Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…٭…٭…٭…٭…٭

اُمہات المؤمنین سے عقیدت ومحبت

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے دو عالم کے مالِک و مختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلْجَنَّةُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّهَاتِ یعنی جنت ماؤں   کے قدموں   کے نیچے ہے۔ ‘‘  ([1])

حضرت سیِّدُنا بہز بن حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ میں   نے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:   ’’ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ اَبَرُّ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! بھلائی کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟  ‘‘   ارشاد فرمایا:   ’’ اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ثُمَّ اَبُوْكَ یعنی تمہاری ماں   ،  پھر تمہاری ماں   ،  پھر تمہاری ماں   ، پھر تمہارے والد۔ ‘‘  ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تمام فضائل وحقوق ایک عام مؤمن کی والدہ کے لیے ہیں   ،  ذرا غور تو کیجئے کہ سرورعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت کے شرف کی وجہ سے اُمہات المؤمنین کے لقب سے سرفراز ہوئیں  ۔قرآن پاک میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:  (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ-) (پ۲۱ ،  الاحزاب: ۶)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ یہ نبی مسلمانوں   کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں   ان کی مائیں   ہیں  ۔ ‘‘   

ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  جن کو تمام دنیا کی عورتوں   میں   یہ خصوصی شرف ملا ہے کہ انہیں   حرم نبی میں   داخل ہونے کا شرف نصیب ہوا اور وہ دن رات محبوب خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كي محبت اور ان کی خدمت و صحبت کے انوار و برکات سے سرفراز ہوتی رہیں   اور جن کی فضیلت و عظمت کا خطبہ پڑھتے ہوئے قرآن عظیم نے قیامت تک کے لئے یہ اعلان فرما دیا:  (یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ) (پ۲۲ ،  الاحزاب: ۳۲)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے نبی کی بیبیو ! تم اور عورتوں   کی طرح نہیں   ہو۔ ‘‘   یقیناً ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  کا مقام ومرتبہ اور ان کی تعظیم وتکریم عام ماؤں   سے کہیں   زیادہ ہے۔ علامہ زرقانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں   خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تمام ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  یعنی جن سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نکاح فرمایا ، چاہے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے وصال ظاہری سے پہلے ان کاانتقال ہوا ہویا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعدانھوں   نے وفات پائی ہو ، یہ سب کی سب امت کی مائیں   ہیں   اورہر امتی کے لیے اس کی حقیقی ماں   سے بڑھ کر لائق تعظیم وواجب الاحترام ہیں  ۔ ([3])

یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین اور جناب سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد تمام امت میں   افضل ہونے کے باوجود امہات المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  کی بے حد تعظیم واکرام کیا کرتے تھے۔ نیز گاہے بگاہے ان کی مالی خدمت بھی کیا کرتے تھے ۔چنانچہ  ،

فاروقِ اعظم نے اُمّ المؤمنین کی خیر خواہی کی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُمّ المؤمنين حضرت سيدتنازينب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس کچھ مال بطور ہدیہ بھيجا تو انہوں   نے اسی وقت وہ سارا مال رشتہ داروں   اور يتيموں   ميں   تقسيم کر ديا اور یوں  دعا مانگی:   ’’ اے   اللہ

 عَزَّ وَجَلَّ! آئندہ سال امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا عطيہ مجھ تک نہ پہنچے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی دعا قبول ہوئی اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے بعد اَزواج مطہرات رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ميں   سے سب سے پہلے وصال فرمايا۔ ‘‘   ([4])

اُمّ المؤمنین کے نزدیک فاروقِ اعظم کا مقام:

ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد تمام لوگوں   میں   سب سے زیادہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  محبوب ہیں  ۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن شقیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسےر وایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   نے ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا :   ’’ مَنْ

كَانَ اَحَبَّ النَّاسِ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟یعنی خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک لوگوں   میں   سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ اَبُوْ بَكْرٍ یعنی میرے والد گرامی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ ثُمَّ مَنْ؟ یعنی ان کے بعد کون زیادہ محبوب ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ ثُمَّ عُمَر میرے والد گرامی کے بعد حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے زیادہ محبوب ہیں  ۔ ‘‘  ([5])

اُمھات المؤمنین کی نگہبانی

اُمہات المومنین کا حج:

 



[1]    فیض القدیر ،  حرف الجیم ،  فصل فی المحلی۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۴۷۷ ،  تحت الحدیث: ۳۶۴۲۔

[2]    مسلم ،  کتاب البر والصلۃ۔۔۔الخ ،  باب بر الوالدین۔۔۔الخ ،  ص۱۳۷۸  ،  حدیث: ۱۔

[3]    شرح  زرقانی علی المواھب   ، المقصد الثانی ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاھرات ، ج۴ ، ص۳۵۶۔

[4]    طبقات کبری   ،  زینب بنت جحش ، ج۸ ، ص۸۷۔

[5]    مسند ابی یعلی ،   مسند عائشۃ ،  ج۴ ،  ص۲۳۷ ، حدیث: ۴۷۸۱۔



Total Pages: 349

Go To