Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ میں   وفات کی یوں   دعا کیا کرتے تھے:   ’’ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اپنی راہ میں   شہادت عطا فرما اور مجھے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر میں   موت عطا فرما۔ ‘‘  ([1])

ایک اہم بات:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ کی افضیلت کا مسئلہ فروعی ہے ،  لہٰذا دونوں   کے قائلین پر کوئی حکم شرعی نہیں   ۔ اگر کوئی مکہ مکرمہ کو افضل جانتا ہے تو اس سے بھی نہیں   الجھنا چاہیے ،  اگر کوئی مدینہ منورہ کو افضل کہتا ہے تو اس سے بھی نہیں   الجھنا چاہیے۔کیونکہ یہ تو عشق ومحبت کا ایک انداز ہے کہ جو مکہ مکرمہ کو افضل کہتے ہیں   وہ بھی دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وجہ سے افضل کہتے ہیں   اور جو مدینہ منورہ کو افضل کہتے ہیں   وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وجہ سے افضل کہتے ہیں  ۔بعض عشاق مکہ مکرمہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں   کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جائے پیدائش ہے اور ان کے مقابلے میں   دیگر عشاق مدینہ منورہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں   کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آخری آرام گاہ ہے۔بعض عشاق مکہ مکرمہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں   وہاں   ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے اور ان کے مقابلے میں   دیگر عشاق مدینہ منورہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں   کہ مدینہ منورہ میں   اگر ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار کے برابر ہے تو ایک گناہ ایک ہی شمار جبکہ مکہ مکرمہ میں   اگر ایک نیکی ایک لاکھ ہے تو ایک گناہ بھی ایک لاکھ گناہ کے برابرہے۔

عاشق فاروقِ اعظم اور مدینہ منورہ سے محبت:

عاشق فاروقِ اعظم ،  اعلی حضرت ،  امام اہلسنت ،  عظیم البرکت  ، مجدددین وملت ،  پروانۂ شمع رسالت ،  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے مدینہ منورہ کی حاضری پر ایک نعتیہ کلام لکھا جو آپ کے شہرہ آفاق نعتیہ دیوان  ’’ حدائق بخشش ‘‘   میں   موجود ہے ، اس کے دو حصے ہیں  : ایک حصے میں   علمی انداز میں   مدینہ منورہ سے محبت کا اظہار فرمایااور دوسرے حصے میں   عشق کے بولوں   میں   اظہار فرمایا ،  چند اشعار مع شرح پیش خدمت ہیں  :

کعبے کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا

پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے

شرح:   ’’ یعنی ہم تو مدینہ منورہ کے عاشق ہیں   کہ ہم سے جس نے بھی جاننے کی کوشش کی کہ کہاں   کا ارادہ ہے؟ تو ہم نے سب سے یہی کہا کہ مدینہ منورہ جارہے ہیں   کعبۃ اللہ شریف کا تو نام تک نہ لیا۔ ‘‘ 

کعبہ ہے بے شک انجمن آراء دلہن مگر

ساری بہار دلہنوں   دولہا کے گھر کی ہے

شرح:   ’’ یعنی بے شک کعبۃ اللہ شریف محفل کو حسن وخوبصورتی دینے والی دلہن کی طرح ہے مگر دلہنوں   کے گھر کی خوبصورتی سے دولہا کے گھر کی خوبصورتی ہوتی ہے کہ دلہن نے بھی خود جاکر دولہا کے گھر کو خوبصورتی اور زینت دینی ہے دلہن کی حسن زینت بھی دولہا کے لیے ہوتی ہے۔ ‘‘ 

کعبہ دلہن ہے تربت اطہر نئی دلہن

یہ رشک آفتاب وہ غیرت قمر کی ہے

شرح:   ’’ کعبۃ اللہ شریف دلہن کی مثل ہے اور نبیٔ پاک صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مزار پرانوار نئی دلہن کی مثل ہے  ،  اگر سورج کعبۃ اللہ شریف کی تابانیوں   اور سج دھج وچمک دمک کو دیکھتا ہے تو چاند روضہ رسول اللہ کی زیب وزینت کو دیکھتا ہے ،  اگر کعبۃ اللہ شریف آفتاب کا منظور نظر ہے تو روضہ مبارکہ چاند کا منظور نظر

 

ہے ،  اگر سورج کعبۃ اللہ شریف کو دیکھ کر رشک کرتا ہے تو چاند روضہ اقدس کو دیکھ کر رشک کرتاہے۔ ‘‘ 

دونوں   بنیں   سجیلی انیلی بنی مگر

جو پی کے پاس ہے وہ سہاگن کنور کی ہے

شرح:   ’’ کعبۃ اللہ شریف اور روضہ مبارکہ دونوں   دلہنیں   خوبصورتی اورزینت و سجاوٹ میں   اپنی مثال آپ ہیں   ،  مگر جو دلہن اپنے خاوند کے پاس ہوتی ہے اسی کو سہاگن کہتے ہیں   ،  وہی شہزادے کی زوجہ ہوتی ہے ،  جس دلہن کو کنور یعنی شہزادہ اپنی راجکماری یعنی شہزادی بنا کر رکھے وہی سہاگن کہلاتی ہے۔ ‘‘  ([2])

عاشق اعلی حضرت اور مدینہ منورہ سے محبت:

عاشق اعلی حضرت ،  امیر اہلسنت  ،  شیخ طریقت ،  بانی دعوت اسلامی مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مدینہ منورہ سے محبت کے کیا کہنے!آپ کی حیات مبارکہ کا لمحہ لمحہ مدینہ منورہ وشہنشاہ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا خزینہ ہے۔ آپ کے مریدین ،  محبین ،  معتقدین وغیرہ میں   بھی مدینہ منورہ کی ایک خاص محبت



[1]    بخاری ،  کتاب فضائل المدینۃ ،  باب کراھیۃ النبی۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۶۲۲ ،  حدیث: ۱۸۹۰۔

[2]    سخن رضا ،  ص۲۵۳ ۔



Total Pages: 349

Go To