Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…ان کے بعد حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر اپنا حصہ مانگا۔

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ بِالرَّحْبِ وَالْكَرَامَةِیعنی آپ کے لیے بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔ ‘‘   ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک ہزار درہم انہیں   بھی دے دیے۔

٭…اس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاٹھے اور اپنا حصہ مانگا ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ بِالرَّحْبِ وَالْكَرَامَةِیعنی آپ کے لیے بھی بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔ ‘‘   اور ساتھ ہی انہیں   پانچ سو درہم عطا فرمائے۔

انہوں   نے عرض کیا:   ’’  اے امیر المومنین ! میں   نے اس وقت بھی حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تلوار اٹھا کر جہاد کیا ہے جب سیِّدُنا حسن و حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کم عمر مدنی منے تھے۔ اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   ایک ایک ہزار درہم اور مجھے پانچ سو عطا کیے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ سننا تھا کہ اہل بیت کی محبت کا سمندر موجیں   مارنے لگا اور عشق ومحبت سے سرشار ہوکر ارشاد فرمایا:  ’’ اِذْهَبْ فَأْتِنِی بِاَبٍ كَاَبِيْهِمَا وَاُمٍّ كَاُمِّهِمَا وَجَدٍّ كَجَدِّهِمَا وَجَدَّةٍ كَجَدَّتِهِمَا وَعَمٍّ كَعَمِّهِمَا وَخَالٍ كَخَالِهِمَا فَاِنَّكَ لَا تَاتِيْنِيْ بِهٖ جی ہاں   بالکل! (اگر تم چاہتے ہوکہ میں   تمہیں   بھی ان کے برابر حصہ دوں   تو)جائو پہلے تم حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے باپ جیسا باپ لائو  ، ان کی والدہ جیسی والدہ  ،  ان کے نانا جیسانانا ،  ان کی نانی جیسی نانی  ،  ان کے چچا جیسا چچا  ،  ان کے ماموں   جیسا ماموں   اوران کی ممانیاں   جیسی ممانیاں   لائواورتم کبھی بھی نہیں   لاسکتے۔کیونکہ :

٭… ’’ اَبُوْهُمَا فَعَلِيُّ الْمُرْتَضٰىان کے والد علی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ اُمُّهُمَا فَفَاطِمَةُ الزَّهْرَاءان کی والدہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ جَدُّهُمَا مُحَمَّدُنِ الْمُصْطَفٰیان کے نانا محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں  ۔ ‘‘ 

٭…  ’’ جَدَّتُهُمَا خَدِيْجَةُ الْكُبْرٰىان کی نانی سیدہ خدیجۃ الکبری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ عَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍان کے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔ ‘‘ 

٭…  ’’ خَالُهُمَا اِبْرَاهِيْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَان کے ماموں   حضرت ابراہیم بن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ خَالَتَاهُمَا رُقَيَّةُ وَاُمُّ كُلْثُوْمٍ اِبْنَتَا رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّماور ان کی خالائیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیٹیاں  سیدہ رقیہ اورسیدہ اُمّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

اعلی حضرت سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں  :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اہل بیت سے عشق ومحبت کا یہ نہایت ہی انوکھا انداز ہے کہ اپنی سگی اولاد کے مقابلے میں   اہل بیت کے شہزادوں   کو دو گنا عطا فرمایا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اہل بیت سے یہی محبت آج آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشاق میں   بھی سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عاشق فاروقِ اعظم ،  اعلی حضرت ،  عظیم البرکت ،  امام اہل سنت ،  مجدددین وملت ،  پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں   ،  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی عادات مبارکہ میں   سے تھا کہ جب محفل میلاد وغیرہ میں   شیرنی تقسیم ہوتی تو سادات کرام کو دیگر لوگوں   کی بنسبت دوگنا حصہ نذر کیا جاتا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے خلیفہ مولانا ظفر الدین بہاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں  :  

 ’’ حضور (یعنی اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  )کے یہاں   مجلس میلاد مبارک میں   سادات کرام کو بنسبت اور لوگوں   کے دوگنا حصہ بروقت تقسیم شرینی (یعنی شرینی تقسیم ہوتے وقت)ملا کرتا تھا اور اسی کا اتباع اہل خاندان بھی کرتے ہیں۔ ‘‘  ([2])

امیر اہل سنت سیرتِ فاروقی کے مظہر ہیں  :

            تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے بانی ،  عاشق اعلی حضرت ،  امیر اہلسنت ،  شیخ طریقت  ،  رہبر شریعت ،  حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس وقت عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت ہیں   ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ عشقِ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں   فنا ہیں   اور یہ ایک فطری امر ہے کہ جس سے عشق ہوتا ہے اس سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے بھی عشق ہوجاتا ہے ۔محبوب کے گھر سے ،  اس کے درو دیوار سے  ،  محبوب کے گلی کوچوں   تک سے عقیدت ہوجاتی ہے۔ پھربھلا جوعشق نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں   گم ہو وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آ ل اور اَہلِ بیت سے محبت کیوں   نہ رکھے گا۔لہٰذا جہاں   آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو مدینہ پاک کے ذرہ ذرہ سے بے پناہ محبت ہے وہیں   آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  حضراتِ ساداتِ کرام کی تعظیم و توقیر بجالانے میں   بھی پیش پیش رہتے ہیں  ۔ ملاقات کے وقت اگرامیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کو بتادیا جائے کہ یہ سید صاحب ہیں   توبار ہا دیکھا گیا ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نہایت ہی عاجزی سے سید زادے کا ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں  ۔ انہیں   اپنے برابر میں   بٹھاتے ہیں   ،  ساداتِ کِرام کے بچوں   سے بے پناہ محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں  ۔کبھی کبھی کسی سید زادے کو دیکھ کر امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا یہ شعر جھوم جھوم کر پڑھنے لگتے ہیں  ۔

 



[1]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۳۴۰۔

[2]    حیاتِ اعلی حضرت ،  ج۱ ،  ص۱۸۲۔



Total Pages: 349

Go To