Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تَعَالٰی عَنْہکی طرح سچا پکا عاشق رسول  بنا ، ہر مسلمان کواتباعِ حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم و اتباعِ فدایان حبیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے دونوں   جہاں   میں   سرخروئی نصیب فرما ، ہمیں   اپنی راہ میں   شہادت کی موت نصیب فرما۔                        آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں   سب کی کھائے کیوں  ؟

دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں  ؟

جان ہے عشق مصطفےٰ روز فزوں   کرے خدا

جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں  ؟

سنگ در حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے

جانا ہے سر کو جا چکے دل کو قرار آئے کیوں  ؟

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آٹھوا باب

ھجرت فاروقِ اعظم

اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ہجرت حبشہ

آپ نے ہجرت حبشہ کیوں نہ کی ؟

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ہجرت مدینہ

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہجرت مدینہ  کا مبارک انداز

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہجرت مدینہ  کا نقشہ

مدینہ  منورہ کی طرف  ہجرت کرنے میں آپ کے قافلے کے شرکاء

بعد ہجرت  آپ کی مدینہ منورہ میں رہا ئش

مدینہ  منورہ  میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ ِ رسالت میں حاضری کا معمول

٭…٭…٭…٭…٭…٭

ہجرتِ فاروقِ اعظم

فاروق اعظم اور ہجرت حبشہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کفار کے ظلم وستم سے تنگ آکر مسلمانوں   نے مکہ مکرمہ سے دو ہجرتیں   کیں   ،  ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ منورہ کی طرف۔حبشہ کی جانب پہلی ہجرت ۵ بعثت نبوی بمطابق ۴۵ ولادت نبوی کو ہوئی اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت ۱۳ بعثت نبوی بمطابق ۵۳ ولادت نبوی کو ہوئی۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  حبشہ کی ہجرت میں   شریک نہ ہوسکے کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ۶ بعثتِ نبوی بمطابق ۴۶ ولادتِ نبوی میں   قبولِ اسلام فرمایا ،  جبکہ ہجرتِ حبشہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبولِ اسلام سے قبل ہو چکی تھی اس لیے آپ اس ہجرت میں   شرکت نہ کرسکے۔

فاروقِ اعظم اور ہجرت مدینہ

 ہجرت کا انوکھا انداز:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے فرمایا:  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سوا کسی نے اعلانیہ ہجرت نہیں  کی۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہجرت کا ارادہ کیاتو تلوار لی۔ کمان کاندھے پر لٹکائی۔ تیروں   کا ترکش ہاتھ میں   لےکر حرم روانہ ہوئے۔ کعبۃ اللہ شریف کے صحن میں   قریش کا ایک گروہ موجود تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پورے اِطمینان سے سات چکر لگا کر طواف مکمل کیا۔پھر سکون سے نمازادا کی۔ کفار کے ایک ایک حلقے کے سر پر جا کرکھڑے ہوئے اور ببانگ دُھل فرمانے لگے:   ’’ تمہارے چہرے ذلیل ہوگئے ہیں   ،    جس نے اپنی ماں   کو نوحہ کرنے والی ،  بیوی کوبیوہ اور بچوں  کو یتیم کرنا ہو وہ حرم سے باہر آکر مجھ سے دو دو ہاتھ کرسکتا ہے۔ ‘‘  (یہ فرما کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باہر تشریف لے آئے۔) ([1])

فاروقِ اعظم نے کمزوروں   کو راہ دکھائی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کعبۃ اللہ شریف میں   موجود کفار



[1]    اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۶۳۔



Total Pages: 349

Go To