے لیے عوام کو درست فرما۔ ‘‘   آمین([3])

فراستِ صدیق اکبر:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ :  ’’ اَفْرَسُ النَّاسِ ثَلاَثَةٌ یعنی تین شخصیات پختہ رائے اور فراست کی مالک ہیں  ۔ اِن میں   سے ایک حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہیں   کہ آپ نے حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی فراست کے ذریعے خلیفہ مقرر فرمایا۔ ‘‘  ([4])

 

فاروقِ اعظم منصب خلافت پر فائز ہوگئے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے وزیر ومشیر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفہ مقرر کرنے اور ضروری وصایا کے بعد بالآخر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۲۲جمادی الاخریٰ۱۳ سن ہجری بمطابق ۲۲اگست ۶۳۴عیسوی پیر کے دن اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منگل کے روز منصب خلافت پر فائز ہوگئے۔([5])

خلافت فاروق اعظم کا سنہرہ دور:

                امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کم وبیش 10 سال اور کچھ ماہ منصب خلافت پر فائز رہے۔دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 856صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘   جلددوم میں   آپ کی خلافت کے سنہرے دور کو بالتفصیل14ابواب میں   بیان کیا گیا ہے جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:  

(1) خلافت فاروق اعظم                                                               (2)بعدخلافت ابتدائی معاملات

(3)فاروق اعظم بحیثیت خلیفہ                                                         (4)فاروق اعظم اور حقوق العباد

(5)عہدفاروقی کا شورائی نظام                                                          (6)نظام عہدفاروقی کی وسعت

(7)عہدفاروقی کا نظام عدلیہ                                                                        (8)نظام عدلیہ میں   مساوات کا قیام

(9)عہدفاروقی کا نظام احتساب                                                        (10)عہدفاروقی میں   محکمۂ پولیس وفوج

(11)عہدفاروقی میں   علمی سرگرمیاں                                                  (12)عہدفاروقی کی فتوحات

 



[1]   معر فۃ الصحابۃ   ، معرفۃ نسبۃ الصدیق۔۔۔الخ   ، ج۱ ،  ص۵۹ ،  الرقم: ۱۱۴۔

[2]   تاریخ ابن عساکر  ،  ، ج۳۰ ، ص ۴۱۴۔

[3]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۳۰ ،  ص۴۱۱۔

[4]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب المغازی ،  ما جاء فی خلافۃ عمر ،  ج۸ ،  ص۵۷۵ ،  حدیث: ۳۔

[5]   مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب الثامن والعشرون ،  ص۶۰ماخوذا۔



Total Pages: 349

Go To