Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

ہوگا اور جب عدل وانصاف کا ذکر ہوگا تو رب عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر ہوگا۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم ایک ہوشیار پرندے کی طرح ہیں  :

حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   پوچھا گیا تو فرمایا:   ’’ كَانَ وَاللہِ خَيْراً كُلَّهُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !وہ تو سراپا خیر ہی خیر تھے۔ ‘‘  اور جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:   ’’ كَانَ وَاللہِ كَالطَّيْرِ الْحَذَرِ الَّذِيْ يُنْصَبُ لَهُ فِيْ كُلِّ طَرِيْقٍ شَرَكٌ وَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى مَا يَرَى مَعَ الْعُنْفِ وَشِدَّةِ النِّشَاطِیعنی   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو اس پرندے کی طرح ہیں   جسے ہر وقت یہی کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ہر جگہ اسے پھنسانے کے لیے جال بچھادیا گیا ہے اور وہ ہر کام شدت وسختی اورچستی کے ساتھ کرتا رہتاہے۔ ‘‘  (یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ تو دھوکا دیتے ہیں   اور نہ ہی دھوکا کھاتے ہیں  ۔)([2])

 

شانِ فاروقِ اعظم بزبان سیدتنا عائشہ صدیقہ

جس مجلس میں   ذکر عمر ہو وہ مجلس اچھی گفتگو والی ہے:

حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں  :   ’’ اِذِا ذُكِرَ عُمَرُ فِى الْمَجْلِسِ حَسُنَ الْحَدِيْثُ یعنی جب کسی مجلس میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر کیا جائے تو گفتگو میں   حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کے ذکر سے مجالس کو مزین کرو:

حضرت سیِّدُنا جعفر بن برقان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں  :   ’’ زَيِّنُوْا مَجَالِسَكُمْ بِذِكْرِ عُمَرَ یعنی اپنی مجالس کو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذکر سے مزین کرو۔  ‘‘  ([4])

ذکر صالحین کے وقت ذکرعمر ضرور کرو:

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں  :   ’’ اذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلاً بِعُمَرَیعنی جب صالحین یعنی نیک لوگوں   کا ذکر ہو تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر ضرور کیا کرو۔  ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم تمام امور کو تن تنہا انجام دینے والے:

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں  :   ’’ كَانَ وَاللَّهِ اَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدِهِیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے تمام معاملات میں   ماہر اور تن تنہا مشکل امور کو سرانجام دینے والےتھے۔ ‘‘  ([6])

شانِ فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود

فاروقِ اعظم کا ذکر ضرور کرو:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلاً بِعُمَرَیعنی جب صالحین یعنی نیک لوگوں   کا ذکر ہو تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر ضرور کیا کرو۔  ‘‘  ([7])

کاش میں   عمر جیسا خادم ہوتا:

حضرت سیِّدُنا منصور رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمایا کرتے تھے:   ’’ اِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلاً بِعُمَرَ وَدَدْتُّ اَنِّيْ خَادِمٌ لِمِثْلِ عُمَرَ حَتّٰى اَمُوْتَیعنی جب صالحین یعنی نیک لوگوں   کا ذکر ہو تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر ضرور کیا کرو اور میری یہ خواہش ہے کہ کاش میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکاخادم بن کر رہوں   یہاں   تک کہ میرا وصال ہوجائے۔ ‘‘  ([8])

فاروقِ اعظم کی مختلف صفات:

حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مختلف صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 



[1]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۸۰۔

[2]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۳۰ ،  ص۳۸۶ملتقطا۔

[3]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۸۰۔ کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضائل الفاروق ،  الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۶۳ ،  حدیث: ۳۵۸۲۲۔

[4]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۸۰۔

[5]    مسند امام احمد ،  مسند السیدۃ عائشۃ ،  ج۹ ،  ص۴۸۴ ،  حدیث: ۲۵۲۰۶۔

[6]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب المغازی ،  ماجاء فی خلافۃ عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۵۷۴ ،  حدیث: ۱۴ ملتقطا۔

[7]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۷۹ ،  حدیث: ۹۔

[8]    معجم کبیر ،  باب العین ،  من اسمہ عبد اللہ ،  ج۹ ،  ص۱۶۵ ،  حدیث: ۸۸۱۸۔



Total Pages: 349

Go To