Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حیات فاروقِ اعظم میں   اسلام بہادر مرد کی مثل ہوگیا:

حضرت سیِّدُنا ربعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ فرماتے سنا :   ’’ مَا كَانَ الْاِسْلاَمُ فِيْ زَمَانِ عُمَرَ الاَّ كَالرَّجُلِ الْمُقْبِلِ مَا يَزْدَادُ اِلَّا قُرْبًا فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ كَانَ كَالرَّجُلِ الْمُدْبِرِ مَا يَزْدَادُ اِلَّابُعْدًایعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانے میں   گویا اسلام اس مرد کی طرح ہوگیا جو چھاتی تان کے آگے ہی آگے بڑھتا جاتاہے اور جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا گیا تو اسلام گویا اس شخص کی طرح ہوگیا جو پیٹھ پھیر کر پیچھے ہی پیچھے جاتا ہے۔ ‘‘  ([1])

لوگوں   کا علم فاروقِ اعظم کی گود میں   آجائے:

حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  :   ’’ كَاَنَّ عِلْمَ النَّاسِ كَانَ مَدْسُوْساً فِيْ حُجْرِ عُمَرَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے علم کے مقابلے میں   لوگوں   کا علم اتنا ہے کہ وہ  سارا علم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی گود میں   سما جائے۔ ‘‘  ([2])      

رب کے معاملے میں   ملامت کرنے والےسے بے خوف:

حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  :   ’’ وَ اللہِ مَا اَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَاْخُذُهُ فِي اللہِ لَوْمَةُ لَائِمٍ اِلَّا عُمَرَیعنی    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں   جانتا جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے قطعاً خوفزدہ نہ ہو۔ ‘‘  ([3])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امیر معاویہ

فاروقِ اعظم نے دنیا کو دھتکار دیا:

حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ بن ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   فرماتےہیں   :   ’’ اَمَّا اَبُوْ بَكْرٍ فَلَمْ يَرُدُّ الدُّنْيَا وَلَمْ تَرُدَّهُ وَاَمَّا عُمَرُ فَاَرَادَتْهُ وَلَمْ يَرُدَّهَا وَاَمَّانَحْنُ فَتَمَرَّغْنَا فِيْهَا ظَهْراً لِبَطَنٍیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہ تو دنیا کا ارادہ فرمایا اور نہ ہی دنیا نے آپ کا ارادہ کیا۔لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا دنیا نے تو ارادہ کیا لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاسے دھتکار دیا اور ہم تودنیا میں   پیٹ کی خاطر پشت تک لت پت ہوچکے ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

نہیں   خوش بخت محتاجان عالم میں   کوئی ہم سا

ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا

مراد آئی مرادیں   ملنے کی پیاری گھڑی آئی

ملا حاجت روا ہم کو در سلطان عالم سا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ساتوا باب ۔۔( حصہ پنجم)

فاروقِ اعظم  کا عشق رسول

(رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے منسوبات سے محبت)

اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے شہر سے محبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی  مکہ مکرمہ  سے محبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدینہ منورہ سے محبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مساجد  سے محبت

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور مسجد حرام کی توسیع

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورمسجد نبوی کی توسیع

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حجر اسواد سے کلام

اسلام کی نسبت کی بہاریں

٭…٭…٭…٭…٭…٭

رسول اللہ کے منسوبات سے محبت

 



[1]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۶ ،  حدیث: ۵۴۔

[2]    تاریخ الخلفاء ،  ص۹۵ ،  تاریخ ابن عساکر ،   ج۴۴ ،  ص۲۸۵۔

[3]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۳۲ ،  تاریخ الاسلام  ،  ج۳ ،  ص۲۷۱ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۹۵۔

[4]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۲۸۷ ،   تاریخ الاسلام  ،  ج۳ ،  ص۲۶۷۔



Total Pages: 349

Go To