Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جیش اُسامہ بن زید میں   آپ کو شریک بنا کر بھیجا۔ چنانچہ ،

٭… ’’ اُبْنٰی ‘‘  جو ’’ بَلْقَاء ‘‘   کے قریب  ’’ شَرَاہ ‘‘   کے علاقے اور ملک شام میں   واقع ہے کے مقیم لوگوں   کی طرف رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی حیات طیبہ کا آخری لشکر روانہ فرمایا۔۲۶صفر المظفر بروز ہفتہحضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رُومیوں   کے مقابلے کے لیے جنگ کی تیاری کا حکم فرمایا۔ رُومی اُس وقت ملک شام پر قابض تھے۔ حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو حکم دیا کہ کل ۲۷ صفر بروز اتوار اِس مہم پر روانہ ہوجائیں  ۔

٭ ۳۰صفر المظفر بدھ کی رات کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی علالت کا آغاز ہوا ،  آپ کو درد سر اور بخار لاحق ہوگیا۔ جمعرات یکم ربیع الاول کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دست اَقدس سے اُن کے لیے جھنڈا تیار فرمایا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مہاجرین واَنصار کے ایک قافلے کے ہمراہ روانہ فرمادیا۔

٭…مہاجرین میں   سے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا اَبو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا سعد بن اَبی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  وغیرہ جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔ جبکہ اَنصار میں   سے حضرت سیِّدُنا قتادہ بن نعمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا سلمہ بن اَسلم بن حریش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ تھے۔

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ لشکرِ اُسامہ کی روانگی کا بندوبست کرو پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُنہیں   خود روانہ فرمایا ،  سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جرف کے مقام میں   پڑاؤ ڈالا تاکہ لشکر وہاں   اکٹھا ہو سکے۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی شدت مرض کے بارے میں   سنا تو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور کچھ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  مدینہ منورہ واپس لوٹ آئے۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب سے پہلے اِس لشکر([1])  کو اُسی مہم پر روانہ فرمایا جس پررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسے روانہ فرمایا تھا۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دسواں باب

فاروقِ اعظم اور وصالِ حبیبِ خدا

اس باب میں ملاحظہ کیجئے

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی موجودگی میں   فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی امامت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حدیث قرطاس کی نفیس تو  جیہات

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقت

صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو تکلیف سے بچانا

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی باکمال فراست

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدنی سوچ

وصالِ محبوب پر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے درد ناک جذبات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صدمے کی کیفیت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارگاہ رسالت میں درود سلام کے گلدستے

٭…٭…٭…٭…٭…٭

فاروقِ اعظم اور وِصَالِ رسول اللہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر یہ کہا جائے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے بلکہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے لیے اُن کی حیات کا سب سے بڑا صدمہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری تھا تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے لیے:

٭یہی تو وہ مبارک ہستی تھی جو اُنہیں   کفروشرک کی اَندھیری وادیوں   سے نکال کر ایمان واسلام کے اجالوں   کی طرف کھینچ لائی تھی۔٭یہی تو وہ مبارک ذات تھی جس نے اُنہیں   کفر کے وحشت ناک ماحول سے نکال کر اِسلام کے پاکیزہ اور نفیس ماحول کا راستہ دکھایا تھا۔٭یہی تو وہ ہستی تھی جو اُن کے تمام دکھوں   کا مداوا کرتی تھی۔٭یہی تو وہ ذات تھی جسے دیکھ کر اُن کی



[1]    اِس لشکر کی مزید تفصیلات کے لیے دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۷۲۳ صفحات پر مشتمل کتاب ’’ فیضانِ صدیق اکبر ‘‘   ص۳۴۳ملاحظہ کیجئے۔

[2]    اسد الغابہ ، اسامۃ بن زید ،  ج۱ ،  ص۱۰۴ ،  سیرتِ سید الانبیاء ،  ص۲۲۷۔



Total Pages: 349

Go To