Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

جن جنگوں  میں   حضور نبی پاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود شرکت فرمائی انہیں   مُحَدِّثِیْنْ کی اِصطلاح میں    ’’ مَغَازِیْ ‘‘   اور ’’  غَزَوَاتْ ‘‘   کہا جاتاہے اور جن میں   آپ خود شریک نہ ہوئے بلکہ اپنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو امیر بنا کر بھیجا انہیں    ’’ سَرَایَا ‘‘   اور ’’ بُعُوْثْ ‘‘   کہا جاتاہے۔اِن چاروں   اِصطلاحات میں   مختصر سا فرق ہے۔ ’’ مَغَازِیْ ‘‘   جمع ہے  ’’ مَغْزیٰ ‘‘  کی ، جس کے معنی غازیوں   کے اوصاف کو بیان کرنا ہے۔جبکہ  ’’ غَزَوَاتْ ‘‘   جمع ہے  ’’ غَزْوَہْ ‘‘   کی۔اِسی طرح  ’’ سَرَایَا ‘‘   جمع ہے  ’’ سَرِیَّہْ ‘‘   کی  ، اِس سے مراد وہ لشکر ہے جو کم از کم پانچ افراد پرمشتمل ہو۔بعض علمائے کرام فرماتے ہیں   کہ کم از کم سو اَفراد پر مشتمل ہو تو ’’ سَرِیَّہْ ‘‘   کہلائے گا۔  ’’ سَرِیَّہْ  ‘‘  کے اَفراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۴۰۰چار سوہوتی ہے اور بعض علماء کے نزدیک ۵۰۰پانچ سو۔جبکہ  ’’ بُعُوْثْ ‘‘  جمع ہے ’’ بَعْثْ ‘‘   کی ،  اِس سے مراد وہ فوجی مہم ہوتی ہے جو لشکر سے کچھ منتخب اَفراد کو الگ کرکے بھیجی جائے۔([1])

رسول اللہ کے بعض جنگوں   میں   عدم شرکت کی وجہ:

 ’’ سَرَایَا ‘‘   اور  ’’ بُعُوْثْ ‘‘   میں   دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شریک نہ ہونے کی وجہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود ہی بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سےر وایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا اَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَا تَطِيبُ اَنْفُسُهُمْ اَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَا اَجِدُ مَا اَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللّٰهِیعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے! اگر لوگوں   کو چھوڑ کر جہاد کے لیے جانے میں   مسلمان مردوں   کے دل رنجیدہ ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا اور نہ ہی مجھے اتنی سواریاں   میسر ہیں   کہ میں   ان سب کو اپنے ساتھ جہاد پر لے جانے کے لیے سوار کروں   تو میں   کسی لشکر کے ساتھ جہاد پر جانے سے نہ رکتا۔  ’’ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ اَنِّي اُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ اُحْيَا ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْيَا ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْيَا ثُمَّ اُقْتَلُیعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں   میری جان ہے! میری یہ شدید خواہش ہے کہ میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں   شہید کیا جاؤں   ،  پھر زندہ کیا جاؤں   ،  پھر شہید کیا جاؤں   ،  پھر زندہ کیا جاؤں   ،  پھر شہید کیا جاؤں   ،  پھر زندہ کیا جاؤں   ،  پھر شہید کیا جاؤں  ۔ ‘‘  ([2])

علم المغازی کی اہمیت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غزوات کا علم بڑی شان وشوکت والا علم ہے ،  اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نسبت ہے اور یقیناً جس چیز کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت ہوجائے تو وہ شان والی ہوجاتی ہے۔حضرت سیِّدُنا امام زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :   ’’ فِيْ عِلْمِ الْمَغَازِيْ عِلْمُ الْآخِرَةِ وَالدُّنْيَایعنی علم مغازی میں   دنیا وآخرت کے علوم موجود ہیں۔ ‘‘  ([3])

علم المغازی قرآن کی طرح سیکھتے:

حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے

ہیں  :   ’’ كُنَّا نَعْلَمُ مَغَازِي النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُعَلِّمُ السُّوْرَةَ مِنَ الْقُرْآنِیعنی ہم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مغازی کا علم اس طرح حاصل کرتے جس طرح قرآن مجید کی سورتیں   سیکھا کرتے تھے۔ ‘‘   ([4])

علم المغازی تمہارے اجداد کا شرف ہے:

حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پوتے حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میرے والد ہمیں   مغازی اور سرایا کی تعلیم دیتے تھے اور فرماتے تھے:  ’’ يَا بُنَيَّ هٰذِهٖ مَآثِرُ آبَائِكُمْ فَلَا تُضِيْعُوْا ذِكْرَهَایعنی اے بیٹے! یہ علم تمہارے آباء واَجداد کا شرف ہے اس کے ذکر کو ضائع مت کرو۔ ‘‘   ([5])

رسول اللہ کے غزوات کی تعداد:

رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غزوات کی تعداد میں   اختلاف ہے ،  اختلاف کی وجہ غزوات کی تعداد کو شمار کرنا ہے ،  بعض علماء کرام نے  ’’ غَزْوَۂ اَحْزَابْ ‘‘   اور  ’’ غَزْوَۂ قُرَیْظَہْ ‘‘  یا  ’’ غَزْوَۂ خَیْبَرْ ‘‘   اور  ’’ غَزْوَۂ وَادِی الْقُریٰ ‘‘   کو ایک شمار کیا ہےاور بعض علماء کرام نے اِن کو الگ الگ شمار کیا ہے۔ترتیب زمانی (زمانے)کے اِعتبار سے اِن غزوات کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1)… ’’ غَزْوَۃُ اَبْوَآء ‘‘   اِسے  ’’ غَزْوَۃُ وَدَّانْ ‘‘   بھی کہا جاتاہے۔

(2)… ’’ غَزْوَۃُ بُوَاطْ ‘‘ 

(3)… ’’ غَزْوَۃُ سَفَوَانْ ‘‘   یہی  ’’ غَزْوَۃُ بَدْرِ الْاُوْلٰی ‘‘   بھی کہلاتاہے۔

 



[1]    سیرتِ سیدالانبیاء ،  ص۱۷۶۔

[2]    بخاری ،  کتاب الجھاد والسیر ،  باب تمنی الشھادۃ ،  ج۲ ،  ص۲۵۲ ،  حدیث: ۲۷۹۷۔

[3]    البدایۃ والنھایۃ ،   ج۲ ،  ص۶۴۲۔

[4]    البدایۃ والنھایۃ ،   ج۲ ،  ص۶۴۲ ،  سبل الھدی والرشاد ،  الباب الثانی ،  اختلاف الناس۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۱۰۔

[5]    سبل الھدی والرشاد ،  الباب الثانی ،  اختلاف الناس۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۱۰۔



Total Pages: 349

Go To