Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَسَلَّمَ يَفْعَلُمیں   وہی کر رہا ہوں   جو میں   نے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو کرتے دیکھا ہے۔ ‘‘  ([1])

اتباع رسول میں فاروقِ اعظم کی سادہ اورسخت کوش زندگی :

حضرت سیِّدُنا مصعب بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی:  ’’  اے امیرا لمومنین ! آ پ نے جو کپڑے پہنے ہیں   یہ تو بہت سخت ہیں   آپ ان سے نرم کپڑے کیوں   نہیں   پہنتے نیز آپ جو کھانا کھاتے ہیں   وہ آپ کے شایان شان نہیں   آپ اس سے اچھا کھانا کیوں   نہیں   پسند کرتے حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   رزق میں   وسعت بھی دے رکھی ہے؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ میں   اب تمہارے ضمیر سے اس کی دلیل فراہم کرتا ہوں   ، تمہیں   یاد نہیں   کہ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کس قدر مشقت آمیز زندگی بسر کرتے تھے۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دکھوں   اور تکالیف سے بھری زندگی کے مختلف احوال سناتے رہے یہاں   تک کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  رونے لگیں  ۔ پھر ارشاد فرمایا:  ’’  خدا کی قسم ! دنیا میں   میں   بھی نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورخلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسی تکلیفوں   بھری زندگی گزاروں   گا تاکہ میں   ان دونوں   جیسی پسندیدہ زندگی پاسکوں  ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی سنت سے محبت :

ایک روایت میں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اے بیٹی! حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات طیبہ کیسی تھی؟ ‘‘  انہوں   نے کہا:  ’’ خدا کی قسم! ایک ایک ماہ گھر میں   نہ دیا جلتا اور نہ ہی ہنڈیاپکتی تھی۔ سیِّد عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک جُبّہ ہوتاتھا جسے آپ اوڑھنا اور بچھونا بنالیتے۔ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ یہ بتائو نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زندگی کیسی تھی؟ انہوں   نے کہا:   ’’ وہ بھی ویسی ہی تھی۔ ‘‘   تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اُن تین دوستوں   کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ،  جن میں   سے دو دنیامیں   ایک ہی طریقے پر چلتے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئےاور تیسرا اُن کی مخالفت میں   چلے۔ کیا وہ ا ِن سے جا ملے گا؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:   ’’ ہر گز نہیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’  وہ تیسرا ساتھی میں   ہوں   ،  میں   ان کی سنت پر ہی چلتا ہوا ان کے پاس پہنچوں   گا۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی آئیڈیل شخصیات

پیارے آقا کی پیروی کا جذبہ:

حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا:   ’’ مالِ غنیمت کے ذخیرے میں   ایک اندھی اونٹنی بھی ہے اس کا کیا کریں  ؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اُسے کسی ایسے گھرانے کے سپرد کردو جو اس سے بہتر استفادہ کرسکیں   ۔ ‘‘  ( یعنی غریب ہوں  ) میں   نے کہا:   ’’ حضور!وہ تو اندھی ہے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اسے وہ اپنے اونٹوں   کی قطار میں   لگالیں   گے۔ ‘‘   میں   نے کہا:  ’’ حضور! وہ زمین سے چرے گی کیسے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ وہ جزیہ کے غلہ میں   سے ہے یا صدقہ کے جانوروں   میں   ہے؟ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ جزیہ میں   سے۔ ‘‘   فرمایا:  ’’  خدا کی قسم! تم لوگ اسے کھانا ہی چاہتے ہو۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس سات بڑے تھال پڑے رہتے تھے ،  اگر کہیں   سے کوئی پھل یا کوئی نئی چیز آتی تو ان میں   ڈال دی جاتی اور انہیں   سب سے پہلے حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواج مطہرات کے گھروں   میں   بھیج دیا جاتا۔سب سے آخر میں   اُمّ المومنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا حصہ بھیجا جاتا تاکہ اگر کمی آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی کے حصہ ہی میں   آئے۔ ‘‘   چنانچہ اس اونٹنی کا کچھ گوشت ان تھالوں   میں   ڈالا گیا اوراُمہات المؤمنین ،  رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات کی خدمات میں   بھیجا گیا اور بقیہ گوشت کو پکوا کر مہاجرین و انصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی دعوت کر دی گئی۔ حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے:  ’’  اے امیر المومنین! اگر آپ ہر روز ایسی ہی دعوت کیا کریں   تو کتنا اچھا ہو۔ کئی مرتبہ آپ نے پہلو تہی کرتے ہوئے دعوت نہ کی اور نہ آپ کے ساتھ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے۔ ‘‘   یہ سن کرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ آئندہ میں   ایسی دعوت کبھی نہیں   کروں   گا۔ میرے دونوں   دوستوں  (یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے جس راہ کو پسند کیا اور اس پر چلے ،  اگر میں   وہ چھوڑدوں   تو ان کے راستے سے ہٹ کر کسی اور راہ میں   جا پڑوں   گا۔ ‘‘  ([4])

 بڑھی ہوئی آ ستینوں   کو چھری سے کاٹ لیا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نئی قمیص پہنی تو چھری منگوائی اور فرمایا:   ’’ اے بیٹے ! اس کی لمبی آستینوں   کو سرے سے پکڑ کر کھینچو اور جہاں   تک میری انگلیاں   ہیں   ان کے آگے سے کپڑا کاٹ دو۔ ‘‘   سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں   نے اسے کاٹا تو وہ بالکل سیدھا نہیں   بلکہ اوپر نیچے سے کٹا۔ میں   نے عرض کیا:   ’’ ابا جان! اگر اسے قینچی سے کاٹا جاتا تو بہتر رہتا؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ بیٹا!اسے ایسے ہی رہنے دو کیونکہ میں   نے شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایسے ہی کاٹتے دیکھا تھا۔اس لیے میں   نے بھی چھری سے آستینیں   کاٹ دیں  ۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا



[1]     مسلم  ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا  ، با ب صلوۃ المسافرین۔۔۔الخ  ، ص۳۴۹ ،  حدیث: ۱۳۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الزھد ، ما ذکر عن نبینا ۔۔۔الخ ، ج۸ ، ص۱۳۰ ، حدیث: ۳۳۔

[3]    ریاض النضرۃ ، ج۱ ، ص۳۳۸۔

[4]    موطا امام مالک ،  کتاب الزکاۃ ،  باب جزیۃ اھل الکتاب۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۲۵۷ ،  حدیث: ۶۳۰ ،  ریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۳۸۔



Total Pages: 349

Go To