Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے فرمایا:  ’’  تم جاہلیت میں   بڑے سخت تھے ، اب اسلام میں  آکر اتنے نرم کیوں   ہو گئے ہو؟ وحی ختم ہوچکی اور دین مکمل ہوچکا ، اب کسی نرمی کا سوال ہی پیدا نہیں   ہو سکتا ،  کیا میرے زندہ ہوتے ہوئے دین میں   کمی کردی جائے گی؟ ‘‘  ([1])

پوری زندگی کے جملہ اعمال سے بہتر:

حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   کچھ لوگوں   کے متعلق عرض کیا گیاکہ وہ آپ کو حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپرفضیلت دیتے ہیں  ۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور ارشاد فرمایا: خدا کی قسم!سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک رات اورایک دن کی نیکی میری زندگی کے جملہ نیک اعمال سے کہیں   بہتر ہے  ،  اگر کہو تو تمہیں   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک دن اور ایک رات بتلائوں  ؟ ‘‘   عرض کیا گیا :  ’’ امیر المومنین ! ضرور بتلائیے۔ فرمایا:   ’’ رات تو وہ ہے جب محبوب ربِّ داور ،  شفیعِ روزِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مکۂ مکرمہ سے ہجرت کرکے رات کے وقت نکلے ۔سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ کے ساتھ تھے ،  جو سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کبھی آگے چلتے اور کبھی پیچھے ،  کبھی دائیں   کبھی بائیں   ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا :   ’’ ابوبکر ! یہ کیا ہے ، تم پہلے توکبھی اس طرح نہیں   چلے؟ ‘‘   انہوں   نے عرض کیا:  ’’ مجھے جب خوف آتا ہے کہ کوئی دشمن آگے گھات لگائے نہ بیٹھاہو تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں   اورجب یہ خیال آتا ہے کوئی پیچھا کرنے والاپیچھے سے حملہ آور نہ ہو تو آپ کےپیچھے چلنے لگ جاتاہوں  اور چونکہ امن نہیں   اس لیے دائیں   بائیں   بھی چل رہا ہوں  ۔ ‘‘  حضور نبی ٔپاک ،  صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات بھر اپنے پیروں   کی انگلیوں   پر چلتے رہے تاکہ قدموں  کے نشان نہ ثابت ہوں  جس کے سبب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین مبارکہ جا بجا زخمی ہو گئے ،  جب سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے قدموں   کی تکلیف دیکھی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کندھوں   پر اٹھالیا اور غار کے دھانے تک لے آئے ،  وہاں   آپ کو اتارا پھر عرض کیا:  ’’  غار میں   پہلے میں  جاتا ہوں    ، اگر کوئی چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھے نقصان دے گی۔ ‘‘   سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاندر گئے اور کوئی موذی شےنہ پائی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اٹھاکر غارمیں   لے آئے ، جہاں  ایک سوراخ تھا ،  جس میں   بچھو اور سانپ تھے ،  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ڈر ہوا کہیں   کوئی موذی شے نکل کر رسول خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوتکلیف نہ پہنچائے انہوں   نے اس پر اپنا قدم رکھ دیا ،  تواس سوراخ میں   موجودسانپ نے آپ کے قدم پر ڈس لیا ،  آپ نے جنبش نہ کی کہ کہیں   حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آرام میں   خلل واقع نہ ہوجائے مگر تکلیف کے سبب آنسو چھلک پڑے ،  دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:  ’’ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا یعنی اے ابو بکر!غم نہ کر ، بے شک اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے ۔ ‘‘  پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ا س بات سے اللہ تعالٰی نے سیِّدُنا ابوبکررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دل پر سکون نازل کردیا تو یہ تھی ابوبکر کی ایک رات۔ اور دن وہ ہے جس میں   سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے انتقال فرمایا اور کئی عرب قبائل مرتد ہوگئے تو اس موقع پر میرے منع کرنے کے باوجود حضر ت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کمال فہم و فراست اور دُور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مرتد قبائل کے خلاف جہاد کرکے اس فتنے کو ہمیشہ کے لئے زمیں   برد کردیا۔  ‘‘  ا س کے بعد حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر فضلیت دینے والوں   کوایک تہدید آمیز(یعنی سخت الفاظ والا) خط لکھا جس میں   انہیں   آئندہ ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمادیا۔([2])

