Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭ …  ’’ اِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلاً بِعُمَرَ جب صالحین (نیک لوگوں  ) کا ذکر ہو تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر ضرور کیا کرو ۔ ‘‘ 

٭… ’’ اِنَّ اِسْلَامَهُ كَانَ نَصْرًا وَاِنَّ اِمَارَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا اسلام لانا مسلمانوں   کے لیے ایک عظیم مدد تھا اور ان کی خلافت ایک شاندار فتح تھی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاَيْمُ اللہِ مَا اَعْلَمُ عَلَى الاَرْضِ شَيْئًا اِلَّا وَقَدْ وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّى الْعِضَاهُاور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میرے علم میں   روئے زمین پر کوئی شے ایسی نہیں   ہے جس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال پر آپ کی جدائی محسوس نہ کی ہو یہاں   تک کہ جسم کے ہر ہر حصے نے آپ کی جدائی محسوس کی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاَيْمُ اللہِ اِنِّي لاَحْسَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ وَيُرْشِدُهُ اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   اس بات کا گمان کرتاہوں   کہ آپ کی دونوں   آنکھوں   کے درمیان ایک فرشتہ تھا جو آپ  کیو سیدھی راہ رکھاتا اور رہنمائی کرتا تھا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاَيْمُ اللہِ اِنِّي لَاَحْسَبُ الشَّيْطَانَ يَفْرَقُ اَنْ يُحْدِثَ فِي الاِسْلاَمِ فَيَرُدَّ عَلَيْهِ عُمَرُ اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ شیطان اسلام میں   کوئی نئی بات پیدا(یابدعت ایجاد)کرنے سے اس لیے گھبراتاہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کا رد فرمادیں   گے۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاَيْمُ اللہِ لَوْ اَعْلَمُ اَنَّ كَلْبًا يُحِبُّ عُمَرَ لاَحْبَبْتُهاور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ فلاں   کتا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرتا ہے تو میں   ضرور اس کتے سے محبت کروں   گا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کا علم سب سے وزنی:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ لَوْ اَنَّ عِلْمَ عُمَرَ وُضِعَ فِيْ كِفَّةِ مِيْزَانٍ وَوُضِعَ عِلْمُ اَهْلِ الْاَرْضِ فِيْ كِفَّةٍ لَرَجَحَ عِلْمُهُ بِعِلْمِهِمْ یعنی اگر میزان کے ایک پلڑے میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا علم رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں   پوری دنیا کا علم رکھا جائے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا علم تمام دنیا والوں   کے علم سے وزنی ہوگا۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی خلافت رحمت ہے:

حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مختلف صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ لَقَدْ اَحْبَبْتُ عُمَرَ حَتّٰى لَقَدْ خِفْتُ اللہَیعنی میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کی تو مجھے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف نصیب ہوگیا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَوْ اَعْلَمُ اَنَّ كَلْباً يُحِبُّ عُمَرَ لَاَحْبَبْتُهُ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ فلاں   کتا حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرتاہے تو ضرور میں   اس کتے سے محبت کروں   گا۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَوَدَدْتُّ اَنِّيْ كُنْتُ خَادِماً لِعُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ اور میری یہ خواہش ہے کہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا خادم بن کر رہوں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَقَدْ وَجَدَ فَقْدَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْعُضَاۃُ اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات پر آپ کی جدائی کو ہرچیز نے محسوس کیا یہاں   تک کہ جسم کے ہر ہر حصے نے آپ کی جدائی محسوس کی۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَاِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ نَصْراً وَاِنَّ سُلْطَانَهُ وَاِنْ كَانَ رَحْمَةًاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہجرت مسلمانوں   کی نصرت تھی اور آپ کی خلافت مسلمانوں   کے لیےرحمت تھی۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی محبت میں   رب کی خشیت مل گئی:

حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ لَقَدْ خَشِيْتُ اللہَ فِيْ حُبِّيْ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُیعنی حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرنے کے سبب مجھے رب

عَزَّ وَجَلَّ کی خشیت مل گئی۔ ‘‘   ([4])

فاروقِ اعظم کا اسلام مسلمانوں   کی فتح تھی:

حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ اِنَّ كَانَ اِسْلَامُ عُمَرَ لَفَتْحاً وَاِمَارَتُهُ لَرَحْمَةً وَاللہِ مَا اسْتَطَعْنَا اَنْ نُّصَلِّيَ بِالْبَيْتِ حَتّٰى اَسْلَمَ عُمَرُ فَلَمَّا اَسْلَمَ عُمَرُ قَابَلَهُمْ حَتّٰى دَعَوْنَا فَصَلَّيْنَایعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا قبولِ اسلام مسلمانوں   کے لیے فتح اور ان کی خلافت مسلمانوں   کے لیے رحمت تھی۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم آپ کے قبول اسلام سے قبل ہم کعبۃ اللہ شریف میں   نماز پڑھنے کی جرأت نہیں   کرتے تھے ،  لیکن جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی



[1]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۰ ،  حدیث: ۲۲۔

[2]    معجم کبیر ،  باب العین ،  من اسمہ عبد اللہ  ،  ج۹  ،  ص۱۶۳ ،  حدیث: ۸۸۰۹۔

[3]    معجم کبیر ،  باب العین ، من اسمہ  عبد اللہ  ،  ج۹ ،  ص۱۶۴ ،  حدیث: ۸۸۱۴۔

[4]    معجم کبیر ،  باب العین ،  من اسمہ عبد اللہ  ،  ج۹ ،  ص۱۶۴ ،  حدیث: ۸۸۱۶۔



Total Pages: 349

Go To