Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اور دھمکانے والی نبوی تربیت کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔جبکہ سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ تَخْوِیْفْ وتَھْدِیْدْ والی تربیت نبوی بہت کم وقوع پذیر ہوئی۔([1])

فاروقِ اعظم کی شان میں   آیت مبارکہ کا نزول:

اسی صلح حدیبیہ میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان میں   آیت مبارکہ بھی نازل ہوئی ،  چنانچہاللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۲۶)) (پ۲۶ ،  الفتح: ۲۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں   پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ اُن پر لازم فرمایا اور وہ اُس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔‘‘ ([2])

فاروقِ اعظم اور کلمۂ اخلاص:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا :   ’’ اِنِّيْ لَاَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُوْلُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِه اِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ یعنی ایک ایسا کلمہ میرے علم میں   ہے جس کو کوئی شخص سچے دل سے کہے تو   اللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر جہنم کی آگ حرام فرما دے گا۔ ‘‘  تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَنَا اُحَدِّثُكُمْ مَّا هِيَ كَلِمَةُ الْاِخْلَاصِ الَّتِيْ اَلْزَمَهَا اللہُ سُبْحَانَهُ مُحَمَّداً وَاَصْحَابَهُیعنی میں   تم لوگوں   کو بتاتاہوں   کہ وہ اِخلاص کا کلمہ کون سا ہے جس کو   اللہ عَزَّوَجَلَّنے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اُن کے اَصحاب پر لازم فرمایا۔ ‘‘  پھر فرمایا:   ’’ کَلِمَۃُ التَّقْویٰ وہ ہے جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے چچا کی موت کے وقت ان کو فرمایا تھا یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں  ۔)([3])

صلح کے لیے فاروقِ اعظم کو بھیجنا:

سرکارِ والا تبار ،  ہم بے کسوں   کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کفار مکہ کے ساتھ جب صلح کرنا چاہیں   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بات چیت کے لیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیجنے کا اِرادہ فرمایا  ،  لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بصد عاجزی عرض کیا:   ’’ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے قریش کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے ،  مکہ مکرمہ میں   عدی بن کعب میں   سے کوئی ایسا نہیں   جو میری حفاظت کرسکے ،  آپ تو جانتے ہیں   کہ قریش مجھ سے کس قدر عداوت رکھتے ہیں   اور میرا رویہ ان کے حوالے سے کتنا سخت ہے ،  لیکن میں   ایک ایسے شخص کی نشاندہی کرتا ہوں   جو میری بنسبت قریش کو حددرجہ عزیز ہے اور عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

صلح حدیبیہ میں   فاروقِ اعظم بطور گواہ:

صلح حدیبیہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام بطور گواہ صلح نامے میں   تحریر کیا گیا۔اُس صلح نامے کے کاتب (لکھنے والے) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  تھے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے علاوہ باقی گواہوں   میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سہیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا محمود بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  کے اَسمائےمبارکہ سر فہرست ہیں  ۔([5])

سورۃ الفتح کا نزول اور فاروقِ اعظم:

صلح حدیبیہ کےموقع پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک اِعزاز یہ بھی حاصل ہوا کہ جب سورۃ الفتح نازل ہوئی تو سب سے پہلے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اُس کا ذکر فرمایا۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ فرماتے سنا کہ ایک بارہمرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رات کے

وقت سفر میں   تھے ،  میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی بات کرنا چاہی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خاموش رہے ،  میں   نے پھر بات کرنے کی کوشش کی لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خاموش رہے ،  میں   نے ایک بار پھر بات کرنے کی کوشش کی لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس دفعہ بھی خاموش رہے۔مجھے تشویش لاحق ہوئی لہٰذا میں   نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آگے نکل گیا ،  آگے جاکر میں   نے اپنے آپ سے کہا:   ’’ ثَكِلَتْكَ اُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ نَزَرْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كَلَّ ذَلِكَ لَا يُكَلِّمُكَ مَا اَخْلَقَكَ بِاَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌیعنی تیری ماں   تجھے روئے اے خطاب کے بیٹے! تونے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تین بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب نہ دیا  ، کیا ہوگا کہ جب تیرے بارے میں   قرآن کی کوئی آیت نازل ہوجائے۔ ‘‘   فرماتے ہیں   کہ تھوڑی ہی دیر بعد ایک شخص زور زور سے میرا نام لے کر پکارنے لگا تو میں   فوراً ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف لوٹ کر آگیا ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ لَقَدْ اُنْزِلَ عَلَيَّ هَذِهِ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ مَا اُحِبُّ اَنَّ لِي مِنْهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًایعنی اے عمر! آج کی



[1]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۷۶۔

[2]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۱۷۱۔

[3]    مسند امام احمد ، مسند عثمان بن عفان ، ج۱ ، ص۱۳۸ ، حدیث: ۴۴۷۔

[4]    سیرۃ ابن ھشام ،  عثمان رسول محمد الی قریش ،  ج۲ ،  ص۲۶۸۔

[5]    سیرۃ ابن ھشام ،  من شھدوا علی الصلح ،  ج۲ ،  ص۲۷۲۔



Total Pages: 349

Go To