Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے محبت کرتا ہوں   اور مجھے اُمید ہے کہ ان سے محبت کرنے کی وجہ سے میں   انہیں   کے ساتھ ہوں   گا اگرچہ میرے اعمال ان کے مثل نہیں   ہیں۔ ‘‘  ([1])

شارح حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں  :   ’’ اس حدیث پاک میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ،  اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ،  صالحین اور اہل خیر سے محبت کی فضیلت ہے ،  خواہ وہ صالحین حیات ہوں   یا وفات پاچکے ہوں  ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کی علامت یہ ہے کہ مسلمان اُن کے احکام پر عمل کرتا ہے اور جن کاموں   سے انہوں   نے منع کیا ہے اُن سے باز رہتاہے۔ جبکہ صالحین سے محبت میں   یہ شرط نہیں   ہے کہ انسان اُن کے اعمال کی مثل عمل کرے کیونکہ اگر وہ اُن کے اعمال کی مثل کرے گا تو وہ خود صالحین میں   سے ہوگا ،  اُن کی مثل ہوگا نہ کہ اُن کے محبین میں   سے ہوگا۔([2])

فاروقِ اعظم سے محبت کرنے کا مقام :

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ اَحَبَّ عُمَرَ عُمِرَ قَلْبُہُ بِالْاِیْمَانِ یعنی جس نے عمر سے محبت کی اس کا دل ایمان سے معمور کردیا جائے گا۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی ناراضگی رب کی ناراضگی

 فاروقِ اعظم کی ناراضگی سے اللہ ناراض ہوتا ہے :

حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منو رہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِتَّقُوْا غَضَبَ عُمَرَ ،  فَاِنَّ اللہَ يَغْضِبُ اِذَا غَضَبَیعنی عمر کے غضب سے بچا کرو کیونکہ   ان کی ناراضگی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی ناراض ہوجاتا ہے۔ ‘‘   ([4])

 فاروقِ اعظم کی رضا حکم ہے:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو جہاں   کے تاجْوَر ،  سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’  اَتَانِيْ جِبْرِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ اِقْرَاْ عُمَرَ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ اِنَّ رَضَاهُ حُكْمٌ وَاِنَّ غَضَبَهُ عِزٌّیعنی میرے پاس جبریل امین (عَلَیْہِ السَّلَام  )آئے اور کہا کہ عمر فاروق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ طرف سے سلام دے دیں  اور انہیں   یہ بتادیں   کہ ان کی رضا حکم ہے ،  اور ان کی ناراضگی(دین کے لیے) عزت ہے۔ ‘‘  ([5])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رضا کو حکم اور آپ کے غضب کو دین کے لیے عزت اس لیے فرمایا گیا ہے کہ آپ فقط حق بات کے لیے ہی راضی ہوتے اور غصہ فرماتے ہیں   ۔([6])

جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا:

حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسےروایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ اَحَبَّ عُمَرَفَقَدْ اَحَبَّنِيْ وَمَنْ اَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ اَبْغَضَنِيْ یعنی جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ ‘‘  ([7])

زندگی میں   عزت اور رحلت میں   شہادت:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ صَاحِبٌ رَحَا دَارَةُ الْعَرَبِ يَعِيْشُ حَمِيدًا وَيَمُوْتُ شَهِيْدًایعنی وہ شخص ایسا ہے کہ عرب کے شہروں   کا سردارہے ،  وہ زندہ رہے گا تو عزت سے اور رحلت کرے گا تو شہادت سے۔ ‘‘   عرض کیا گیا:   ’’ وہ کون ہے؟ ‘‘   فرمایا:  ’’  عمر بن خطاب۔ ‘‘  ([8])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ساتواں باب ۔۔۔ (حصہ دوم)

(رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اولاد و اقراباء سے محبت )

                                                            اس باب میں ملا حظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اہل بیت سے عقیدت و محبت

 



[1]    بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب عمر ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۵ ،  حدیث: ۳۶۸۸۔

[2]    شرح صحیح مسلم ،  کتاب الفضائل ،  باب المرء مع من احب ،  ج۱۶ ،  ص۱۸۶ ،  تحت الحدیث:  ۱۶۲۔

[3]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۱۹۔

[4]    جمع الجوامع  ، حرف الھمزہ  ،  ج۱ ،  ص۸۳ ،  حدیث: ۴۳۴۔

[5]    معجم کبیر  ، باب العین  ، ج۱۲ ،  ص۴۸ ،  حدیث: ۱۲۴۷۲۔

[6]    فیض القدیر ،  ج۲ ،  ص۲۷۸ ،  تحت الحدیث: ۱۷۰۸ملخصا۔

[7]    الشفاء ، الباب الثالث فی تعظیم امرہ ووجوب توقیرہ  ، فصل من توقیرہ وبرہ ، ج۲ ،  ص۵۴۔

[8]    معجم اوسط  ، من اسمہ مطلب ،  ج۶ ،  ص۲۷۲ ،  حدیث:  ۸۷۴۹۔



Total Pages: 349

Go To