Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

از شیخ طریقت ،  امیر اہلسنّت  ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ

اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تبلیغ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘   نیکی کی دعوت ،  اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں   عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے ،  اِن تمام اُمور کو بحسنِ خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدد مجالس کا قیام عمل میں   لایا گیا ہے جن میں   سے ایک  ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘بھی  ہے جو دعوتِ اسلامی کے عُلما و مُفتیانِ کرام کَثَّرھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی پر مشتمل ہے ،  جس نے خالص علمی ،  تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اِس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں  :

            (۱)شعبۂ کتُبِ اعلی حضرت       (۲)شعبۂ درسی کُتُب         (۳)شعبۂ اصلاحی کُتُب    

            (۴)شعبۂ تراجمِ کتب                      (۵)شعبۂ تفتیشِ کُتُب          (۶)شعبۂ تخریج

 ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘  کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلی حضرت اِمامِ اَہلسنّت ، عظیم البَرَکت ،  عظیم المرتبت ،  پروانۂ شمعِ رِسالت ،  مُجَدِّدِ دین و مِلَّت ،  حامی سنّت ،  ماحی بِدعت ،  عالم شریعت ،  پیرطریقت ،  باعثِ خیر و بَرَکت ،  حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں   مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں   کے مطابق حتَّی الْوَسْعْ سَہْل اُسلُوب میں   پیش کرنا ہے۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں   اِس عِلمی ،  تحقیقی اور اِشاعتی مدنی کام میں   ہر ممکن تعاون فرمائیں   اور مجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں   اور دوسروں   کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں  ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘   کی تمام مجالس بَشُمُول  ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘  کو دن گیارہویں   اور رات بارہویں   ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرما کر دونوں   جہاں   کی بھلائی کا سبب بنائے۔ ہمیں   زیرِ گنبدِخضراء شہادت ،  جنّت البقیع میں   مدفن اور جنّت الفردوس میں   جگہ نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

                                                                                                                                   

رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَاَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

گفتار وکردار کے حقیقی غازی۔۔۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  وہ نفوسِ قدسیہ ہیں   جنہوں   نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رُخِ روشن سے اپنی آنکھوں   کو ٹھنڈا کیا ،  آپ کی رفاقت وصحبت کا لازوال شرف حاصل کیا ،  دین حق کو پھیلانے  ،  اسلام کو سربلند کرنے کےلیے ان کے عظیم الشان کارنامے قوت ایمانی کے ایسے روشن چراغ ہیں   جو قیامت تک آنے والے انسانوں   کو کا میابی کا سیدھا راستہ دکھاتے رہیں   گے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِن حقیقی عاشقوں   نے راہِ حق میں   جو مصائب وآلام برداشت کیے انہیں   پڑھ کر جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ،  انہوں   نے دین متین کی سربلندی کے لیے ہر میدان میں   ایسی بے مثال قربانیاں   دیں   کہ اُن کا اجتماعی وانفرادی کردار مسلمانوں   کے لیے منارۂ نور بن گیا۔ شرف صحابیت تو تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   مشترک تھا ،  مگر اُن کے مراتب میں   فرق ہے ،  یہ فرق اُن کے زمانۂ قبولِ اِسلام ،  بارگاہِ نبوی میں   تقرب اور بعض دوسرے خصائل وفضائل کی بنا پر ہے ،  سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سب پر فضیلت عطا فرمائی اور خود سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے وصال کے وقت سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفہ منتخب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :   ’’ الٰہی میں   نے تیری مخلوق پر روئے زمین کے سب سے بہتر انسان کو خلیفہ بنایا۔ ‘‘ 

سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مرادِ رسول تھے ،  آپ کا قلب انوارِ الٰہی سے روشن تھا ،  شمع رسالت سے روشنی پانے کے بعد وہ خود بھی منبع نور وہدایت (روشنی وہدایت کا سرچشمہ)بن گئے تھے ،  آپ کی بصیرت ودانش جہاں   عقل وخرد کو شادابی اور تازگی بخشتی تھی ،  وہیں   آپ کی فہم و فراست ان واقعات و حقائق کا بھی ادراک کرلیتی تھی جو مستقبل کے پردوں   میں   چھپے ہوتے تھے ،  سچ اور جھوٹ کی پہچان کرنے میں   مہارت تامہ رکھتے تھے ،  آپ نے اپنی ذات کو عمل کے سانچے میں   اس طرح ڈھالا تھا کہ آپ کے اخلاق وکردار تربیتی دروس کی حیثیت اختیار کر گئے تھے ،  آپ کی جرأت وبہادری ،  عاجزی وسادگی ،  ہمت ومردانگی ،  بلند حوصلہ واستقامت ، دیانت وامانت ،  ذہانت وفطانت اور انابت وخشیت (توبہ وخوف خدا)کی مثالیں   تاریخ کے صفحات پر اس طرح چمک رہی ہیں   کہ انہیں   دیکھ کر آنکھیں   چندھیا جائیں  ۔

شادی بیاہ کے معاشرتی معاملات ،  اَولاد کی مدنی تربیت ،  اہل خانہ کے حقوق کی پاسداری ،  عزیزوں   ودیگر رفقاء کے ساتھ ملن ساری ،  عزت داروں   کی عزت کی حفاظت ،  احساس ذمہ داری اور رعایا کی خبر گیری ،  غلاموں   سے حسن سلوک اور ان کے حقوق کی نگہداشت ،  غیر مسلم رعایا کے حقوق کی ضمانت ،  خواتین کے مسائل ومشکلات سے باخبری اور ان تمام مسائل کے حل میں   مدد و تعاون ،  بچوں   میں   گھل مل کراپنے ساتھ مانوس کرلینا ،  بیت المال کا بہترین نظام ،  ریاست میں   عدل ومساوات کا قیام ،  ظلم وتشدد کی روک تھام ،  ظالموں   ولٹیروں   کے احتساب کا اہتمام ،  بے زبان جانوروں   پر بھی حد درجہ مہربان ،  قرآن وسنت کی تعلیمات اور ان کی ترویج کا بہترین انتظام ،  سختی کے وقت ایسی شدت کہ دریاؤں   کے دل دہل جائیں   ،  ہلتی زمین ساکن ہوجائے ،  شیطان اپنا راستہ تبدیل کردے اورپہاڑ کانپ اٹھیں   مگر نرمی کے وقت ایسی نرمی کہ ریشم بھی شرمسار ہوجائے ،  کمزوروں   اور بیکسوں   کے سامنے حوصلہ پیدا کرنے والی عاجزی وانکساری ،  ظلم وجفا کے مقابلے پر صلابت (پختگی) ،  اہل علم وتقویٰ کی عزت وتوقیر ،  اہل شروفساد کی بیخ کنی ،  مشورہ دینے میں    جرأت وصراحت ،  اِجتماعی فیصلہ قبول کرنے میں   کامل وسعت ،    



Total Pages: 349

Go To