Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ نہیں  فرمایا تھاکہ ہم عنقریب طواف کعبہ کریں   گے؟ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:   ’’  کیوں   نہیں   لیکن کیا میں   نے یہ کہا تھا کہ اسی سال طواف کریں   گے؟ ‘‘   میں   نے عرض کی:  ’’ نہیں  ۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا:   ’’ تم ضرورآؤ گے اور کعبے کا طواف کرو گے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتےہیں   کہ پھر میں  حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آیا اور عرض کی:   ’’ اےابوبکر! کیا حضور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے نبی نہیں  ؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ کیوں   نہیں  ؟ ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ کیاہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں  ؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ یقیناً ایسا ہی ہے۔ ‘‘   میں   نے کہا:  ’’ پھر ہم دین کے معاملےمیں   اتنا دبائو کیوں   تسلیم کررہے ہیں  ؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اے عمر!بلاشبہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں   ،  اُس کے نافرمان نہیں   ہوسکتے۔ یقینا ً اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِن کا مددگار ہے ،  آپ اپنی جگہ ثابت قدم رہیں  ۔خداکی قسم! وہ حق پر ہیں  ۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ کیا وہ یہ نہیں   فرماتے تھے کہ ہم عنقریب طواف کعبہ کریں   گے؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمانے لگے:  ’’ کیوں   نہیں   ،  کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ فرمایا تھا کہ تم اسی سال طواف کرو گے؟  ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ نہیں  ۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ تو یقین رکھو تم آئندہ سال ضرورآؤ گے اوربیت اللہ شریف کا طواف کرو گے۔ ‘‘  ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  عمرہ کرنے کی نیت سے ہی آئے تھے اور صلح نامے میں   ایک شرط یہ بھی تھی کہ آپ لوگ اِس سال چلے جائیں   اگلے سال آئیں   ،  یہ شرط تمام مسلمانوں   کے لیے ناقابل قبول تھی ،  کیونکہ اِس میں   بظاہر مسلمانوں   کی پستی اور کفار کی برتری نظر آرہی تھی اِسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس پر کلام کیا۔ لیکن یقیناًرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے آئندہ سال پیش آنے والے اِس صلح کے فوائد کو دیکھ رہے تھےجو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی نظروں   سے پوشیدہ تھے ،  اِس لیے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس شرط کو برقرار رکھا۔

اُس وقت تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے جذبات کا اظہار کردیا لیکن بعد میں   جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر وہ تمام حکمتیں   آشکار ہوئیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے:   ’’ مَا زَلْتُ اَتَصَدَّقُ وَاَصُوْمُ وَاُصَلِّيْ وَاَعْتِقُ مِنَ الَّذِيْ صَنَعْتُ يَوْمَئِذٍ مَخَافَةَ كَلَامِيِ الَّذِيْ تَكَلَّمْتُ بِهِیعنی اُس دن جو میں   نے کلام کیا تھا اُس کے خوف سے میں   مسلسل صدقہ کرتا رہا ،  روزے رکھتا رہا ،  نماز پڑھتا رہا اور غلام آزاد کرتا رہا۔ ‘‘   اور سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی روایت میں   ہے کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے:   ’’ لَقَدْ اَعْتَقْتُ بِسَبِبِ ذَلِكَ رِقَابًا وَصُمْتُ دَهْرًایعنی صلح حدیبیہ کے دن جو میں   نے کلام کیا تھا اس کے سبب میں   نے کئی غلام آزاد کیے اور ایک عرصہ تک روزے رکھتا رہا۔ ‘‘  ([2])

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے صلح حدیبیہ سے واپسی کے وقت سورۃ الفتح سب سے پہلے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سنائی اور اِس عزت افزائی سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے اصحاب میں   ممتاز فرمایا۔ گویا اِس صورت میں   یہ حکمت ملحوظ ہوگی کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ غلبات کی قسموں   کے مختلف احکام کی معرفت حاصل کرلیں  ۔ ‘‘  ([3])

شان فاروقِ اعظم اور دو عظیم نکتے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ سے کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں   اپنی آراء کو پیش فرمایا ،  کئی آراء میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خود رَبّ عَزَّ وَجَلَّ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تائید حاصل ہوئی جنہیں   موافقات کے باب میں   ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اور بعض آراء ایسی بھی تھیں   جن کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رجوع فرمایا اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فضل وکرم سے اُن حکمتوں   اور مصالح پر مطلع ہوئے جورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیش نظر تھیں  ۔شاہ وَلِیُّ اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی

انہی آراء کے متعلق مذکورہ بالا روایت کو بیان کرنے کے بعد علم التصوف کے دو ۲لطیف نکتے بیان فرمائے ہیں   جن سے امیر المؤمنین کی بہت بلند شان کریمی ظاہر ہوتی ہے ،  حضرت شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کا یہ خاصہ ہے کہ ایسی دقیق اور لطیف فاروقی شان پر آپ نے ہی قلم اٹھایا ،  ان دو۲ نکات کا خلاصہ پیش خدمت ہے:

پہلا نکتہ:

٭…جب کسی مردِ مؤمن کا نورِ ایمان  ، قلب (دل)کے ساتھ مل کر ایسی کیفیت میں   مبتلا ہوجائے کہ اُس سے ایسی بات صادر ہو جس کا روکنا اُس کی قدرت سے باہر اور بعض اوقات وہ بات بظاہر شرع اور عقل کے بعض آداب کے بھی خلاف ہو جاتی ہے تو ایسی کیفیت کو  ’’ غَلَبَہ ‘‘   کہتے ہیں  ۔ چونکہ یہ کیفیت نورِ ایمان اور طبیعتِ قلب کے سبب پیدا ہوتی ہے  ،  لہٰذااس کیفیتِ غلبہ کی بھی دو قسمیں   ہوئیں  :

(1)… وہ غلبہ کہ قلب پر کسی حکم شریعت کے غالب آجانے سے پیدا ہوتا ہے لیکن درحقیقت اس وقت شریعت کو اس حکم پر عمل مطلوب نہیں   ہوتا۔جیسے غزوۂ بنی قریظہ میں   جب مسلمانوں   نے کفار پر غلبہ حاصل کرلیا تو انہوں   نے بات چیت کرنے کے لیے حضرت سیِّدُنا ابولبابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی



[1]    بخاری ، کتاب الشروط ، باب الشروط فی الجھاد۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۲۲۶ ،  حدیث: ۲۷۳۲ مختصرا۔

[2]    ارشاد الساری ،  کتاب الشروط ،  باب الشروط فی الجھاد ،  ج۶ ،  ص۲۳۲ ،  تحت الحدیث: ۲۷۳۲۔

[3]    ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ، ص۱۷۲۔



Total Pages: 349

Go To