Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا

دریا بہا دیے ہیں   ،  دُر بے بہا دیے ہیں 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اتباع رسول کا انوکھا انداز:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں   غزوۂ حنین کے مال غنیمت سے دو باندیاں   آئیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتباع میں   اُن کو آزاد فرمادیا۔ چنانچہ ،  

حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں   غزوۂ حنین کے قیدیوں   میں   سے دو لونڈیاں   آئیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیت اللہ کے ایک مکان میں   اُنہیں   رہائش دے دی۔ بعد میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حنین کے تمام قیدیوں   پر یوں   اِحسان فرمایا کہ اُن تمام کو آزاد کردیا ،  وہ سارے غلام گلیوں   میں   بھاگتے ہوئے جارہے تھے ،  جب اُن کے شور کی آواز سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سنی تو سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا کہ اے عبد اللہ! دیکھو یہ شور کیسا ہے؟ انہوں   نے عرض کیاکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمام قیدیوں   پر احسان فرماتے ہوئے انہیں   آزاد فرمادیا ہے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذْهَبْ فَاَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ یعنی اے عبداللہ! جاؤ اور اُن دونوں   لونڈیوں   کو بھی آزاد کردو۔ ‘‘  ([1])

سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عشق رسول مرحبا! اتباع رسول کا جذبہ مرحبا! واقعی یہ بہت بڑی قربانی ہے کہ اپنی ذاتی چیز کو بھی راہ خدا میں   قربان کردی ،  اے کاش! ہمیں   بھی اتباع رسول نصیب ہوجائے ،  کاش! ہم بھی سنتوں   پر عمل کرنے والے بن جائیں   ،  خود بھی نیک بنیں   دوسروں   پر انفرادی کوشش کرکے انہیں   بننے کی ترغیب دلائیں  ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بعد غزوۂ حنین فاروقِ اعظم کا اعتکاف کے متعلق سوال:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ جب شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ حنین سے واپس تشریف لائے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے زمانۂ جاہلیت میں   جو اعتکاف کی نذر مانی تھی اسے پورا کرنے کے متعلق سوال کیا تو سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ

لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس نذر کو پورا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔([2])

غیرت فاروقِ اعظم برناموسِ امامِ اعظم:

غزوۂ حنین سےواپسی پر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ایک منافق نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی شان میں   گستاخی کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آگئے ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس کی قتل کی اجازت مانگی۔ چنانچہ ،

٭…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے ایک بار ہم حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مالِ غنیمت تقسیم فرمارہے تھے۔  ’’ ذُوْالْخُوَیْصَرَہْ ‘‘   نامی منافق آگیاجو قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتا تھا۔ کہنے لگا:   ’’ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِعْدِلْ یعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول! انصاف کیجئے۔ ‘‘ 

٭… سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے ارشاد فرمایا:   ’’ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ اِذَا لَمْ اَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ اِنْ لَمْ اَكُنْ اَعْدِلُیعنی تیری ہلاکت ہو! اگر میں   عدل نہ کروں   گاتو کون کرے گا؟ اگر میں   تیرے نزدیک عادل نہیں   تو یقیناً تو خائب وخاسر ہوگیا۔ ‘‘ 

٭…یہ سنتے ہی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی جوش میں   آگئی اور عرض کیا:   ’’ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِئْذَنْ لِي فِيهِ فَاَضْرِبَ عُنُقَهُیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اجازت دیں   میں   اِس منافق کی گردن اتاردوں  ۔ ‘‘   

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیبوں   کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ دَعْهُ فَاِنَّ لَهُ اَصْحَابًایعنی اے عمر!اسے چھوڑ دو۔ آئندہ اِس جیسے اور بھی پیدا ہوں   گے۔‘‘ 

٭… ’’ يَحْقِرُ اَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْیعنی اُن کی نماز اور روزے کو دیکھ کر تم لوگ اپنی نمازوں   اور روزوں   کو حقیر جانو گے۔ ‘‘ 

٭… ’’ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ یعنی وہ لوگ قرآن پڑھیں   گے مگر وہ اُن کے حلق سے نیچے نہیں   اترے گا ،  وہ اسلام سے یوں   نکل جائیں   گے جیسے تیر شکار کو چیرتے ہوئے دوسری طرف سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ‘‘ 

 



[1]    بخاری ،  کتاب فرض الخمس ،  ماکان النبی۔۔۔الخ ،   ج۲ ،  ص۳۵۷ ،  حدیث: ۳۱۴۴۔

[2]    بخاری ،  کتاب المغازی ،  باب قول اللہ تعالی ویوم حنین ،  ج۳ ،  ص۱۱۲ ،  حدیث: ۴۳۲۰۔



Total Pages: 349

Go To