Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تیری نسل پاک میں   ہے بچہ بچہ نور کا

تو ہے عین نور تیرا سب گھرانا نور کا

امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ خود اس شعر کی شرح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’ میرے آقااعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اِس شعر میں   فرماتے ہیں  : یا نورَاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ تو ہیں   ہی نو ر بلکہ نُوْرٌ عَلٰی نُوْر (یعنی نور پَر نور)۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارَک نَسل میں   تا قِیامت جتنے بھی بچّے ہوں   گے یعنی ساداتِ کرام وہ بھی سب کے سب نور ہیں  ۔اے نور والے پیارے پیارے آقا! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سارے کا سارا گھرانا ہی نور ، نور اور بس نور ہے۔ ‘‘  ([1])

نور اندر نور باہر گھر کا گھر سب نور ہے

آگیا وہ نور والا جس کا سارا نور ہے

            آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں   کہ بارہا مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بھی یہ عادت مبارکہ ہے کہ آپ سے جو اسلامی بھائی ملاقات کے لیے آتے ہیں   انہیں   عموماً آپ کی طرف سے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور عطا ہوتا ہے ،  اگر کسی اسلامی بھائی کے بارے میں   یہ معلوم ہو جائے کہ یہ سید صاحب ہیں   تو اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں   نیز دیگر لوگوں   کے مقابلے میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سنت پر عمل کرتے ہوئے ان سید صاحب کو دوگنا تحفہ پیش کرتے ہیں  ۔

اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور

نجم ہیں   اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

سب صحابہ سے ہمیں   تو پیار ہے

ان شاء اللہ اپنا بیڑا پار ہے

ہم کو اہل بیت سے بھی پیار ہے

دو جہاں   میں   اپنا بیڑا پار ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حسنین کریمین کی خوشی میں   فاروقِ اعظم کی خوشی:

حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا امام محمد باقر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس یمن سے کچھ عمدہ کپڑے آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہ کپڑے مہاجرین و انصار میں   تقسیم کردیے۔لوگ ان کپڑوں   کو پہن کر بہت فرحت محسوس کررہے تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر رسول اور قبر انور کے درمیان تشریف فرماتھے ،  لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوتے اور آپ کو سلام کرتے اور دعائیں   دیتے۔اچانک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے شہزادیٔ کونین کے کاشانۂ اقدس سے حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا باہر تشریف لائے کیونکہ سیدہ فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا گھر مسجد نبوی کے صحن ہی میں   تھا۔ دونوں   شہزادوں   کے جسموں   پر ان عمدہ کپڑوں   میں   سے کوئی کپڑا نہیں   تھا۔ جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے شہزادوں   کو دیکھا تو آپ کے تیور تبدیل ہوگئے ،  ماتھے پر شکن پڑگئے ،  آپ نے جلال میں   آکر ارشاد فرمایا:   ’’ وَاللہِ مَا هَنَاَنِيْ مَا كَسَوْتُكُمْیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   نے جو تم لوگوں   کو قیمتی کپڑے پہنائے ہیں   انہیں   دیکھ کر مجھے ذرہ بھر بھی خوشی نہیں   ہوئی۔ ‘‘  سب لوگ یہ سن کر حیران وپریشان ہوگئے اور عرض کرنے لگے کہ  ’’ حضور ایسی کیا بات ہوگئی جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیہ ارشاد فرمارہے ہیں  ؟ حالانکہ یہ تمام کپڑے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خود ہی عطا فرمائے ہیں۔ ‘‘ 

ارشاد فرمایا:   ’’ مِنْ اَجْلِ الْغُلَامَيْنِ يَتَخَطِّيَانِ النَّاسَ لَيْسَ عَلَيْهِمَا مِنْهُمَا شَيْ ءٌیعنی یہ بات میں   ان دونوں   شہزادوں   کی وجہ سے کہہ رہا ہوں   ،  جو لوگوں   کے درمیان اس حالت میں   چل رہے ہیں   کہ ان دونوں   نے ان قیمتی کپڑوں   میں   سے کوئی کپڑا پہنا ہوا نہیں   ہے۔ ‘‘  راوی کہتے ہیں   کہ :  ’’ ثُمَّ كَتَبَ اِلٰى صَاحِبِ الْيَمَنِ اَنْ اَبْعَثَ اِلَيَّ بِحُلَّتَيْنِ لِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَعَجِّلْیعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فوراً حاکم یمن کو خط لکھا کہ جلد از جلد امام حسن اور امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے لیے دو بہترین اور قیمتی حلے تیار کرواکے بھیجو۔ ‘‘  حاکم یمن نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور دو حلے تیار کرواکے بھیج دیے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حسنین کریمین کو وہ جوڑے پہنائے اور مسرور ہو کر ارشاد فرمایا:  ’’ لَقَدْ كُنْتُ اَرَاهَا عَلَيْهِمْ فَمَا يَهْنِيْنِيْ حَتّٰى رَاَيْتُ عَلَيْهِمَا مِثْلَهَا یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !جب تک ان دونوں   شہزادوں  نے نئے کپڑے نہیں   پہنے تھے مجھے دوسروں  کے پہننے کی کوئی خوشی نہ تھی۔ ‘‘ 

ایک روایت میں   یوں   ہے کہ حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   کو کپڑے پہنا کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلْآنَ طَابَتْ نَفْسِيْ یعنی اب میں   خوش ہو گیا ہوں  ۔ ‘‘ ([2])

اپنی اولاد سے زیادہ سادات کرام سے محبت:

حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمنبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں   آیا اور منبر پر چڑھ گیا اور اپنی ننھی سوچ کے مطابق آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہنے لگا کہ  ’’ اِنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِ اَبِيْ وَاذْھَبْ مِنْبَرَاَبِيْكَیعنی آپ میرے والدکے منبر سے اترجائیں   ،  



[1]    نیکی کی دعوت ،  حصہ اول ،  ص۵۸۶۔

[2]    تاریخ ابن عساکر  ، ج۱۴ ، ص۱۷۷ ،  ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۴۱۔



Total Pages: 349

Go To