Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے مانع نہ ہوئی۔

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان میں   قرآن پاک کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:  (.لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۲۲)) (پ۲۸ ،  المجادلۃ: ۲۲)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تم نہ پاؤ گے ان لوگوں   کو جو یقین رکھتے ہیں   اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں   ان سے جنہوں   نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں   یہ ہیں   جن کے دلوں   میں   اللہ نے اِیمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں   باغوں   میں   لے جائے گا جن کے نیچے نہریں   بہیں   ان میں   ہمیشہ رہیں   اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے ،  سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے ۔ ‘‘ 

اِس آیت مبارکہ میں   لفظ  ’’ اَوْ عَشِیْرَتَھُمْ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   نازل ہوا ہے۔  ([1])

فاروقی قبیلے کے کفار کا بدرمیں   شریک نہ ہونا:

جنگ بدرمیں   کفار قریش کی طرف سے تقریباً تمام قبائل کے اَفراد نے شرکت کی لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبیلے میں   سے آپ کے ماموں   عاص بن ہشام بن مغیرہ کے علاوہ کسی فرد نے بھی کفار کی طرف سے شرکت نہ کی ،  ہوسکتا ہے کہ آپ کے قبیلے والے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت اِیمانی اور رُعب ودبدبے کی وجہ سے شامل نہ ہوئے۔چنانچہ علامہ ابن جریر طبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتےہیں  :   ’’ وَلَمْ يَكُنْ بَقِيَ مِنْ قُرَيْشٍ

 بَطَنَ اِلَّا نَفَرٌ مِّنْهُمْ نَاسٌ اِلَّا بَنِيْ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ لَمْ يَخْرُجْ مِنْهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌیعنی جنگ بدر میں   قبائل قریش میں   سے کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کے اَفراد شریک نہ ہوئے ہوں   ما سوا بنی عدی بن کعب کے کہ اِس قبیلے کا ایک فرد بھی جنگ کےلیے نہ نکلا۔ ‘‘  ([2])

فاروقی قبیلے کے مسلمانوں   کی بدر میں   شرکت:

اِس غزوۂ بدر میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبیلے یا اُن کے حلیف قبیلے میں   سے جن مسلمان صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے شرکت کی اُن کی تعداد تقریباً ۱۳ ہے۔تمام کے اَسماء درج ذیل ہیں  :

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بڑے بھائی حضرت سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سراقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا عمرو بن سراقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔(یہ دونوں   بھی بھائی ہیں  ۔)

٭حضرت سیِّدُنا واقد بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔

٭حضرت سیِّدُنا خولی بن ابی خولی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا مالک بن ابی خولی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا عامر بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا عاقل بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا خالد بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا ایاس بن بکیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔

٭حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔

٭حضرت سیِّدُنا عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔([3])

غزوۂ بدر میں   فاروقِ اعظم کا عظیم شرف:

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غزوۂ بدر میں   ایک عظیم شرف یہ بھی حاصل ہوا کہ مسلمانوں   کی طرف سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حلیف قبیلے کے ایک ہی گھر کے سات بھائی اکھٹے جنگ بدر میں   شریک ہوئے۔مذکورہ بالا ناموں   میں   آخری سات نام انہی بھائیوں   کے ہیں  ۔البتہ یہ سات بھائی اخیافی یعنی



[1]    روح البیان ،  پ۲۸ ،  المجادلۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ج۹ ،  ص۴۱۳۔

[2]    تاریخ طبری ،  ذکر وقعۃ بدرالکبری ،  ج۲ ،  ص۲۹۔

[3]    البدایۃ والنھایۃ ، ج ، ۳ص۸۸تا۹۴ ، الاصابۃ  ، عفراءبنت عید۔۔۔ الخ ، ج۸ ، ص۲۴۰ ،  الرقم: ۱۱۴۸۵۔اسدالغابۃ ، حرف العین  ، ج۷ ، ص۲۱۳ ، الرقم: ۷۱۰۵۔



Total Pages: 349

Go To