Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فضائلِ فاروقِ اعظم بزبان سرورِدوعالم

اگر میرے بعدکوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے:

حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :  ’’  لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیًّا لَکَانَ عُمَریعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ ‘‘   ([1])

اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیث مبارکہ کو ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ آپ (سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی فطرت اتنی کاملہ تھی کہ اگر دروازۂ نبوت بند نہ ہوتا تو محض فضل الٰہی سے وہ نبی ہوسکتے تھے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے نبوت کا کوئی مستحق نہیں۔ ‘‘   ([2])

رسول اللہ کا فاروقِ اعظم سے دُعا کے لیے فرمانا:

            حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں   کہ میرے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سےعمرہ پر جانے کی اجازت چاہی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’  اے میرے بھائی اپنی دعا میں   ہمیں   نہ بھول جانا۔ ‘‘   بعض روایات میں   یوں   بھی آیا ہے کہ اے میرے بھائی!  ’’ اپنی دعا میں   ہمیں   بھی شامل رکھنا۔ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   :  ’’ جہاں   کی تمام تر نعمتوں   سے بڑھ کر میرے لیے یہ بڑی نعمت ہے کہ آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا:  ’’  اے میرے بھائی ۔ ‘‘  ([3])

دعاکے لیے فاروقِ اعظم کے پاس بھیجا:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور میں   قحط پڑا تو ایک شخص خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی قبر منور پر آیا اور عرض کیا:   ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے امت کے لیے بارش مانگیں   ،  لوگ ہلاک ہوئے جاتے ہیں  ۔ ‘‘   سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس کے خواب میں   تشریف لائے اورارشاد فرمایا:   ’’  تم عمر فاروقِ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے پاس جائو اور کہو کہ لوگوں   کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بارش طلب کریں   ،  یقیناً بادل برسے گا اور عمر سے یہ بھی کہوکہ دُور اندیشی سے کام لیں  ۔ ‘‘   ا س شخص نے بارگاہِ فاروقی میں   حاضر ہو کر سارا خواب بیان کردیا۔خواب سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبہت روئے اور فرمایا:   ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مَیں   نے عذر کے بغیر تیرے احکام کی بجا آوری میں   کبھی کمی نہیں   چھوڑی ۔ ‘‘  ([4])

درودشریف اور ذکر عمر سے مجالس کو مزین کرو:

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں   کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ زَيِّنُوْا مَجَالِسَكُمْ بِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِذِكْرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِیعنی اپنی مجلسوں   کو مجھ پر درود پاک پڑھ کراور عمر کا ذکر کرکے آراستہ کرو۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم ’’ مُحَدَّث  ‘‘  ہیں 

فاروقِ اعظم اُمت محمدیہ کے محدث ہیں  :

اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ پہلی امتوں   میں   مُحَدَّثْ ہوتے تھے میری امت میں   اگر کوئی مُحَدَّث ہے تو عمر ہے۔ ‘‘  ([6])

 ’’ مُحَدَّث  ‘‘   کسے کہتے ہیں  ؟

علامہ محب طبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ یہاں   مُحَدَّث کا معنی یہ ہے کہ جس پر ربانی الہام ہو ،  یعنی وہ لوگ جن پر وحی نہیں   آتی مگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے آئینہ قلب پر اسرار نازل فرماتاہے۔ ‘‘   ([7])

فاروقِ اعظم اُمت میں   کلام کرنے والے ہیں  :

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:  ’’ تم سے پہلی امتوں   میں   کچھ لوگ ہوتے تھے جو نبی نہ ہونے کے باوجود کلام کرتے تھے ،  میری امت میں   اگر کوئی ہے تو عمر ہے۔ ‘‘  ([8])

 



[1]    ترمذی  ، کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۵ ،  حدیث: ۳۸۰۶۔

[2]    فتاویٰ رضویہ ،  ج۲۹ ،  ص۳۷۳۔

[3]    ترمذی  ، کتاب الدعوات  ،  باب من ابواب الدعوات ،  ج۵ ،   ص۳۲۹ ،  حدیث: ۳۵۷۳۔

                                                مسند امام احمد ، مسند عمر بن  الخطاب  ،  ج۱ ،  ص۷۰ ،  حدیث: ۱۹۵۔

[4]    مصنف ابن ابی شیبہ  ، کتاب الفضائل  ، ماذکر فی فضل عمر ،  ج۷ ،  ص۴۸۲ ،  حدیث: ۳۵ ،  الاستیعاب  ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۸۔

[5]    تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۳۸۰۔

[6]    بخاری  ، کتاب احادیث الانبیاء ، حدیث الغار ،  ج۲ ،  ص۴۶۶ ،  حدیث: ۳۴۶۹۔

[7]    ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۲۸۷۔

[8]    بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۷ ،  حدیث:  ۳۶۸۹۔



Total Pages: 349

Go To