Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وہاں   وضو کیا  ،  پھر نماز عصر ادا کی اور اُس کے بعد نماز مغرب ادا کی۔([1])

اپنی نمازوں   کی حفاظت کیجئے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نمازوں   کی ادائیگی کا جذبہ صد کروڑ مرحبا! اگرچہ کفار سے جنگ کی مصروفیت کے سبب نماز فوت ہوگئی مگر پھر بھی دل میں   ملال پیدا ہوا۔ مگر آہ!صد کروڑ تعجب اور

افسوس ہے اُن لوگوں   پر جونہ تو راہ خدا کےمجاہد ،  نہ کوئی شرعی مجبوری ،  پھربھی نماز وں  میں   سستی کرتے ہیں   ،  یقیناً :

٭…نماز دین کا ستون ہے ،  نمازوں   میں   سستی دنیا وآخرت کی تباہی کا باعث ہے۔

٭…نماز سے روزی میں   برکت ہوتی ہے  ،  نمازوں   میں   سستی رزق میں   تنگی کا باعث ہے۔

٭…نماز قبر کو روشن کرتی ہے  ، نماز وں  میں   سستی قبر میں   اندھیرے کا باعث ہے۔

٭…نمازخَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں   کی ٹھنڈ ک ہے ،  نمازوں   میں   سستی اُن کی تکلیف کا باعث ہے۔

٭نماز پل صراط کے لیے آسانی ہے  ، نمازوں   میں   سستی پل صراط کو پار کرنے میں   مشکل کا باعث ہے۔

٭…نماز سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ملتی ہے  ، نمازوں   میں   سستی رب کی ناراضگی کا باعث ہے۔

٭…نمازی کو کل بروز قیامت بے شمار انعامات ملیں   گے ، بے نمازی کو سخت تکالیف کا سامنا ہوگا۔

یقیناً! سمجھدار وہی ہے جو اپنی نمازوں   کی حفاظت کرے ،  نمازوں   میں   سستی سے اپنے آپ کو بچائے اور اپنی آخرت کو داؤ پہ لگانے کے بجائے نمازوں   کے ذریعے اُسے منور کرے ،  اگر خدانخواستہ پہلے نمازوں   میں   سستی کرتے تھے تو اب اُس سے سچی پکی توبہ کریں   اور قضا نمازوں   کا حساب لگا کر ان کی ادائیگی کی ترکیب بنائیں   اور آئندہ کسی بھی نماز میں   سستی نہ کرنے کا عہد کریں   ،  باجماعت نماز ادا کرنے کی بھرپور کوشش فرمائیں  ۔

کر لے توبہ رب کی رَحمت ہے بڑی

قبر میں   ورنہ سزا ہوگی کڑی

شیخ طریقت  ، امیر اہلسنت  ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطا کردہ مدنی انعامات پر عمل کرنے کی کوشش فرمائیں    ، اور مدنی انعامات کا رسالہ پر کرکے ہر ماہ اپنے ذمہ دار کو جمع کروائیں   ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس کی برکت سے پابند سنت بننے  ،  نمازوں   کی ادائیگی کے لیے کُڑھنے ،  نمازوں   میں   سستی سے بچنے ،  باجماعت نماز ادا کرنے ،  اِیمان کی حفاظت کے لیے کُڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہر اسلامی بھائی اپنایہ مدنی ذہن بنائے کہ ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے۔

اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ‘ اَپنی اصلاح کے لیے مدنی اِنعامات پر عمل اور ساری دنیا کی اصلاح کی کوشش کے لیے جدول کے مطابق مدنی قافلوں   میں   سفر کرنا ہے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں 

اے دعوت اسلامی تری دھوم مچی ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۶ ہجری) غَزْوَۂ حُدَیْبِیَّہ اور فاروقِ اعظم

٭… ’’ غَزوۂ حدیبیہ ‘‘   کو  ’’ صلح حدیبیہ ‘‘   بھی کہتے ہیں  ۔ کیونکہ اِس میں   کوئی جنگ نہ ہوئی بلکہ ایک معاہدے پر صلح ہوگئی۔حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اِس غزوہ کے لیے مدینہ منورہ سے پیر کے روز یکم ذی قعدہ کوتقریباً چودہ سو ۱۴۰۰صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ روانہ ہوئے۔جبکہ ایک قول کے مطابق آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی تعداد پندرہ سو۱۵۰۰ تھی۔ ([2])

٭…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ منورہ میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن اُمّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ بعض علماء کے نزدیک آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ



[1]    بخاری ،  کتاب المغازی ،  غزوۃ الخندق۔۔۔الخ ،   ج۳ ،  ص۵۴ ،  حدیث: ۴۱۱۲۔

[2]    المنتظم ،  وفی ھذہ السنۃ۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۲۶۷ ،  شرح الزرقانی علی المواھب ،  امر الحدیبیۃ ،  ج۳ ،  ص۱۷۰۔

                                                طبقات کبری ،  غزوۃ رسول اللہ الحدیبیۃ ،  ج۲ ،  ص۷۳۔



Total Pages: 349

Go To