Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ایک جھنڈا فاروقِ اعظم کو دیا گیا:

جنگی لشکرچاہے مسلمانوں   کا ہو یا کافروں   کا سب میں   یہ اُصول نافذ تھا کہ لشکر کو ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ مختلف جگہوں   پراُن میں   ایسے افراد کو بھی منتخب کیا جاتا تھاجو علامتی جھنڈے لے کر لشکر کے ساتھ ساتھ چلتے تھے ، اور بعض اوقات یہی جھنڈے کسی جنگ کی فتح وشکست کا بھی سبب بن جاتے تھے۔ غزوۂ حنین میں   بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں   کے لشکر میں   کئی جھنڈے مختلف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو عطا فرمائے اور اُنہیں   لشکر میں   مختلف مقامات پر فائز فرمایا ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ’’ لشکر کے جھنڈوں   میں   سے ایک جھنڈا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطا فرمایا۔ ‘‘  ([1])

تیز آندھی میں   فاروقِ اعظم کی رفاقت مصطفےٰ:

اِس غزوہ میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ تیز آندھی میں   جب کسی کو کچھ بھی نظر نہیں   آرہا تھا  ،  سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رفاقت مصطفےٰ نصیب ہوئی ،  اور پھر دیگر مسلمان بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب آگئے۔ چنانچہ ،  

حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ غزوۂ حنین کے دن ایک انصاری نوجوان یوں   آواز لگا رہا تھا:  ’’ لَنْ نَهْزِمَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍیعنی آج کے دن ہم کم ہونے کےسبب ہرگز شکست سے دوچار نہیں   ہوں   گے۔ ‘‘   راوی یعنی حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو اس کا لشکر بھاگ کھڑا ہوا۔ہم

 ’’ ھَسْ ‘‘   نامی وادی میں   تھے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے خچر پر سوار تھے ،  اُس کی لگام حضرت سیِّدُنا ابو سفیان بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اور رکاب حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تھامی ہوئی تھی ۔ایسی تیز آندھی چلی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دیتا تھا ۔

 ٭…اچانک ایک شخص رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فوراً قریب آگیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا:  ’’  مَنْ اَنْتَ یعنی تو کو ن ہے؟ ‘‘   آواز آئی:  ’’ اَنَا اَبُوْبَكْرٍ فِدَاكَ اَبِيْ وَاُمِّيْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان ہوں   ،  میں   ابوبکر ہوں  ۔ ‘‘ 

٭…پھراچانک ایک اورشخص آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے فوراً قریب آگیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ استفسار فرمایا:  ’’  مَنْ اَنْتَ یعنی تو کو ن ہے؟ ‘‘  آواز آئی:  ’’  عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِدَاكَ اَبِيْ وَاُمِّيْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان ہوں   ،  میں   عمر ہوں  ۔ ‘‘ 

٭…پھرایک اورشخص آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فورا قریب آگیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دوبارہ استفسار فرمایا:  ’’  مَنْ اَنْتَ یعنی تو کو ن ہے؟ ‘‘  آواز آئی:  ’’ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانٍ فِدَاكَ اَبِيْ وَاُمِّيْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان ہوں   ،  میں   عثمان بن عفان ہوں  ۔ ‘‘ 

٭…پھرایک اورشخص آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فوراً قریب آگیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دوبارہ استفسار فرمایا:  ’’  مَنْ اَنْتَ یعنی تو کو ن ہے؟ ‘‘  آواز آئی:  ’’ عَلِيُّ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ فِدَاكَ اَبِيْ وَاُمِّيْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں   باپ آپ پر قربان ہوں   ،  میں   علی بن ابی طالب ہوں۔ ‘‘ 

پھر تمام لوگ بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آگئے ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلَا رَجُلٌ صِيْتٌ يَنْطَلِقُ فَيُنَادِيْ فِي الْقَوْمِ ؟ یعنی ہے کوئی ایسا بلند آواز والا شخص جو قوم کے اندر اعلان کرے۔ ‘‘  تو ایک شخص چیختا ہوا آیا اور اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ ہر کسی کے کان میں   پڑ رہی تھی ،  پھر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوار ہوئے ،  سب مسلمان بھی اپنی سواریوں   پر سوا ر ہوئےاور کفار شکست فاش سے دوچار ہوئے۔([2])

روایت سے حاصل ہونے والی مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:

٭…غزوۂ حنین میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معیت حاصل تھی اِس وجہ سے اُن سب کے عزائم بہت بلند تھے  ،  نیز اُن میں   فتح کا عظیم جذبہ اور کفار کو شکست دینے کا حوصلہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  جنگوں   میں  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شاہی اعزازکے ساتھ لایا کرتے تھے ،  جیسا کہ سیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک عمل سے ظاہر ہے۔

٭…اِس غزوہ میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیز آندھی کے ذریعے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور مسلمانوں   کی مدد فرمائی جو اُن کی فتح وکامرانی اور کفار کی شکست کا باعث بنی۔

٭…تیز آندھی میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ وہ سب سے پہلے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   پہنچے ،  اِس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو مشکل وقت میں   اپنی جان کی کوئی فکر



[1]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۸۰۔

[2]    مسند بزار ،  مسند ابی حمزہ انس بن مالک ،  ج۱۳ ،  ص۱۲۸ ،  حدیث:  ۶۵۱۸  ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To