Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(4)…جب کبھی تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنی کسی حاجت میں   حاجت برآری چاہتاہو تو دعا سے پہلے اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے درود پاک پڑھ۔ بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص پر بہت لطف وکرم فرماتا ہے جو اس سے اپنی حاجتیں   طلب کرے۔ پھر اگر کوئی شخص اللہ ربُّ العزَّت سے دو چیزیں   مانگتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے وہ چیز عطافرماتاہے جو اس کے حق میں   بہتر ہوتی ہے اور جو نقصان دہ ہواسے بندے سے روک لیتا ہے۔

(5)…جو شخص یہ چاہے کہ ہر وقت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں   مشغول رہے تو اسے چاہیے کہ صبر کو اپنا شِعار بنالے اورہر مصیبت پر صبر کرے ۔

(6)…اورجو شخص دنیوی زندگی (میں   طوالت) کا خواہش مند ہو توا سے چاہیےکہ مصائب کے لئے تیار ہوجائے۔

(7)…جو شخص عز ت ووقاربرقرار رکھنا چاہے تووہ رِیاکاری سے بچے۔   

(8)…جو شخص قائد ورہنما(یعنی سردار)بنناچاہے تو اسے چاہے کہ ہر حال میں   اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ چاہے اسے کتنی ہی دشواری کاسامنا کرنا پڑے (یعنی سرداری کے لئے ذمہ داریوں   کو پورا کرنے کی مشقت برداشت کرناضروری ہے۔ بغیرمشقت کے انسان کو بلند رتبہ حاصل نہیں   ہوتا)۔

(9)…جس بات سے تیرا تعلق نہ ہو خواہ مخواہ اس کے بارے میں   سوال نہ کر۔

(10)…بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جان اورفرصت کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھا  ،  ورنہ غم وپریشانی کا سامنا ہو گا۔

(11)…استقامت آدھی کامیابی ہے ،  جیسا کہ غم آدھا بڑھا پا ۔

(12)…جو چیز تیرے دل میں   کھٹکے اسے چھوڑ دے کیونکہ اس کو چھوڑ دینے ہی میں   تیری سلامتی ہے ۔ ([1])

سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے بزرگان دین نے ہماری رہنمائی کے لئے کیسے کیسے نصیحت آموز کلمات ارشاد فرمائے ،  مذکورہ بالا کلمات ایسے جامع اورحکمت آموز ہیں   کہ اگر کوئی شخص ان پر عمل کرلے تو وہ دارین کی سعادتوں   سے مالا مال ہوجائے ،  اسے دین ودنیا کے کسی معاملے میں   شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے  ،  ان بارہ کلمات میں   حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ہمیں   زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ بتا دیاہے کہ اگر اس طرح زندگی گزارو گے تو بہت جلد ترقی وکامیابی کی دولت نصیب ہوگی اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا نصیب ہوگی۔

            یہ حضرات خود علم وعمل کے پیکر ہوا کرتے تھے اورجو شخص مخلص وباعمل ہو اس کے سینے میں     اللہ عَزَّوَجَلَّ علم وحکمت کے چشمے رواں   فرمادیتاہے ،  پھر اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات کتنے ہی مُردہ دلوں   کو زندہ کردیتے ہیں    ،  کتنوں   کی بگڑی بن جاتی ہے ۔ جب یہ لوگ کسی کو نصیحت کرتے ہیں   تو خیر خواہی کی نیت سے کرتے ہیں   اورجو بات دل کی گہرائیوں   سے نکلے وہ مؤثر کیوں   نہ ہو۔ حقیقۃً وہی بات اثر کرتی ہے جو دل سے نکلتی ہے ۔

دل سے جوبات نکلتی ہے ،  اثر رکھتی ہے

پر نہیں   ،  طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

            اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہواور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔یَا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرما۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

خاتون جنت سیدہ فاطمہ سے عقیدت ومحبت

تمام مخلوق میں   سب سے زیادہ محبوب:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا بِنْتَ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  ،  وَاللہِ مَا مِنَ الْخَلْقِ اَحَدٌ اَحَبَّ اِلَيْنَا مِنْ اَبِيك  ،  وَمَا مِنْ اَحَدٍ اَحَبُّ اِلَيْنَا بَعْدَ اَبِيك مِنْكیعنی اے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تمام مخلوق میں   کوئی ایسا نہیں   جو ہمیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے والد گرامی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب ہو اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے والد گرامی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے زیادہ ہمیں   کوئی محبوب نہیں  ۔ ‘‘  ([2])

رسول اللہ کے چچا سے عقیدت ومحبت

حضرت عباس کے قریب سے سوار ہوکرنہ گزرتے:

حضرت سیِّدُنا ابن ابی زناد  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَہَّاب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ :  ’’ اِنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمْ يَمُرُّ بِعُمَرَ وَلَا بِعُثْمَانَ وَهُمَا رَاكِبَانِ اِلَّا نَزَلَا حَتّٰى يَجُوْزَ الْعَبَّاسُ اِجْلَالًالَهُ وَيَقُوْلَانِ عَمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیعنی حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قریب سے گزرتے اور وہ سوار ہوتے تو دونوں   اِن کی تعظیم کے لیے ان کے گزرنے تک سواری سے اتر جاتے اور فرماتے کہ یہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچا ہیں   ۔ ‘‘  ([3])

 



[1]    عیون الحکایات ،  ج۱ ،  ص۲۸۸۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب المغازی ،  باب ما جاء فی خلافۃ ابی بکر ،  ج۸ ،  ص۵۷۲ ،  حدیث: ۴ مختصرا۔

[3]    الاستیعاب ، عباس بن عبد المطلب ،   ج۲ ،  ص۳۶۰۔



Total Pages: 349

Go To