Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عَنْہنے قبول اسلام کیا تو آپ نے کفار کا سامناکیا یہاں   تک کہ ہم نے کعبۃ اللہ شریف میں   نماز ادا کی۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کے قبول اسلام سے ہم عزت دار ہوگئے:

حضرت سیِّدُنا قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’  مَا زِلْنَا اَعِزَّةً مُنْذُ اَسْلَمَ عُمَرُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام سے ہم عزت دار ہوگئے۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی آہٹ سے شیطان بھاگتاہے:

حضرت سیِّدُنا قاسم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اِنِّيْ لَاَحْسِبُ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنْ حِسِّ عُمَرَیعنی بے شک مجھے یقین ہے کہ شیطان امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی آہٹ سے بھاگ جا تا ہے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی فرشتہ رہنمائی کرتاہے:

حضرت سیِّدُنا ابو وائلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’   مَا رَاَيْتُ عُمَرَ اِلاَّ وَكَاَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُیعنی میں   نے دیکھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دونوں   آنکھوں   کے مابین ایک فرشتہ ہے جو ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ ‘‘  ([4])

 

فاروقِ اعظم کو جوناپسند وہ مجھے بھی ناپسند:

حضرت سیِّدُنا شقیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’  اِنَّ عُمَرَ كَرِهَ الصَّلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَاَنَا اَكْرَهُ مَا كَرِهَ عُمَرُیعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نماز عصر کے بعد نوافل پڑھنا ناپسند کرتے تھے اور جو چیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم کی وفات پر لوگوں   کی ہچکیاں  :

حضرت سیِّدُنا ابو وائل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو جب خلیفہ مقرر کیا گیا تو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ سے کوفہ تشریف لے گئے ۔ اہل کوفہ کے سامنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر ارشاد فرمایا:   ’’ فَاِنَّ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَاتَ فَلَمْ نَرَ نَشِيْجاً اَكْثَرَ مِنْ يَوْمَئِذٍ وَاِنَّا اِجْتَمَعْنَا اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ وَلَمْ نَالُ عَنْ خَيْرِنَا ذَا فَوْقٍ فَبَايَعْنَاهُ فَبَايِعُوْا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍیعنی جس دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہوا  ، اس سے زیادہ کسی دن ہم نے لوگوں   کی ہچکیاں   نہ دیکھیں   اور پھر ہم صحابہ کرام (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ) جمع ہوئے اور بکوشش تمام اپنے میں   سے بہترین اور فائق شخص (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کا انتخاب کرکے اس کی بیعت کرلی ،  لہٰذا تمام لوگ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کرلیں  ۔ ‘‘  ([6])

فاروقِ اعظم اِسلام کا مضبوط قلعہ:

حضرت سیِّدُنا ابو وائل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر پر چڑھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے متعلق ہم سے گفتگو کرنا چاہتے تھے تو آپ کو دو تین مرتبہ شدید کھانسی آئی۔ پھر ارشاد فرمایا:   ’’  اِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ حِصْناً حَصِيْناً لِلْاِسْلَامِ يَدْخُلُ فِيْهِ وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ فَانْهُدِمَ الْحِصْنُیعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے کہ اس میں   کوئی داخل تو ہو سکتا تھا لیکن نکل نہیں   سکتا تھا۔ آہ! اس قلعے کو شہید کردیا گیا۔ ‘‘  ([7])

فاروقِ اعظم نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا:

حضرت سیِّدُنا زررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ لَقِيَ رَجُلٌ شَيْطَانًا فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَاتَّخَذَا فَصَرَّعَ الشَّيْطَانَ یعنی مدینہ منورہ کی گلیوں   میں   ایک شخص کی شیطان سے ملاقات ہوگئی ،  دونوں   آپس میں   گتھم گتھا ہوگئے تو اس شخص نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا۔ ‘‘  لوگوں   نے پوچھا :  ’’ حضور وہ کون شخص تھا جس نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا؟ ‘‘  فرمایا:   ’’ مَنْ یُطِیْقُ بِہٖ   اِلَّاعُمَرَیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سوا کس میں   اتنی طاقت ہے؟ ‘‘  ([8])

کتنے برے ہیں   اُس گھر والے۔۔۔:

 



[1]    معجم کبیر ،  باب العین ،  من اسمہ عبد اللہ  ،  ج۹ ،  ص۱۶۵ ،  حدیث: ۸۸۲۰۔

[2]    بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۶ ،   حدیث:  ۳۶۸۴۔

[3]    معجم کبیر ،  باب العین ، من اسمہ  عبد اللہ ،  ج۹ ،  ص۱۶۶ ،  حدیث: ۸۸۲۵۔

[4]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۱۶۔

[5]    معجم کبیر ،  باب العین ،  من اسمہ عبد اللہ ،  ج۹ ،  ص۱۶۸ ،  حدیث: ۸۸۳۴۔

[6]    معجم کبیر ،  باب العین ،  من اسمہ عبد اللہ  ،  ج۹ ،  ص۱۶۵ ،  حدیث: ۸۸۲۰۔

[7]    معجم کبیر ،  باب العین ،  من اسمہ عبد اللہ ،  ج۹ ،  ص۱۷۰ ،  حدیث: ۸۸۴۴۔

[8]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۷۹ ،  حدیث: ۱۲۔



Total Pages: 349

Go To