Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت ہی کم ہنسنے والے تھے۔ ‘‘  ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

زمانۂ جاہلیت کی زندگی

فاروقِ اعظم کا بچپن

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بچپن نہایت ہی تکلیفوں   میں   گزرا آپ کا والد طبیعت کے اعتبار سے بہت سخت اور اپنے کفریہ مذہب کے معاملے میں   بہت شدت رکھتا تھا۔اور خصوصاً تعلیم وتربیت سے تو اسے بہت شدید نفرت تھی اور یہ صرف اسی کی خاصیت نہیں   تھی بلکہ پورے عرب میں   ہی پڑھنے پڑھانے کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا ،  اور اپنی اسی جاہلیت کی وجہ سے پورا عرب کفر کی عمیق تاریکیوں   کے ساتھ ساتھ اخلاق رذیلہ کی پستیوں   میں   گر رہا تھا۔

فاروقِ اعظم بچپن میں   اونٹ چرایا کرتے تھے:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گزر بسر کے لیے اپنے والد کے اونٹ چرا یا کرتے تھے۔اور جب کچھ بڑے ہوئے تو والد کے اونٹوں   کے ساتھ ساتھ قبیلہ بنی مخزوم کے اونٹ بھی چرایا کرتے۔واضح رہے کہ عرب میں   اونٹوں   یا بکریوں   کو چرانا کوئی معیوب عمل نہیں   تھابلکہ یہ ان کا قومی شعار تھا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جس میدان میں   اونٹ چرایا کرتے تھے اس کا نام  ’’ ضَجْنَان ‘‘   تھا جو مکہ مکرمہ سے تقریباً پندرہ میل دُور ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی حیات طیبہ کا آخری حج ادا کرکے اسی مقام سے گزرے تو آپ کو اپنا بچپن یاد آگیااور ارشاد فرمایا:   ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یُعْطِیْ مَنْ یَّشَاءُ مَا یَشَاءُ  لَقَدْ كُنْتُ بِھٰذَا الْوَادِیْ یَعْنِیْ ضَجْنَانَ اَرْعَى اِبِلاً لِلْخَطَّابِ وَكَانَ فَظًّا غَلَیْظًایُتْعِبُنِیْ اِذَا عَمِلْتُ وَیَضْرِبُنِیْ اِذَا قَصَرْتُ وَقَدْ اَصْبَحْتُ وَاَمْسَیْتُ  وَلَيْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اللہِ اَحَدٌ اَخْشَاہُ یعنی تمام تعریفیں   اس رب عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہیں   جس کے سوا کوئی معبود نہیں   ،  وہ جسے چاہتا ہے جو چاہتاہے عطا فرماتا ہے ،  ایک وہ زمانہ تھا کہ میں   اسی وادی ضجنان میں   اپنے والد خطاب کے اونٹ چرایا کرتا تھا اور وہ بہت سخت طبیعت کا مالک تھا ،  مجھ سے کام کرواکر تھکا دیتا ،  جب میں   کوئی کوتاہی کرتا تو مجھے مارتا  ،  میرے صبح وشام یوں   ہی گزرتے اور آج   (اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے) وہ دن ہے کہ میرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ما بین کوئی ایسا شخص نہیں   جس کا مجھے خوف ہو۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی جوانی

دَورِ جاہلیت میں   فاروقِ اعظم کی صفات:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شباب (جوانی) کا جب آغاز ہوا تو اُن اُمور کی طرف توجہ کی جو شرفائے عرب کا معمول تھے ،  عرب میں   اُس وقت جن چیزوں   کی تعلیم وتربیت دی جاتی تھی اور جو اُمور شرافت کے لیے لازم خیال کیے جاتے تھے اُن میں   نسب دانی ،  سپہ گری ،  پہلوانی اور خطابت جیسی صفات سرفہرست تھیں  ۔دورِ جاہلیت میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی ذات میں   یہ تمام صفات پیدا کرلیں   تھیں   جن کا اُس وقت شرفا ئے قریش ورؤسائے قریش میں   پایاجانا ضروری تھا ،  بعض صفات تو آپ کو ورثے میں   ملی تھیں   ،  جبکہ بعض آپ نے خود ہی کوشش کرکے اپنے اندر پیدا کرلیں   تھیں  ۔زمانۂ جاہلیت میں   آپ کی ذات میں   پائی جانے والی چند صفات کا تذکرہ پیش خدمت ہے:

(1)…فاروقِ اعظم اور لکھنے پڑھنے کی صفت :

جوانی میں   قدم رکھتے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب سے پہلے اس بات کی طرف توجہ کی کہ لکھنا پڑھنا سیکھنا چاہیے لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زمانہ جاہلیت میں   ہی لکھنا پڑھنا جانتے تھے اس بات کا اندازہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایمان لانے والے واقعے سے بھی لگایا جاسکتاہے جب آپ کی سگی بہن حضرت سیدتنا اُمّ جمیل فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قرآنی صحیفہ دیا جس میں   سورہ طہ کی آیات وغیرہ لکھی تھیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بغیر کسی کی مدد کے اسے رَوَانی سے پڑھنا شروع کردیا اور قرآنی  آیات کی مٹھاس آپ کے رگ وپے میں   فوراً سرایت کرگئی ،  جو آپ کے قبول اسلام کا باعث بنی۔ ([3])

کفار قریش میں   امتیازی خصوصیت:

مؤرخین وسیرت نگاروں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لکھنے پڑھنے کو ایک امتیازی خصوصیت کے طور پر بیان کیا ہے اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں   ایک تو یہ کہ جس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لکھنا پڑھنا سیکھا اس وقت لکھنے پڑھنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا یہ کہ قریش میں   جب اسلام داخل ہوا اس وقت قرشی قبائل میں   صرف سترہ آدمی لکھنا جانتے تھےان ہی میں   سے ایک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے۔([4])

(2)…فاروقِ اعظم اورعبرانی زبان کا علم:

حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّد عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں   تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی:   ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ تورات کانسخہ ہے۔ ‘‘   سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا توآپ نے اُسے پڑھنا شروع کیا۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ مبارکہ کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوگیا ،  آپ کو اس کیفیت کا معلوم نہ تھا ،  جب سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے توجہ مبذول کروائی تو آپ ڈر گئے اور بارگاہِ رسالت میں   عرض کرنے لگے:   ’’ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے ربّ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں   ،  



[1]     مناقب امیر المؤمنین لابن الجوزی ،  الباب الثالث ،  ص۱۴۔

[2]     الاستیعاب  ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،   ص۲۴۳   ،  معجم البلدان ،  باب الضاد والجیم ،  ج۳ ،  ص۲۲۵۔

[3]     تاریخ الخلفاء ،  ص۸۸۔

[4]     فتوح البلدان ،  ج۳ ،  ۵۸۰ ،  الرقم: ۱۱۰۴۔



Total Pages: 349

Go To