Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہدیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے مقابلے میں   حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ امتیازی سلوک فرمایا کرتے تھے۔ جب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ سے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا:   ’’  اِنَّهُ مَوْلَايَ یعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے آقا ومولا ہیں۔ ‘‘    ([1])

مولاعلی میرے اورہر مؤمن کے مولاہیں  :

حضرت سیِّدُنا ابو فاختہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ایک بار مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ایک ایسی مجلس میں   تشریف لائے جہاں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف فرما تھے۔ جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو دیکھا تو سمٹ گئے اور عاجزی کرتے ہوئے مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے جگہ کو کشادہ فرمادیا۔ مجلس کے اختتام کے بعد جب مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  تشریف لے گئے تو بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   عرض کیا:   ’’ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّكَ تَصْنَعُ بِعَلِيٍّ صَنِيْعًا مَا تَصْنَعُهُ بِاَحَدٍ مِّنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍیعنی اے امیر المؤمنین! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے ساتھ حسن سلوک کا جیسا انداز ہے ویسا کسی اور صحابی کے ساتھ نہیں   ہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا رَاَيْتَنِيْ اَصْنَعُ بِهٖیعنی آپ لوگوں   نے کیا دیکھا ،  میراان کے ساتھ کیسا رویہ ہے؟ ‘‘  عرض کیا:  ’’ رَاَيْتُكَ كُلَّمَا رَاَيْتَهُ تَضَعْضَعْتَ وَتَوَاضَعْتَ وَاَوْسَعْتَ حَتّٰى يَجْلِسَ یعنی ہم نے دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو دیکھتے ہیں   تو ان کے لیے سمٹ جاتے ہیں    ،  ان کے لیے عاجزی کرتے ہوئے جگہ کو وسیع کردیتے ہیں   جہاں   وہ تشریف فرما ہوتے ہیں  ۔ ‘‘   یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا يَمْنَعُنِيْ وَاللہِ اَنَّهُ لَمَوْلَايَ وَ مَوْلٰى كُلِّ مُؤْمِنٍیعنی مجھے مولاعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ اس حسن سلوک سے کون سی چیز روک سکتی ہے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! بے شک یہ میرے مولا ہیں   اور ہر مومن کے مولا ہیں۔ ‘‘   ([2])

مولاعلی کے لیے اپنی چادر اتار کر بچھا دی:

حضرت علامہ مولانا حافظ ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان فرماتے ہیں   کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے متعلق دریافت فرمایا تو بتایا گیا کہ وہ اپنی زمینوں   کی طرف گئے ہیں  ۔ ارشاد فرمایا:   ’’ اِذْهَبُوْا بِنَا اِلَيْهِ یعنی ہمیں   بھی وہیں   لے چلو۔ ‘‘   جب وہاں   پہنچے تو دیکھا کہ مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کام کر رہے ہیں   ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تقریباً ایک گھنٹہ ان کے ساتھ کام کرتے رہے۔ پھر دونوں   بیٹھ کر آپس میں   گفتگو کرنے لگے تو مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کیا:   ’’ يَا اَمِيْرَالْمُؤْمِنِيْنَ اَرَاَيْتَ لَوْ جَاءَكَ قَوْمٌ مِّنْ بَنِيْ اِسْرَائِيْلَ فَقَالَ لَكَ اَحَدُهُمْ اَنَا اِبْنُ عَمِّ مُوْسٰى اَكَانَتْ لَهُ عِنْدَكَ اَثْرَةٌ عَلٰى اَصْحَابِهٖیعنی اے امیر المؤمنین! اگر آپ کے پاس بنی اسرائیل کے کچھ لوگ آئیں   اور ان میں   سے ایک آدمی یہ کہے کہ میں   سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا زاد بھائی ہوں   تو کیا آپ اسے اس کے ساتھیوں   پر ترجیح دیں   گے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’  جی ہاں   ۔ ‘‘  تو مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے عرض کیا:   ’’ فَاَنَا وَاللہِ اَخُوْ رَسُوْلِ اللہِ وَابْنُ عَمِّهٖیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا چچا زاد بھائی یعنی ان کے چچا کا بیٹا ہوں  ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں  :   ’’ فَنَزَعَ عُمَرُ رِدَاءَهُ فَبَسَطَهُیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ سنتے ہیں   اپنی چادر اتار کر بچھا دی اور مولا علی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کو اس پر بٹھا دیا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا:   ’’ لَا وَاللہِ لَا يَكُوْنُ لَكَ مَجْلِسُ غَيْرِهٖ حَتّٰى نَفْتَرِقَ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اب ہمارے اٹھنے تک یہاں   آ پ کے علاوہ کوئی نہیں   بیٹھ سکتا۔ ‘‘  چنانچہ مولا علی شیر خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   مجلس کے ختم ہونے تک اس چادر پر ہی تشریف فرمارہے۔

امام دار قطنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ ذَكَرَ عَلِيٌّ لَهُ ذٰلِكَ اِعْلَامًا بِاَنَّ مَا فَعَلَهُ مَعَهُ مِنْ مَجِيْئِهٖ اِلَيْهِ وَعَمَلَهُ مَعَهُ فِيْ اَرْضِهٖ وَهُوَ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّمَا هُوَ لِقَرَابَتِهٖ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ فَزَادَ عُمَرُ فِيْ اِكْرَامِهٖ وَاَجْلَسَهُ عَلٰى رِدَائِهٖیعنی مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے اپنے آپ کو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچاکے بیٹے ہونے کاذکر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے یہ بتانے کے لیے کیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المؤمنین ہونے کے باوجود جو میرے ساتھ کام کیا وہ دراصل رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قرابت داری کی وجہ سے کیا ،  یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے اکرام میں   مزید اضافہ فرمایا اور آپ کو اپنی چادر پر بٹھایا۔ ‘‘  ([3])

فرامین مولاعلی بزبان فاروقِ اعظم:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں   :  ’’ حضرت مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے بارہ ۱۲اَیسے کلمات ارشاد فرمائے کہ اگر لوگ ان پر عمل کریں   تو کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوجائیں   اورکبھی بھی غلط حرکات نہ کریں  ۔ ‘‘   لوگوں   نے عرض کیا:  ’’ اے امیر المؤمنین! وہ کون سے کلمات ہیں  ؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  وہ نصیحت آموز کلمات یہ ہیں   :

(1)…تو اپنے مسلمان بھائی کی پسند کا خیال رکھ  ،  اس کے ساتھ بھلائی کر ۔ پھر تجھے بھی اس کی طرف سے تیری پسندیدہ چیز ہی ملے گی۔

(2)…کبھی بھی کسی مسلمان بھائی کے کلام میں   بدگمانی نہ کر (یعنی ہمیشہ اچھا پہلو تلاش کر )تجھے ضروراس کے کلام میں   کوئی اچھی بات مل جائے گی۔

(3)…جب تیرے سامنے دو کام ہوں   تو اس کام میں   ہرگز نہ پڑ جس میں   نفس کی پیروی کرنا پڑے کیونکہ نفس کی پیروی میں   سرَاسر نقصان ہے ۔

 



[1]    فیض القدیر ،  حرف المیم ،  ج۶ ،  ص۲۸۲ ،  تحت الحدیث: ۹۰۰۰ ،  تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۲ ،  ص۲۳۵۔

[2]    تاریخ ابن عساکر ،   ج۴۲ ،  ص۲۳۵۔

[3]    الصواعق المحرقۃ ،  ص۱۷۹۔



Total Pages: 349

Go To