Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اِس کے حق میں   شہادت واجب ہوگئی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہمیں   مزید کچھ دیر کے لیے اِن کے اَشعار سے محظوظ (لطف اندوز) ہونے دیتے۔ ‘‘  بہرحال ویسا ہی ہوا کہ حضرت سیِّدُنا عامر بن اَکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِسی غَزوۂ خیبر میں   شہادت پائی۔ ‘‘  ([1])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اِس وضاحت کے بعد صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا یہ معجزہ مشہور ہوگیا کہ جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  رحم کی دعا دے دیں   اسے شہادت نصیب ہوجاتی ہے۔([2])

فاروقِ اعظم نے خیبر کی زمین وقف فرمادی:

غزوۂ خیبر کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں   جو زمین آئی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُسے مسلمانوں   کے لیے وقف فرمادیا۔ چنانچہ

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایاکہ خیبر سے مجھے کچھ زمین ملی تو میں   نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:   ’’ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِنِّي اَصَبْتُ اَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ اُصِبْ مَالًا قَطُّ اَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَاْمُرُ بِهِیعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! خیبر کی جو زمین میرے حصے میں   آئی ہے ایسا نفیس مال کبھی نہیں   ملا ،  آپ ارشاد فرمائیے کہ میں   اِس کا کیا کروں  ؟ ‘‘   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ اَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا یعنی اے عمر! اگر تم چاہو تو اسے اِس طرح وقف کردو کہ وہ زمین تمہاری رہے اور اُس سے حاصل ہونے والا نفع مسلمانوں   کو حاصل ہو۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   :  ’’ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ اَنَّهُ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ وَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا اَنْ يَاْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس زمین کو اِن شرائط پر وقف کردیا کہ نہ تو اُس زمین کو بیچا جائے گا ، نہ ہی ہبہ کیا جائے گا اورنہ تو اس کا وارث بنایا جائے گا ،  اس کا نفع فقراء ، قرابت دار  ، غلاموں   کو آزاد کرنے ، راہ خدا  ، مسافروں   اور مہمانوں   پر خرچ کیا جائے ۔اور جو اس زمین کا متولی ہو تو اس پر( عرف کے مطابق ) کھانے میں   کو ئی حرج نہیں  ۔‘‘([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۸ ہجری) غَزْوَۂ فَتْحِ مَکَّہ اور فاروقِ اعظم

٭…حدیبیہ کا معاہدہ جو حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور قریش کے درمیان تھا ،  قریش نے توڑ ڈالا ،  کیونکہ انہوں  نے قبیلہ بنو خزاعہ سے جنگ کی جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی حفاظت اور اَمان میں   تھے۔ قریش نے یہ عہد شکنی شعبان المعظم ۸ سن ہجری میں   صلح حدیبیہ کے بائیس ماہ کے بعد کی۔

٭…اس غزوہ کو  ’’ غزوۂ فتح مکہ ‘‘   کہا جاتاہے اور مسلمانوں   کی یہ عظیم ترین فتح ہے کہ اس کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور اپنے دین کو غلبہ عطا فرمایا ،  چنانچہ اِس کے بعد اَرضِ حجاز میں   کوئی کافر نہ رہا۔یہ غزوہ رمضان لمبارک میں   ہوا اور اس پر علمائے کرام کا اتفاق ہے۔اِس سے پہلے اَہل عرب اِس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ اگر حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مکہ مکرمہ پر فتح حاصل کرلیں   تو وہ بھی دائرہ اسلام میں   

داخل ہوجائیں   ،  چنانچہ جب یہ فتح عظیم ظہور پذیر ہوئی تو لوگ دوڑتے ہوئے اِسلام لانے لگے۔ اِس فتح کےبعد مشرکوں   کے لیے کوئی جائے فرار باقی نہ رہی۔رَبّ عَزَّوَجَلَّنے اِس فتح کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرمایا اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مظفر وفتح مند فرمادیا۔یہ ایسی فتح تھی کہ زمین وآسمان والے مبارک باد پیش کرنے لگے۔

٭…سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اِس غزوے کے لیے بدھ کے دن ،  عصر کے بعد دس۱۰ رمضان شریف کو مدینہ منورہ سے روانہ ہوئےایک قول کے مطابق آپ دو۲ رمضان المبارک کو روانہ ہوئے۔اس غزوے کے وقوع کی تاریخ میں   تین۳ طرح کے اقوال ہیں   ،  ۱۷ رمضان المبارک ،  ۲۹رمضان المبارک اور ۲۰ رمضان المبارک۔ فتح مکہ کے دن میں   بھی اختلاف ہے ،  مشہور یہ ہے کہ وہ جمعۃ المبارک کا دن تھا۔

٭…رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دس ہزار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ تشریف لے گئے اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن اُمّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ منورہ میں   اپنا نائب مقرر فرمایا۔ بعض علماء کے نزدیک حضرت سیِّدُنا ابو رھم کلثوم بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نائب مقرر فرمایا۔

اِس غزوۂ فتح مکہ میں   بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کئی فضائل وشرف حاصل ہوئے ،  جن کی تفصیل کچھ یوں   ہے:

صلح کی درخواست رد کردینے پر فاروقِ اعظم کی تائید:

 



[1]    بخاری ،  کتاب المغازی ،  غزوۃ خیبر ،  ج۳ ،  ص۸۰ ،  حدیث: ۴۱۹۶۔

                                                عمدۃ القاری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ خیبر ،  ج۱۲ ،  ص۲۱۲ ،  تحت الحدیث: ۴۱۹۶۔

                                                ارشاد الساری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ خیبر ،  ج۹ ،  ص۲۵۳ ،  تحت الحدیث: ۴۱۹۶۔

[2]    سیرتِ سید الانبیاء ، ص۴۰۴ ماخوذا۔

[3]    بخاری ،  کتاب الشروط ، باب الشروط فی الوقف ،  ج۲ ،  ص۲۲۹ ،  حدیث: ۲۷۳۷۔



Total Pages: 349

Go To