صحابہ کرام کی مالی خیر خواہی

فاروقِ اعظم نے ۴۰۰دینار سے خیر خواہی کی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے ایک غلام کو حضرت سیِّدُنا ابوعبيدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے ۴۰۰دينار دے کر بھيجا اوراسے ان کے ہاں   ٹھہرنے کا حکم ديا تاکہ وہ ديکھ سکے کہ ان ديناروں   کا وہ کرتے کیا ہیں  ۔ وہ غلام دينار لے کر گيا اور حضرت سیِّدُنا ابو عبيدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت حاضر ہوا اور دینار اُن کی بارگاہ ميں   پيش کر دئيے۔ انہوں   نے کچھ غور کيا پھر ان سب کو تقسیم کر ديا۔فاروقِ اعظم کا غلام آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لوٹ آيا اور سارا واقعہ عرض کر دیا۔غلام نے یہ بھی ديکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ايسے ہی دینار حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے بھی تيار کر رکھے ہیں  ۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ دینار غلام کودے کر حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف بھيجا اوراسے ان کے ہاں   ٹھہرنے کا حکم ديا تاکہ وہ ديکھ سکے کہ ان ديناروں   کا وہ کيا کرتے ہیں  ۔ اس نے ايسا ہی کيا اور جب حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس دینار لے کر حاضر ہوا تو انہوں   نے بھی وہ دينارتقسيم کر دئيے۔ جب ان کی زوجہ محترمہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ بولیں   :  ’’ خدا کی قسم! ہم بھی مسکين ہيں   ،  ہميں   بھی عطا فرمائيے۔ ‘‘   دودينار بچے تھے آپ نے وہ انہيں   دے دئيے۔ پھر وہ غلام امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لوٹ آيا اورسارا ماجرا عرض کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمايا :  ’’ اِنَّهُمْ اِخْوَةُ بَعْضِهِمْ مِّنْ بَّعْضٍیعنی يہ لوگ آپس ميں   بھائی ہيں  ۔ ‘‘    ([3])

بغیر سوال وچاہت کے جو ملے لے لو:

حضرت سیِّدُنا سائب بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابن سعدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے استفسار فرمایا:   ’’ تمہارے پاس کتنا مال ہے؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ فَرْسَان وَعَبْدَان وَبَغْلَان اَغْزُوْ بِهِنَّ وَمَزْرَعَةً آکُلُ مِنْهَایعنی دو گھوڑے  ،  دو غلام اور دو خچر ہیں   ،  ان سے میں   جہاد کرتا ہوں   اور ایک کھیت ہے جس سے کھاتا ہوں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں   ایک ہزار دینار عطا کیے اورارشاد فرمایا:   ’’ خُذْ هٰذِهٖ فَاسْتَنْفِقْهَایعنی یہ لے لو اور انہیں   خرچ کرو۔ ‘‘   سیِّدُنا ابن



[1]    جامع الاصول  ، الکتاب السابع فی الغدر ،  الباب الرابع ،  الفرع الثانی فی فضائل الرجال علی الانفراد ،  ج۸ ،  ص۴۵۸  ،  حدیث:  ۶۴۲۶۔

[2]    دلائل النبوۃ ،  باب خروج النبی مع صا حبہ ابی بکر الصدیق  ،  ج۲ ،  ص۴۷۶۔۴۷۷۔

[3]    معجم کبیر ،  بقیۃ المیم ،  ذکر مشاھد۔۔۔الخ ،  ج۲۰ ،  ص۳۳ ،  حدیث:  ۴۶۔



Total Pages: 349

Go To