Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

 

 

اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام غزوات میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شرکت فرمائی۔ ‘‘ 

علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اور علامہ نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ شَهِدَ عُمَرُ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشَاهِدَ كُلَّهَا یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام غزوات میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شرکت فرمائی۔ ‘‘  ([1])

غزوات میں   فاروقِ اعظم کی سعادتیں  :

غزوات میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حاصل ہونے والی سعادتوں   میں   سے سب سے بڑی سعادت تو یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مختلف جنگوں   میں   شرکت کی۔لیکن اس عظیم سعادت کے علاوہ بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مختلف غزوات میں   کئی سعادتیں   حاصل ہوئیں   ۔ اِن غزوات میں    ’’ غزوۂ بدر ، غزوۂ بدر الموعد ،  غزوۂ احد ،  غزوۂ خندق ،  غزوۂ بنی مصطلق ،  غزوۂ حدیبیہ ،  غزوہ ٔ خیبر ،  غزوۂ فتح مکہ ،  غزوۂ حنین ،  غزوۂ طائف اور غزوۂ تبوک ‘‘   قابل ذکر ہیں   ، تفصیل درج ذیل ہے۔

(۲ ہجری)غَزْوَۂ بَدْر اور فاروقِ اعظم

٭… ’’ حضرت علامہ محمد ہاشم ٹھٹھوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اپنی مشہور کتاب  ’’ سیرتِ سیدالانبیاء ‘‘   ص ۱۴۹ پر ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’ غزؤہ بدر ‘‘   کو  ’’ بدرکبریٰ ‘‘   ،  ’’  بدر عظمیٰ ‘‘   ،   ’’ بدر ثانیہ ‘‘   ،   ’’ بدر قتال ‘‘   اور  ’’ یوم الفرقان ‘‘   بھی کہتے ہیں  ۔نبی پاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ جنگ رمضان المبارک میں   کفار کے ساتھ لڑی ،  یہی وہ عظیم واقعہ ہے جس کے نتیجے میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِسلام کو غلبہ عطا فرمایا ،  مقام  ’’ بدر ‘‘   جس میں   یہ غزوہ پیش آیا حرمین شریفین کے درمیان  ،  مدینہ منورہ سے تین دن کی مسافت پر واقع ہے۔ ‘‘ 

٭… آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ۱۱رمضان المبارک بروز ہفتہ تین سو پانچ مہاجرین وانصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی معیت میں   مدینۂ منورہ سے بدر کی جانب نکلے۔ مشہور یہ ہے کہ اصحاب بدر کی تعداد تین سو تیرہ ۳۱۳ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آٹھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اس میں   بنفس نفیس شامل نہ تھے۔ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن

صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت سے کچھ ضروری امور کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اس لیے آپ نے غنیمت میں   سے دوسروں   کے برابر ان کو بھی حصہ عطا فرمایا اور



[1]    جامع الاصول  ،  الباب الثالث ،  فی ذکر العشرۃ من الصحابۃ ،  ج۱۲ ،  ص۱۷۷ ،   تاریخ الخلفاء ،  ص۹۱۔



Total Pages: 349

Go To