Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…حضرت سیِّدُنا زید بن ارقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان بھی ظاہر ہوئی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُن کی تصدیق اور عبداللہ بن اُبی منافق کی تکذیب میں   سورۃ المنافقون کی آیات مبارکہ نازل فرمائیں  ۔

٭…مذکورہ بالا روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر کام میں   ڈھیروں   حکمتیں   پوشیدہ ہوتی ہیں   ،  کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے مختلف اُمور کے اَنجام کو بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں   ،  بعض اوقات آپ کسی کام کو کرنے سے منع فرماتے ہیں   کہ اُس وقت اُس کام کو نہ کرنے میں   زیادہ فائدہ ہوتا ہے ،  اور بعض اوقات کسی کام کو فی الفور کرنے کا حکم اُرشاد فرماتے ہیں   کہ اُس کو فی الفور کرنے میں   ہی فوائد ہوتے ہیں  ۔جیسا کہ مذکورہ بالا واقعے میں   سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آپ نے قتل کرنے سے منع فرمایااور اس کی حکمت بھی خود ہی ارشاد فرمائی۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر فعل میں   بہت برکتیں   ہیں   اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں   اِس مبارک عقیدے کو بیان فرمایا کہ  ’’ وَاللہِ عَلِمْتُ لَاَمْرُرَسُوْلِ اللہِ اَعْظَمُ بَرَكَةً مِنْ اَمْرِيْیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! مجھ پر یہ بات آشکار ہوگئی کہ میرے فعل کے مقابلے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک فعل میں   بہت بڑی برکت تھی۔ ‘‘  نیز سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ بیان اِس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خیر وبرکت کا باعث سمجھتے تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ سے عظیم برکتیں   حاصل ہوتی ہیں  ۔یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے مبارک عقائد رکھنے اُن پر عمل کرنے اور اُسے دوسروں   کوبھی سکھانے کی توفیق مرحمت فرما۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(۵ ہجری)غَزْوَۂْ  خَنْدَقْ اور فاروقِ اعظم

٭ ’’ غزوۂ خندق ‘‘   کو  ’’ غزوۂ اَحزاب ‘‘   بھی کہا جاتاہے۔یہ غزوہ سن ۵ ہجری شوال کے مہینے میں   وقوع پذیر ہوا۔ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۸ ذیقعدہ کو غزوۂ خندق کے لیے نکلے۔([1])

٭…اِس غزوہ میں   مسلمانوں   کی تعداد تین ہزار۳۰۰۰تھی ،  جبکہ مشرکین کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی۔حضور نبی ٔکریم ، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس غزوہ میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن اُمّ مکتوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ منورہ میں   اپنا نائب مقرر فرمایا۔اِس کو ’’ غزوۂ خندق ‘‘   اِس لیے کہتے ہیں   کہ اِس میں   مسلمانوں   کی طرف سے ایک بہت بڑی خندق کھودی گئی تھی۔جبکہ ’’ غزوۂ اَحزاب ‘‘  کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اُس میں   کفار کی طرف سے مختلف قبائل نے شرکت کی تھی اور عربی میں   ’’ حزب ‘‘  گروہ یا قبیلے کو کہتے ہیں   جس کی جمع  ’’ اَحزاب ‘‘   ہے۔([2])

٭…اِس غزوے کا باعث یہودیوں   کی اِسلام دشمنی اور سازشی ذہنیت تھی اسی لیے حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اُنہیں   جلا وطن کردیا تھا جو مختلف شہروں   میں   جاکر آباد ہوگئے تھے۔ اُن میں   سے خیبر میں   رہنے والے کفارِ مکہ کے پاس آئے اور اُن سے حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے عداوت اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی شہادت پر عہد وپیمان کیا ،  پھر وہی یہودی دیگر قبائل میں   گئے اور مسلمانوں   کے خلاف اُن سے معاہدے کیے۔بارگاہِ نبوی میں   جب یہ خبر پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے مشورے سے دشمنوں   کے مقابلے کے لیے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔خندق کی کھدائی کے دوران ایک بہت بڑا چٹان نکل آئی جس کی وجہ سے کھدائی میں   رکاوٹ پیدا ہونے لگی۔دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کدال لے کر  ’’ بِسْمِ اللہ ‘‘   پڑھ کر ایک ضرب لگائی جس سے اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔

٭…فرمایا:   ’’ اَللّٰهُ اَكْبَرُ اُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللّٰهِ اِنِّي لَاَبْصُرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي

 هَذَایعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت بڑا ہے! مجھے ملک شام کی کنجیاں   عطا کی گئی ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   سرخ محلات اپنی اِس جگہ سے دیکھ رہاہوں  ۔ ‘‘ 

٭… پھر ’’ بِسْمِ اللہ ‘‘   پڑھ کر دوسری ضرب لگائی تو دوسری تہائی ٹوٹ گئی اور فرمایا:   ’’ اَللّٰهُ اَكْبَرُ اُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللّٰهِ اِنِّي لَاَبْصُرُ الْمَدَائِنَ وَاَبْصُرُ قَصْرَهَا الْاَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَایعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت بڑا ہے!مجھے فارس (ایران) کی کنجیاں   عطا کی گئی ہیں   اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   اُس کے شہروں   کودیکھ رہا ہوں   اور اُس کے سفید محلات کو یہاں   اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں  ۔ ‘‘   

٭…پھر  ’’ بِسْمِ اللہ ‘‘   پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو سارا پتھر ٹوٹ گیا اور فرمایا:  ’’ اَللّٰهُ اَكْبَرُ اُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللّٰهِ اِنِّي لَاَبْصُرُ اَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَایعنی اللہ عَزَّ



[1]    فتح الباری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ الخندق۔۔۔الخ ،  ج۸ ،  ص۳۳۵ ،  تحت الحدیث: ۴۱۰۰۔

                                                 طبقات کبری ،  غزوۃ رسول الخندق ۔۔۔ الخ ،   ج۲ ،  ص۵۱۔

[2]    فتح الباری ،  کتاب المغازی ،  باب غزوۃ الخندق۔۔۔الخ ،  ج۸ ،  ص۳۳۵ ،  تحت الحدیث: ۴۱۰۰۔

                                                کتاب المغازی ،  غزوۃ الخندق ،  ج۲ ،  ص۴۴۱۔



Total Pages: 349

Go To