Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اپنے والد کے منبر پر جا کر بیٹھیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ اِنَّ اَبِيْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْبَرْ یعنی میرے والد کا تو کوئی منبر ہی نہیں  ۔ ‘‘   یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے اپنی گود میں   بٹھالیا ،  میرے ہاتھ میں   کنکر تھے جن سے میں   کھیلتا رہا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفارغ ہوئے تو مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور فرمایا:   ’’ مَنْ عَلَّمَكَ؟یعنی اے حسین بیٹا! آپ کو یہ بات کس نے سکھائی ؟ ‘‘   میں   نے کہا:  ’’  کسی نے نہیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اَیْ بُنَيَّ لَوْ جَعَلْتَ تَاْتِيْنَا یعنی اے میرے بیٹے! میری تمنا ہے کہ آپ ہمارے پاس آیا کریں  ۔ ‘‘   چنانچہ میں   ایک دن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر گیا مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت ا میر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ علیحدگی میں   مصروفِ گفتگو تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دروازے پر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔کچھ دیر انتظار کے بعد وہ واپس لوٹنے لگے تو ان کے ساتھ ہی میں   بھی واپس لوٹ آیا۔بعد میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے میری ملاقات ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ لَمْ اَرَكَ یعنی حسین بیٹا! آپ ہمارے پاس دوبارہ آئے ہی نہیں  ؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’  اے امیر المومنین ! میں   تو آیا تھا مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ مصروفِ گفتگو تھے۔ آپ کے بیٹے عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے ( میں   نے سوچا جب بیٹے کو اندر جانے کی اجازت نہیں   ہے مجھے کیسے ہوسکتی ہے )لہٰذا میں   ان کے ساتھ ہی واپس چلا گیا۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اَنْتَ اَحَقُّ بِالْاِذْنِ مِنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ عُمَرَ اِنَّمَا اَنْبَتَ فِيْ رُؤُوْسِنَا اللہُ ثُمَّ اَنْتُمیعنی اے میرے بیٹے حسین ! میری اولاد سے زیادہ آپ اس بات کے حق دار ہیں   کہ آپ اندر آجائیں  ۔اور ہمارے سروں   پر یہ جو بال ہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بعد کس نے اگائے ہیں   تم سادات کرام نے ہی تو اگائے ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم کی شہزادۂ امامِ حسن کے ساتھ والہانہ محبت:

ایک بارامام حسن مجتبیٰ ،  لختِ جگر مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کا شانۂ فاروقی پر آنے کی اجازت طلب کی ،  ابھی اجازت نہ آئی تھی کہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے صاحبزادے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دروازے پر حاضر ہو کر داخل ہونے کی اجازت مانگی۔امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اجازت نہ دی ۔یہ دیکھ کر سیِّدُنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی واپس آگئے۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انھیں   بلا بھیجا ۔انھوں   نے آکر کہا :  ’’ یا امیر المومنین ! میں   نےیہ خیا ل کیا کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت نہیں   دی تو مجھے کیوں   دیں   گے؟ ‘‘   یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے شہزادۂ اہل بیت سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :   ’’ اَنْتَ اَحَقُّ بِالْاِذْنِ مِنْہُ وَھَلْ اَنْبَتَ الشِّعْرُ فِی الرَّاْسِ بَعْدَ اللہِ اِلَّا اَنْتُم یعنی آپ میرے بیٹے سے زیادہ اجازت کے مستحق ہیں  اور ہمارے سروں   پر یہ بال   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کے بعد آپ لوگوں   نے ہی تو اگائے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ میں   یہ احادیث مبارکہ نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ شہزادوں   سے امیر المومنین کے اس فرمانے کا مطلب بھی وہی ہے جو لفظ اَوّل میں   تھا کہ یہ بال تمھارے مہربان باپ ہی نے اگائے ہیں   صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس طرح اراکین سلطنت اپنے آقازادوں   سے کہتے ہیں   کہ جو نعمت ہے تمہاری ہی دی ہوئی ہے یعنی تمہارے ہی گھرسے ملی ہے ۔ ‘‘  ([3])

وظائف کی تقرری میں   سادات سے ابتدا:

حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا امام محمد باقر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وظائف مقرر کرنے کے لیے مردم شماری کروائی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا کہ  ’’ سب سے پہلے کس کا وظیفہ مقرر کیا جائے؟ آغاز کس سے کیا جائے؟  ‘‘  سب کہنے لگے:   ’’ اےامیر المومنین! سب سے پہلے آپ اپنا وظیفہ مقرر کریں  ۔ ‘‘   مگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سادات سے آغاز کیااور حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہو حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے پانچ پانچ سو درہم ماہانہ وظیفہ مقرر کیا۔([4])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مولاعلی سے عقیدت ومحبت

مولاعلی کی دوستی کے بغیر شرف کی تکمیل نہیں  :

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ تَحَبَّبُوا اِلَى الْاَشْرَافِ وَتَوَدَّدُوْا وَاتَّقُوْا عَلٰى اَعْرَاضِكُمْ مِنَ السُّفْلَةِ وَاعْلَمُوْا اَنَّهُ لَا يُتِمُّ شَرْفٌ اِلَّا بِوِلَايَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰى عَنْهُیعنی اشراف سے اظہار محبت کرو اور انہیں   سے محبت رکھو  ،  اپنی عزتوں   کو جاہلوں   سے محفوظ رکھو اور اچھی طرح جان لو کہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دوستی کے بغیر شرف مکمل ہی نہیں   ہوتا۔ ‘‘  ([5])

مولاعلی کی تین خصوصیات بزبان فاروقِ اعظم:

حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ لَقَدْ اُعْطِيَ عَلِيُّ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ ثَلَاثُ خِصَالٍ



[1]    تاریخ ابن عساکر  ،  ج۱۴ ،  ص۱۷۵۔

[2]    الصواعق المحرقۃ ،  ص۱۷۹۔

[3]    فتاویٰ رضویہ ،  ج۳۰ ،  ص۴۶۷۔

[4]    الاوائل للعسکری  ، ج۱ ، ص۴۶ ،   ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۳۴۱۔

[5]    الصواعق المحرقۃ ،  ص۱۷۸۔



Total Pages: 349

Go To