Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

نہیں   ہوتی بلکہ اپنی جان سے زیادہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ عزیز تھی۔

٭…مسلمانوں   کے جنگی لشکر میں   بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ ایک قلعے کی حیثیت رکھتی تھی کہ تیز آندھی میں   سب مسلمان فوراً رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   پہنچے۔

فاروقِ اعظم کا فیصلہ اور بارگاہِ رسالت سے تصدیق:

غزوۂ حنین کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   اپنی رائے پیش کی اوررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تصدیق وتائید حاصل کی۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ غزوۂ حنین کے دن قبیلہ ہوازن کے لوگ اپنے بچوں   ،  عورتوں   ،  اونٹوں   اور جانوروں   کو بھی لے آئے اور انہوں   نے صف بندی کرلی تاکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

 وَسَلَّم پر اپنی کثرت ظاہر کریں   ،  بہرحال مسلمانوں   اور مشرکین کے مابین جنگ ہوئی تو مسلمانوں   کے لشکر میں   بھگڈر مچ گئی۔ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ يَاعِبَادَ اللہِ اَنَا عَبْدُ اللہِ وَرَسُوْلُهُ یعنی اےاللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں  ۔ ‘‘   پھر ارشاد فرمایا:   ’’ يَامَعْشَرَ الْاَنْصَارِاَنَا عَبْدُاللہِ وَرَسُوْلُهُ یعنی اے گروہ انصار! میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں  ۔ ‘‘ 

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کیا حالانکہ ایسا لگتا تھا کہ نہ تو کوئی تلوار چلی اورنہ ہی کوئی نیزہ وغیرہ۔ بہرحال جنگ سے فراغت کے بعدرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مَنْ قَتَلَ كَافِراً فَلَهُ سَلَبُهُ یعنی جس نے کسی کافر کو اکیلے قتل کیا ہے تو اُس کا سب سازوسامان اُسی کا ہے۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس دن کفار کے بیس ۲۰آدمیوں   کو قتل کیا تھا ،  اُن سب کا سامان آپ کو ملا۔ حضرت سیِّدُنا ابو قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:  ’’ يَارَسُوْلَ اللہِ اِنِّيْ ضَرَبْتُ رَجُلاً عَلَيَّ حَبَلُ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ فَاَعْجَلْتُ عَنْهُ اَنْ آخُذَهَا فَانْظُرْ مَعْ مَنْ هِيَ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   نے بھی ایک کافر کو قتل کیا تھا اور اُس کے پاس ایک زرہ تھی لیکن میں   جلدی میں   وہ اتار نہ سکا ،  آپ دیکھئے کہ وہ زرہ کس کے پاس ہے؟ ‘‘  ایک شخص کھڑا ہوا اور بارگاہِ رسالت میں   عرض کرنے لگا:  ’’ يَارَسُوْلَ اللہِ اَنَا اَخَذْتُهَا فَارْضِهِ مِنْهَا وَاعْطِنِيْهَا یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ ذراع میں   نے لے لی تھی ،  آپ اُنہیں   اِس بات پر راضی کیجئے کہ وہ ذراع یہ مجھے دے دیں  ۔ ‘‘ 

یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہوگئے کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی شخص آپ سے کچھ مانگتا ،  یا تو اسے عطا فرمادیتے یا خاموش ہوجاتے۔ ‘‘  یہ دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ لَايُفِيْئُهَا عَلَي اَسَدٍمِنْ اُسُدِهِ وَيُعْطِيْكَهَا یعنی   اللہ عَزَّوَجَلَّکے شیروں   میں   سے ایک کو وہ کفایت نہیں   کرے گی اور وہ تجھے دے دی جائے؟ ‘‘  یہ سن کررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرائے اور ارشاد فرمایا:  ’’ صَدَقَ عُمَرُ یعنی عمر نے سچ کہا۔ ‘‘  ([1])

روایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:

٭…معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بارگاہِ رسالت میں   بڑا مقام حاصل ہے اور جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی کوئی رائے پیش کرتے تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی تصدیق کرتے اور تائید فرماتے ۔

٭…اس روایت کے راوی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وضاحت سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ کے دربار سے کوئی خالی نہیں   جاتا تھا ،  اگر آپ اُسے مال وغیرہ پاس نہ ہونے کے سبب بظاہر کچھ نہ بھی عطا فرماتے تو منع بھی نہ فرماتے بلکہ خاموشی اختیار فرماتے۔

٭…معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے سب کو اپنے خزانے تقسیم فرماتے ہیں   اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہ عقیدہ کیوں   نہ ہوتا کہ انہوں   نے خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان حق ترجمان سے رَبّ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان سنا کہ ’’ اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ یعنی اے محبوب بے شک ہم نے آپ کو خیرکثیر عطا کیا۔ ‘‘  انہوں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے اصحاب میں   جنت تقسیم کرتے دیکھا ،  جنت کی نعمتیں   دنیا میں   ہی کھلاتے دیکھا ،  انہوں   نے خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ مبارک کلمات سنے کہ  ’’ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ یعنی مجھے زمینی خزانوں   کی کنجیاں   عطا کردی گئی ہیں  ۔اعلی حضرت ،  عظیم البرکت ،  مجددین دین وملت پروانۂ شمع رسالت ،  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سخاوت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

 



[1]    مسند بزار ،  مسند ابی حمزہ انس بن مالک ،  ج۱۳ ،  ص۸۵ ،  حدیث: ۶۴۳۹۔

                                                 مسند امام احمد ،  مسند انس بن مالک ،  ج۴ ،  ص۵۵۶ ،  حدیث:  ۱۳۹۷۷۔



Total Pages: 349

Go To