Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اشارہ) ہو۔وہ جب بھی کوئی بات کرے تو حق کے موافق ہو اور یقیناً کسی بندے کے لیے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے یہ بہت بڑے مرتبے اور شرف کی بات ہےاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس عزت وعظمت سے تمام لوگوں   میں   سب سے زیادہ مشرف فرمایا۔اور خود حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ مُحَدَّث ‘‘   ارشاد فرمایا۔چنانچہ ،  حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ پچھلی اُمتوں   میں   کچھ لوگ مُحَدَّث ہوتے تھے ،  اگر میری امت میں   ان میں   سے کوئی ہوگا تووہ بلا شبہ عمر بن خطاب ہے۔ ‘‘  ([1])

علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خاص طور پر ذکر کرنے کا سبب یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کلام کی موافقت میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ مبارکہ میں   ہی بہت سی آیات نازل ہوگئی تھیں  ۔اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ مبارکہ کے بعد بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے ہمیشہ حق کے موافق ہی رہی۔([2])

(8)لقب ’’ مُراد رسول ‘‘  اور اس کی وجہ

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  ’’ مرادِ رسول ‘‘   بھی کہا جاتاہے۔کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مراد ہیں   اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   اپنے رب عَزَّ وَجَلَّسے مانگا ۔چنانچہ  اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   یوں   دعا فرمائی:   ’’ اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّۃً یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! خصوصاًعمر بن خطاب (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے اسلام کو عزت عطا فرما۔([3])معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ ہستی ہیں   جن کی اسلام آوری کے لیے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خصوصی دعا فرمائی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گویا مرادِ رسول ہیں  ۔

(9)لقب  ’’ مِفْتَاحُ الْاِسْلَام ‘‘   اور اس کی وجہ

اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو ’’ مفتاح الاسلام ‘‘  بنایا ہے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھ کر مسکرادیئے اور ارشاد فرمایا:   ’’ اے ابن خطاب ! تمہیں   معلوم ہے میں   کیوں   مسکرایا؟ ‘‘   عرض کیا:  ’’  اَللہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہی بہتر جانتے ہیں  ۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عرفات کی رات تمہاری طرف شفقت و رحمت کی نظر فرمائی اور تمہیں   مِفْتَاحُ الْاِسْلَام (یعنی اسلام کی چابی) قرار دیا۔ ‘‘  ([4])

(10)لقب  ’’ شہید المحراب ‘‘   اور اس کی وجہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک لقب  ’’ شَھِیْدُ الْمِحْرَاب ‘‘   بھی ہے ،  اس کی وجہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر قاتلانہ حملہ نماز فجر میں   اس وقت ہوا جب آپ نے اِمامت شروع کروائی یقیناً اُس وقت آپ محراب میں   موجود تھے اور اُسی سے آپ کی شہادت ہوئی اسی لیے آپ کو  ’’ شَھِیْدُ الْمِحْرَاب ‘‘   کہا جاتا ہے۔آپ کی شہادت کے تفصیلی واقعات اسی کتاب میں   وصال کے باب میں   ملاحظہ کیجئے۔

(11)لقب  ’’ شیخ الاسلام ‘‘   اور اس کی وجہ

سیِّدُنا ابوبکر وعمر شیخ الاسلام ہیں  :

(1)حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کی بارگاہ میں   ایک قرشی شخص آیا اور عرض کرنے لگا:   ’’ ہم آپ کو خطبے میں   یہ دعا مانگتے ہوئے سنتے ہیں  :  اَللّٰہُمَّ اَصْلِحْنَا بِمَا اَصْلَحْتَ بِہِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِي ِیِّیْنَیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   بھی ان خوبیوں   کے ساتھ آراستہ فرما جن کے ساتھ تونے ہدایت یافتہ اورہدایت دینے والے خلفاء کو آراستہ فرمایا۔ تو ان خلفاء سے مراد کون سی مبارک ہستیاں   ہیں  ؟ ‘‘  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ غمگین ہوگئے اور آپ کی آنکھوں   سے آنسو جاری ہوگئے ،  ارشاد فرمایا:   ’’ ھُمْ حَبِیْبَایَ  اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ اِمَامَا الھُدٰى وَشَیْخَا الْاِسْلَامِ وَرِجْلَا قُرَیْشٍ وَالْمُقْتَدٰى بِهِمَا بَعْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اقْتَدٰى بِهِمَا عُصِمَ وَمَنِ اتَّبَعَ آثَارَھُمَاھُدِیَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ  وَ مَنْ تَمَسَّكَ بِهِمَا فَھُوَمِنْ حِزْبِ اللہِ  وَحِزْبُ اللہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یعنی میری مراد میرے دو محبوب دوست حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں   ،  یہ دونوں   ہدایت کے امام ہیں   ،  شیخ الاسلام ہیں   ،  مردان قریش ہیں   ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بعد ان ہی دونوں   کی اقتداء کی جاتی ہے ،  جس نے ان دونوں   کی اقتداء کی وہ محفوظ ہوگیا اور جس نے ان دونوں   کی سیرتِ طیبہ پر عمل کیا وہ صراط مستقیم



[1]     بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۷ ،  حدیث: ۳۶۸۹۔

[2]     فتح الباری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن اٰلخطاب۔۔۔الخ ،  ج۸ ،  ص۴۴ ،  تحت الحدیث: ۳۶۸۹ ملخصا۔

[3]     ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،  فضل عمر رضی اللہ تعالی عنہ ،  ج۱ ،  ص۷۷ ،  حدیث:  ۱۰۵۔

[4]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۰۸۔



Total Pages: 349

Go To