Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

روایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے سیرتِ فاروقی کے نایاب پہلوؤں   سمیت علم وحکمت کے بے شمار مدنی پھول ملتے ہیں   ،  چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں  :

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی عطا سے باکمال فراست کے مالک تھے ،  لوگوں   کو دیکھتے ہی اُن کو پہچان لیتے تھے ،  بلکہ اُن کے عزائم کو بھی جان لیتے تھے کہ فلاں   شخص کس نیت سے آیا ہے۔

٭…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے دشمنوں   سے شدید بغض اور نفرت کیا کرتے تھے ،  دین کے دشمن آپ کو ایک نظر نہ بھاتے تھے ،  اُن کو دیکھتے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی جوش میں   آجاتی۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی محبت ونفرت صرف اور صرف   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کے لیے ہوتی تھی۔

٭…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی جان سے زیادہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان عزیز تھی ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی حفاظت کرنا آپ کے ایمان کی جان تھی ،  یہی وجہ تھی کہ خطرے کی بو محسوس کرتے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بذات خود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حفاظت کے لیے بارگاہِ رسالت میں   بھیج دیا۔

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تویہ باکمال فراست تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی شخص کے چہر ے کو دیکھ کر پہچان لیا کرتے تھےکہ وہ کس اِرادے سے آیا ہے ،  جب آپ پر اُس کا ارادہ ظاہر ہوا جس کا قرینہ اُس کی تلوار تھی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً اُسے پکڑ کر بارگاہِ رسالت میں   پیش کردیا ،  نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی معظم دینی ،  یا شعائر اسلام کی توہین کرنے کے اِرادے سے اُن کی طرف کوئی اَسلحہ وغیرہ لے کر بڑھے تو اُسے اِس سے روکا جائے گا ،  نیز اُسے پکڑ کر خود سزا دینے کے بجائے قانون کے حوالے کردیا جائے کہ نقصان پہنچانے کے بعد پکڑنے سے مزید نقصان سے بچت تو ہوسکتی ہے لیکن جو نقصان ہو گیا اُس کی تلافی بہت مشکل ہے۔

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی حفاظت سے متعلق سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مبارک فعل اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دشمنوں   اور شریروں   کے شر سے بچانے کے لیے چھوٹوں   کا اپنے بزرگوں   کے لیے حفاظتی اقدامات کرنا بہت ضروری ہےاور یہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سنت مبارکہ ہے۔

٭…اِس مبارک روایت کے ابتدائی حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ غزوۂ بدر میں   مسلمانوں   کی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے غیبی مدد ،  دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک ذات سے ظاہر ہونے والے معجزات اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غزوۂ بدر میں   جو بارگاہِ رسالت سے انعام واکرام ملے انہیں   اپنے لیے باعث سعادت اور باعث فخر سمجھتے تھے اور دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ساتھ مل بیٹھ کر ان کا تذکرہ بھی کیا کرتے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   کو یاد کیا کرتے تھے۔

فاروقِ اعظم کے پرپوتے اور غزوۂ بدر کا ذکر:

                آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اُن سعادتوں   کا چرچہ آپ کی اولاد میں   بھی منتقل ہوتا رہا ،  یہاں   تک کہ اگر اُن کے سامنے کوئی غزوۂ بدر کا واقعہ بیان کردیتا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھتے۔ چنانچہ غزوۂ بدرکے مشہور واقعات میں   ایک عظیم واقعہ اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا معجزہ یہ بھی ہے کہ اُس دن حضرت سیِّدُنا قتادہ بن نعمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھ زخمی ہوگئی  ،  چوٹ لگنے کے باعث وہ اپنی جگہ سے نکل کر رُخسار پر ڈھلکنے لگی ،  لوگوں   نے چاہا کہ اُسے کاٹ ڈالیں   لیکن وہ بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے اور شکایت کی تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے اپنی جگہ دبا کر اپنا لعاب مُبارک لگادیا تو وہ آنکھ فی الفور اِس طرح ٹھیک ہوگئی کہ دیکھنے والے دیکھ کر حیران رہ جاتے اور نہ پہچان پاتے کہ دونوں   آنکھوں   میں   سے صحیح آنکھ کون سی تھی ؟ اور زخمی آنکھ کون سی تھی؟

حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد میں   سےکوئی شخص امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پرپوتے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (جنہیں    ’’  عمرِثانی ‘‘   بھی کہا جاتا ہے) اِن کے دربار میں   حاضر ہوا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے اُس شخص سے اِستفسار فرمایا کہ تم کون ہو؟ وہ شخص چونکہ جانتا تھا کہ میرے جد اَمجد یعنی حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اِن کے جد اَمجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   غزوۂ بدر میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک تھے ،  لہٰذا اُس نے فی البدیہہ یعنی اُسی وقت فورا ًدو اشعار پڑھ کے اپنا تعارف کروایا۔وہ اشعار یہ ہیں  :

اَنَا اِبْنُ الَّذِيْ سَالَتْ عَلَى الْخَدِّ عَيْنُهُ

فَرُدَّتْ بِكَفِّ الْمُصْطَفٰى اَحْسَنَ الرَّدِّ

ترجمہ:  ’’ یعنی میں   ان کا بیٹا ہوں   جن کی غزوۂ بدرمیں   رخسار پر آنکھ بہہ گئی تھی ،  پھر دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دستِ مبارک سے اپنی جگہ نہایت ہی خوبصورتی سے لوٹ آئی ۔ ‘‘ 

فَعَادَتْ کَمَا كَانَتْ لِاَوَّلِ اَمْرِهَا

 



Total Pages: 349

Go To