Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ماں   شریک بھائی ہیں   کہ ان کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سیِّدُنا عفراء بنت عبید انصاریہ نجاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  ہے ،  پہلے شوہر حارث بن رفاعہ اَنصاری کی وفات کے بعد بکیر بن عبد یالیل کے نکاح میں   آئیں  ۔ بکیر بن عبد یالیل سے اُن کے ہاں   چار بیٹے پیدا ہوئے جن کے اَسماء یہ ہیں  :

حضرت سیِّدُنا اَیاس بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔                حضرت سیِّدُنا عاقل بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

حضرت سیِّدُنا خالد بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔                 حضرت سیِّدُنا عامر بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

اِن سے قبل حارث بن رفاعہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے تین بیٹے تھے ،  جن کے اَسماءیہ ہیں  :

حضرت سیِّدُنا معوذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔حضرت سیِّدُنا عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے یہ ساتوں   بیٹے جنگ بدر میں   شریک ہوئے ،  اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے یہ ایک عظیم شرف ہے نیز یہ اَمر عجائبات میں   سے ہے کیونکہ اِن کے علاوہ کوئی اور سات بھائی جنگ بدر میں   موجود نہ تھے۔([1])

فاروقِ اعظم کے ساتھ ملائکہ کی رفاقت:

غزوۂ بدر کے موقع پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ

 اللہ تعالٰیکی طرف سے مدد کے لیے آنے والے ملائکہ کی آپ کو رفاقت حاصل ہوئی۔ چنانچہ ،

حضرت سیِّدُناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں   کہ غزوۂ بدر کے موقعے پرخَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق وسیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ارشاد فرمایا:  ’’ تم میں   سے ایک کے ساتھ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام )اور ایک کے ساتھ میکائیل (عَلَیْہِ السَّلَام) ہیں۔‘‘   ([2])

بدرکے  سب سے پہلے شہید فاروقِ اعظم کے غلام تھے:

غزوۂ بدر میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ بھی عظیم سعادت حاصل ہوئی کہ مسلمانوں   کی طرف سے جس صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب سے پہلے جام شہادت نوش کیا وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام  ’’ مِھْجَعْ ‘‘   تھے۔ حضرت علامہ امام محی الدین شرف نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ مِھْجَعْ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام ہیں   اور مسلمانوں   میں   سے یہ وہ پہلے صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   جو بدر کے دن شہید ہوئے ، اس طرح کہ یہ دو صفوں   کے درمیان میں   تھے انہیں   ایک تیر آکر لگا اور جام شہادت نوش کرلیا اور یہ یمنی صحابی تھے۔حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ یہ آیت مبارکہ انہی حضرت مہجع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا بلال ،  سیِّدُنا صہیب ،  سیِّدُنا خباب ،  سیِّدُنا عمار ،  سیِّدُنا عتبہ بن غزوان ،  سیِّدُنا اوس بن خولی ،  سیِّدُنا عامر بن ابی فہیرہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے بارے میں   نازل ہوئی:  (وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۲))  (پ۷ ،  الانعام: ۵۲) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور دور نہ کرو انہیں   جو اپنے رب کو پکارتے ہیں   صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں   اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں   پھر انہیں   تم دور کرو تو یہ کام اِنصاف سے بعید ہے ۔ ‘‘ 

اِس آیت مبارکہ کا شانِ نزول کچھ یوں   ہے کہ  ’’ کُفّار کی ایک جماعت دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں   آئی انہوں   نے دیکھا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے گرد غریب صحابہ کی ایک

جماعت حاضر ہے جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں    ،  یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں   اِن لوگوں   کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے  ،  اگر آپ اِنہیں   اپنی مجلس سے نکال دیں   تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں   اور آپ کی خدمت میں   حاضر رہیں    ،  حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِس کو منظور نہ فرمایا ۔ اِس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ‘‘ ([3])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے غلام کا اعزاز:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام حضرت سیِّدُنا مِھْجَعْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بدر کے دن سب سے پہلے جام شہادت نوش کیا تو سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کے لیے ارشاد فرمایا:   ’’ سَیِّدُ الشُّھَدَا ءِ مِھْجَع وَهُوَ اَوَّلُ مَنْ يُّدْعٰى اِلٰى بَابِ الْجَنَّةِ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ یعنی مِھْجَعْ شہداءکے سردار ہیں   اور میری امت میں   قیامت کے دن جسےسب سے پہلے جنت کے دروازے کی طرف بلایا جائے گا وہ یہی ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کے داماد کا اعزاز:

اسی غزوۂ بدر میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے داماد اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   کے پہلے شوہر حضرت سیِّدُنا خنیس بن حذافہ سہمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی شریک تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کوجنگ احد میں   زخم لگے تھے اور وہی زخم آپ کے انتقال کا



[1]    الاصابۃ  ، کتاب النساء ، حرف العین المھملۃ ، ج۸ ، ص۲۴۰ ، الرقم: ۱۱۴۸۵ ، البدایۃوالنھایۃ ، ج۳ ، ص۹۰۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکرفی  ابی بکر ،  ج۷ ،  ص۴۷۵  ،  حدیث:  ۳۲ مختصرا۔

[3]    تھذیب الاسماء  ، مھجع ، ج۲ ،  ص۴۱۸ ،    خزائن العرفان ،  پ۷ ،  الانعام:  ۵۲۔

[4]    روح المعانی ،  پ۲۰ ،  ج۲۰ ،  ص۴۵۶ ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  تفسیر خازن ،  پ۲۰ ،  ج۳ ،  ص۴۴۵ ،  تحت الآیۃ



Total Pages: 349

Go To