Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کی با کمال فراست:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی فراست سے جان لیا تھا کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جس چیز کو لکھوانے کا اِرشاد فرمارہے ہیں   وہ کوئی حکم شرعی نہیں   ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اِس کو ضرور لکھواتے کہ خود رب عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-)  (پ۶ ،  المائدۃ: ۶۷)  ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے رسول پہنچا دو جو کچھ اُترا تمہیں   تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اِس کا کوئی پیام نہ پہنچایا ۔ ‘‘  یہی وجہ تھی کہ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کفار مکہ کی طرف سے دی جانے والی اتنی اذیتوں   اور تکالیف کے باوجود نیکی کی دعوت کو کبھی ترک نہ فرمایا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی باکمال فراست تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ جان لیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی اہم شرعی حکم نہیں   لکھوانا چاہتے۔ اِس بات کی یوں   بھی تائید ہوتی ہے کہ اگر کوئی ضروری اَمرِ دینی لکھوانا ہوتا تو نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اِس واقعے کے تقریباً تین ۳دن بعد تک دنیا سے تشریف لے گئے تو اِن تین دنوں   میں   وہ امر لکھوا دیتے ،  مگر آپ نے نہ لکھوایا جو اِس بات پر واضح دلیل ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کسی اہم ترین حکم شرعی کو نہیں   لکھوانا چاہتے تھے۔

فاروقِ اعظم کی مدنی سوچ:

بعض علماء کرام نے یہاں   یہ نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ہو سکتا ہے دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کوئی ضروری اَمر دینی بیان نہ فرمانا چاہتے ہوں   بلکہ جو شرعی اَحکام بیان ہو چکے ہیں   اُن کی تاکید کے طور پر کچھ لکھوانا چاہتے ہوں   ،  لیکن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے  ’’ حَسْبُنَا کِتَابُ اللہ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمارے لیے کتاب اللہ ہی کافی ہے۔ ‘‘   کہہ کر اپنی اِس مدنی سوچ کا اظہار کیا کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے بلا واسطہ خود ہمیں   تمام اَحکام شرعیہ بیان فرمادیے تو ہمیں   اب کسی تاکید کی حاجت نہیں   ، آپ تکلیف نہ فرمائیں  ۔لہٰذا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اِس کی ضرورت محسوس نہ فرمائی۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

رسول اللہ کی آخری نمازیں  :

۹ ربیع الاول جمعہ کی رات کو دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مرض الوفات نے شدت اختیار کرلی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اِس کے باعث تین ۳  بار غشی طاری ہوگئی۔اِسی وجہ سے نمازِ عشاء کے لیے تشریف نہ لاسکے اور ارشاد فرمایا:  ’’ مُرُوْا اَبَابَکْرٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ یعنی ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں   کو نماز پڑھائیں  ۔ ‘‘  سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کے مطابق حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جگہ کھڑے ہوکر نماز پڑھائی اور باقی تین دنوں   کی نماز پنجگانہ کی امامت بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہی کرائی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جو نماز بیٹھ کر ادا فرمائی وہ ہفتہ یا اتوار کی نماز ظہر تھی اور اس میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِمام تھے۔جبکہ وہ نماز جو ایک کپڑے میں   ادا فرمائی وہ پیر کی نمازِ فجر تھی اور اُس نماز کی اِمامت کے فرائض سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرانجام دیے۔ یہی وہ فجر کی آخری نماز ہے جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَدا فرمائی اِس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیا سے تشریف لےگئے۔ ‘‘  ([1])

صدیق اکبر کانصیحت آموز خطبہ:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  شدَّتِ غم سے نڈھال تھے اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں   آرہاتھا کہ اب کیا ہوگا۔ایسے میں   حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے بکھرے ہوئے جذبات کو یکجا کرنے اور شیرازۂ اسلام کومنتشر ہونے سے بچانے کے لیے ایک نصیحت آموزخطبہ دیتے ہوئےارشادفرمایا :  ’’ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللّٰهَ فَإِنَّ اللّٰهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ یعنی تم میں   سے جو شخص رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں   اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتا ہے تو وہ بھی سن لے کہ   اللہ عَزَّوَجَلَّزندہ ہے اسے کبھی موت نہیں   آئے گی۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:

( َ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ-قَدْ  خَلَتْ  مِنْ  قَبْلِهِ  الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ  مَّاتَ  اَوْ  قُتِلَ  انْقَلَبْتُمْ  عَلٰۤى  اَعْقَابِكُمْؕ- وَ  مَنْ  یَّنْقَلِبْ  عَلٰى  عَقِبَیْهِ  فَلَنْ  یَّضُرَّ  اللّٰهَ  شَیْــٴًـاؕ-وَ  سَیَجْزِی  اللّٰهُ  الشّٰكِرِیْن(۱۴۴)) (پ۴ ،  آل عمران: ۱۴۴) ترجمۂ کنزالایمان :  اور محمد تو ایک رسول ہیں   ان سے پہلے اور رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں   یا شہید ہوں   تو تم الٹے پاؤں   پھر جاؤ گے اور جو الٹے پاؤں   پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں   کو صلہ دے گا۔ ‘‘ 

یہ آیت مبارکہ سن کر لوگوں   کو ایسے لگا کہ گویا حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس آیت کوپڑھنے سے قبل وہ اِسے جانتے ہی نہ تھے ،  یہ آیت سنتے ہی ہر شخص یہی آیت دہرانے لگا۔اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں   کہ:  ’’  حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے یہ آیت مبارکہ سن کرمیں   حیران و ششدر رہ گیا اور مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا  ،  میری ٹانگوں   نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میں   زمین پر گرگیا۔بہرحال آیت مبارکہ سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیاسے تشریف لے جاچکے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

 



[1]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب الصلوۃ ،  باب ما علی الماموم من المتابعۃ وحکم المسبوق ،  الفصل الثالث ،  ج۳ ،  ص۲۲۹ ،  سیرتِ سیدالانبیاء ،  ص۶۰۰۔

[2]   بخاری ،  کتاب المغازی ،  مرض النبی و وفاتہ ،  ج۳ ،  ص۱۵۸ ،  حدیث: ۴۴۵۴۔

 عمدۃ القاری ،  کتاب المغازی ،  باب مرض النبی۔۔۔الخ ،  ج۱۲ ،  ص۴۰۰ ،  تحت الحدیث: ۴۴۵۴۔



Total Pages: 349

Go To