Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭… ’’ قَلْب ‘‘   فوج کے درمیانی حصے کو کہا جاتاہے۔

٭… ’’ عَقَب ‘‘   فوج کے پچھلے حصے کو کہا جاتاہے۔

فاروقِ اعظم کی فتح غزوۂ خیبر میں   عظیم معاونت:

غزوۂ خیبر میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر رات کسی نہ کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذمہ داری لگادیتے تھے جو رات کو لشکر کی حفاظت کرتا اور دشمنوں   پر نظر رکھتا۔ ایک رات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذمہ داری لگائی ،  جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رات کو پہرہ دے رہے تھے تو ایک یہودی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبضے میں   آگیا  ،  اُس کو پکڑ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرکارِ والا تبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی بارگاہ میں   پیش کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اُس سے خیبر کے حالات وغیرہ دریافت کیےاور اُس کے مطابق جنگی حکمت عملی تیار فرمائی۔گویا سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اِس یہودی کو گرفتار کرنا غزوۂ خیبر کی فتح میں   بہت معاون ثابت ہوا۔ ([1])

صدیق اکبر کے بعدفاروقِ اعظم کو جھنڈا دیا گیا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غزوۂ خیبر میں   یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جھنڈا عطا فرمایا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن بریدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد محترم حضرت سیِّدُنا بریدہ اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ انہوں   نے فرمایا:   ’’ لَمَّا نَزَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِصْنِ اَهْلِ خَيْبَرَ اَعْطٰى رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللِّوَاءَ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ وَنَهَضَ مَعَهُ مِنْ نَهْضٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَلَقُوْا اَهْلَ خَيْبَرَ یعنی جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خیبر والوں   کے قلعے کے قریب پہنچے تو دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے جھنڈا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطا فرمایا اور مسلمانوں   کا ایک لشکر بھی اُن کے ساتھ کردیا پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اہل خیبر پر چڑھائی کردی۔ ‘‘   بعد اَزاں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے وہ جھنڈا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطا فرمایا۔ ([2])

بارگاہِ رسالت سے اعلان کرنے کا حکم:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غزوۂ خیبر میں   یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ

کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ ندا کرنے کے لیے بھیجا کہ مؤمن ہی جنت میں   جائیں   گے۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود فرماتے ہیں   کہ خیبر کے دن کچھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  آپس میں   یہ گفتگو کر رہے تھے :   ’’ فُلَانٌ شَهِيدٌ فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌیعنی فلاں   شخص بھی شہید ہوگیا ،  فلاں   بھی شہید ہوگیا ،  پھر ایک شخص کا تذکرہ ہوا اور اس کے بارے میں   بھی یہی کہا کہ فلاں   بھی شہید ہوگیا۔ ‘‘   یہ سن کر نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ كَلَّا اِنِّي رَاَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا اَوْ عَبَاءَةٍیعنی یہ ہرگز شہید نہیں   ہے ،  کیونکہ چادر چرانے کے سبب میں   نے اسے جہنم میں   دیکھا ہے۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اِذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ اَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ اِلَّا الْمُؤْمِنُونَیعنی اے عمر!جاؤ اور لوگوں   میں   اعلان کردو کہ جنت میں   صرف مؤمن ہی داخل ہوں   گے۔ ‘‘   فرماتے ہیں   کہ میں   گیا اور لوگوں   میں   یہی اعلان کردیا۔([3])

غزوۂ خیبر میں   فاروقِ اعظم کی فراست:

غزوۂ خیبر میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک سعادت یہ بھی نصیب ہوئی کہ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک صحابی کو رحم کی دعا دی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی فراست سے جان لیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے شہادت کی خوشخبری سنائی ہے۔چنانچہ ،

حضرت سیِّدُنا سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ خیبر کی جانب کوچ کیا  ، رات بھر سفر کا سلسلہ جاری رہا ،  حضرت سیِّدُنا اسید بن حضیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا عامر بن اکوع سے کہا:  ’’ اَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ ھَنِیْئَاتِکَیعنی اے عامر! کیا آپ ہمیں   رجزیہ اشعار نہیں   سنائیں   گے؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نیچے اترے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ اشعار سنانے لگے:

اَللّٰھُمَّ لَوْلاَ اَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا

ترجمہ:   ’’ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ اگر تو ہدایت نہ دیتا تو نہ تو آج ہم ہدایت پاتے ،  نہ ہی صدقہ کرتے اور نہ ہی نمازیں   ادا کرتے۔ ‘‘ 

فَاغْفِرْ فِدَاءاً لَکَ مَا اَبْقَیْنَا وَثِیْنُ الْاَقْدَامِ اَمْ اَنْ لَّاقِیْنَا

ترجمہ:   ’’ جب تک سانس باقی ہے تیری راہ میں   فدا رہوں   ،  اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!مغفرت کا پروانہ عطا فرما اور دشمن سے مقابلے کے وقت ہمیں   ثابت قدمی عطا فرما۔ ‘‘ 

یہ اَشعار سن کررسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کو دعا دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:   ’’ رَحِمَكَ رَبُّكُیعنی تیرا رَبّ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم وکرم فرمائے۔ ‘‘  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ دُعا سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ وَجَبَتْ یَا نَبِیَّ اللہِ وَاللّٰهِ لَوْ لَااَمْتَعْتَنَابِهِ یعنی یَارَسُوْلَ



[1]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۷۶ ماخوذا۔

[2]    مسند امام احمد ، حدیث بریدۃ الاسلمی ،  ج۹ ،  ص۲۸ ،  حدیث: ۲۳۰۹۳ مختصرا۔

[3]    مسلم ،  کتاب الایمان ،  غلظ تحریم الغلول۔۔۔الخ ،  ص۷۱ ،  حدیث: ۱۸۲۔



Total Pages: 349

Go To