Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غزوۂ فتح مکہ کا معاملہ خفیہ رکھا ،  البتہ ایک صاحب نے اُس کی خبر مصلحت کے سبب کفار مکہ تک پہنچانے کی کوشش کی تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آگئے اور غیرت ایمانی کے سبب اُن صاحب کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے غزوۂ فتح مکہ کی خبر چند مخصوص اَصحاب تک محدود رکھی جن میں   حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے۔ چنانچہ اُنہوں   نے اہل مکہ کو ایک خط لکھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تمہارے خلاف جہاد کرنا چاہتے ہیں  ۔ لیکن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اللہ عَزَّوَجَلَّنے بذریعہ وحی خبر دے دی ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے (یعنی سیِّدُنا علی المرتضی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو) اور حضرت ابو مرثدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیجا ، ہمارے پاس تیز رفتار گھوڑے تھے ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اِئْتُوْا رَوْضَةَ خَاخٍ فَاِنَّكُمْ سَتُلْقَوْنَ بِهَا اِمْرَاَةً وَمَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوْهُ مِنْهَایعنی  ’’ خاخ ‘‘   باغ پر پہنچ جاؤ ،  وہاں   تمہیں   ایک عورت ملے گی ،  اُس کے پاس خط ہوگا وہ خط اُس سے لے لو۔ ‘‘  ہم چل پڑے اور مقررہ جگہ پر پہنچے تو واقعی ہمیں   وہاں   ایک عورت ملی ،  ہم نے عورت سے خط طلب کیا  ،  اُس نے کہا کہ میرے پاس خط نہیں   ہے۔ ہم نے اُس عورت کا سازوسامان چیک کیا تو اُس میں   سے بھی خط برآمد نہ ہوا۔ حضرت ابو مرثد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے:   ’’ فَلَعَلَّهُ اَنْ لَّا يَكُوْنَ مَعَهَا كِتَابٌیعنی ہوسکتاہے اس کے پاس خط نہ ہو۔ ‘‘  لیکن پھر ہم نے کہا کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہے تو یقیناً اِس کے پاس خط ہوگا کیونکہ نہ تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود جھوٹ بولتے ہیں   اور نہ ہی انہوں   نے کبھی ہم سے جھوٹ بولا۔ہم نے اُس عورت کو دھمکایا تو اُس نے اپنے بالوں   میں   سے خط نکال کر دے دیا۔ ہم وہ خط لے کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   پہنچے۔ آپ نے جب خط کو کھولا تو وہ حضرت ابن ابی بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خط نکلا۔ یہ دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آگئے اور کھڑے ہو کر عرض کیا:   ’’ يَارَسُوْلَ اللہِ خَانَ اللہَ وَخَانَ رَسُوْلَهُ اِئْذَنْ لِّيْ فَاضْرِبْ عُنُقَہُیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اِس نےاللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خیانت کی ہے مجھے اِجازت دیجئے تاکہ میں   اِس کی گردن اڑادوں  ۔ ‘‘ 

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رحمت وشفقت سے بھرپور جواب دیتے ہوئے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے استفسار فرمایا:   ’’ اَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْراً؟ یعنی کیا یہ غزوۂ بدر میں   شریک نہ تھے؟ ‘‘   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عرض کیا:  ’’ کیوں نہیں  یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ تو غزوۂ بدر میں   شریک تھے۔ ‘‘ 

لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ بَلٰى وَلٰكِنَّهُ قَدْ نَكَثَ وَظَاهَرَ اَعْدَاءَكَ عَلَیْکَیعنی اِس نے بدر میں   ضرور شرکت کی ہے لیکن آپ کے دشمنوں   کی آپ کے خلاف پشت پناہی بھی کی ہے۔ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ فَلَعَلَّ اللہَ قَدِاطَّلَعَ عَلٰى اَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ:  اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْیعنی شاید اسی لیے   اللہ عَزَّوَجَلَّنے اہل بدر پر نظر رحمت فرمائی ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم جو چاہے کرو۔ ‘‘  یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگ گئے اور عرض کرنے لگے:   ’’ اَللہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُیعنی   اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں  ۔‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا یا اور ارشاد فرمایا:   ’’ مَاحَمَلَكَ عَلٰى مَا صَنَعْتَ؟ یعنی تم سے ایسا فعل کیوں   سرزد ہوا؟ ‘‘  عرض کیا:   ’’ يَارَسُوْلَ اللہِ كُنْتُ اِمْرَاً مُلْصِقاً فِيْ قُرَيْشٍ ،  وَكَانَ بِهَا اَهْلِيْ وَمَالِيْ وَلَمْ يَكُنْ مِّنْ اَصْحَابِكَ اَحَدٌ اِلَّا وَلَهُ بِمَكَّةَ مَنْ يَمْنَعُ اَهْلَهُ وَمَالَهُ فَكَتَبْتُ اِلَيْهِمْ بِذٰلِكَ وَاللہِ يَارَسُوْلَ اللہِ اِنِّيْ لَمُؤْمِنٌ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِہیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! قریش سے میری کوئی رشتہ داری نہیں   ،  ہاں   میرے گھر والے اور مال وغیرہ مکہ میں   ہی ہے اور میرا وہاں   کوئی ایسا نہیں   جو ان کی حفاظت کرے ،  آپ کے دیگر اصحاب کے قبائل کے کئی لوگ ایسے ہیں   جو ان کے اہل ومال وغیرہ کی حفاظت کرنے والے ہیں   ،  لیکن میرا کوئی نہیں   اس لیے میں   نے ان کے ساتھ کوئی احسان کرنے کا سوچا تاکہ میرے اہل ومال محفوظ رہیں   اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں  اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان رکھتا ہوں  ۔ ‘‘ 

یہ سن کررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ صَدَقَ حَاطِبٌ فَلَا تَقُوْلُوْا لِحَاطِبٍ اِلَّا خَيْراً حاطب نے سچ کہا ہے ،  لہٰذا اب حاطب کےلیے اچھائی کے علاوہ کوئی بات نہ کی جائے۔ ‘‘  اس کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی:  ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ-یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْؕ-اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ ﳓ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ ﳓ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْؕ-وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۱)) (پ۲۸ ، الممتحنۃ: ۱) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں   کو دوست نہ بناؤ تم انہیں   خبریں   پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکِر ہیں   اُس حق کے جو تمہارے پاس آیا گھر سے جدا کرتے ہیں   رسول کو اور تمہیں   اُس پر کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے اگر تم نکلے ہو میری راہ میں   جہاد کرنے اور میری رضا چاہنے کو تو اُن سے دوستی نہ کرو تم انہیں   خفیہ پیام محبّت کا بھیجتے ہو اور میں   خوب جانتا ہوں   جو تم چُھپاؤ اور جو ظاہر کرو اور تم میں   جو ایسا کرے وہ بیشک وہ سیدھی راہ سے بہکا۔ ‘‘   ([1])

روایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:

حضرت سیِّدُنا حاطب بن ابی بلتعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خط کے مضمون میں   کفار کو لشکر اسلام سے خوف زدہ کرنے اور اُن کی دل شکنی کرنے کا بہترین سامان موجود



[1]    بخاری  ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ الفتح ،  ج۳ ،  ص۹۹ ،  حدیث: ۴۲۷۴۔کنزالعمال ،  کتاب الغزوات والوفود ،  غزوۃ الفتح ،  الجزء:  ۱۰ ،  ج۵ ،  ص۲۳۵ ،  حدیث:  ۳۰۱۸۰ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To