Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میں   میری جان ہے! اگر تم پر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے تو راہِ راست سے ہٹ جاتے اور اگر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام دنیا میں   ہوتے اور میری نبوت کے ظہور کے زمانے کو پاتے تو میری پیروی کرتے۔ ‘‘  ([1])

فاروقِ اعظم مزاج شناس رسول اللہ:

حضرت سیِّدُنا ابوقتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ایک شخص حاضر ہو کر کہنے لگا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ روزہ کیسے رکھتے ہیں  ؟ ‘‘  سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ بات سن کر جلال آگیا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب رخ انور پر جلال کے آثار دیکھے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو راضی کرنے کے لیے یوں   گویا ہوئے:  ’’ رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُوْلِہٖ یعنی ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے ،  اسلام کے دین ہونے  ،  محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں   اور ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جلال سے پناہ مانگتے ہیں  ۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبار بار یہ الفاظ دھرانے لگے تونبیٔ اکرم رحمت دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جلال مبارک رحمت میں   تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس شخص کے بارے میں   کیا ارشاد ہے جو ساری عمر بلا ناغہ روزہ رکھتا ہے؟ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ نہ اس نے روزہ رکھا نہ چھوڑا۔ چھوڑا تو اس نے واقعی نہیں   مگر اسے کسی روزہ کا ثواب بھی نہیں   ملا اس لیے روزہ رکھا بھی نہیں  ۔ ‘‘   عرض کیا:   ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جو شخص ہمیشہ دو دن روزہ رکھتا اور ایک دن چھوڑتا ہے اس کے بارے میں   کیا فرماتے ہیں  ؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ ایسی طاقت کس میں   ہے؟ ‘‘  عرض کیا:  ’’  ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن چھوڑنے والا کیسا ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ یہ تو دائود عَلَیْہِ السَّلَام  کا روزہ ہے۔ ‘‘   عرض کیا:   ’’ جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن چھوڑے وہ کیسا ہے؟ ‘‘   فرمایا:  ’’  میں   چاہتا ہوں  کہ مجھ میں   ایسی طاقت آجائے۔ ‘‘   اس کے بعد رحمتِ عالم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  ’’  ہر ماہ میں   تین دن اور رمضان میں   پوراماہ روزہ رکھنا تمام عمر روزہ رکھنے کی فضیلت رکھتا ہے ،  اور عرفات کے دن روزہ رکھنے میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مجھے امید ہے کہ اگلے ایک سال اور پچھلے ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں   اور دسویں   محرم کے روزہ میں   رب کی رحمت سے مجھے امید ہے کہ پہلے ایک سال کے گناہ دھُل جاتے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کا خوف خداوخوف رسول خدا:

حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بعض سوالات کیے گئے جو آپ کو ناپسند آئے مگر جب وہ سوالات بار بار پوچھے گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال میں   آگئے اور ارشاد فرمایا:   ’’ فَلَا تَسْئَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا اَخْبَرْتُکُمْ یعنی تم مجھ سے جس شے کے بارے میں   پوچھوگے میں   تمہیں   بتاؤں   گا۔ ‘‘   تو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن حذافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میرا باپ کون ہے؟ ‘‘   آپ نے فرمایا :  ’’ تیر ا باب حذافہ ہے۔ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چہرے اقدس پر جلال کے آثار دیکھے تو عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   توبہ کرتے ہیں  ۔ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے ،  اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نبی ہونے پر راضی ہیں  ۔ یہ سن کر خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کاجلال رحمت میں   تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیوار کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:  ’’ ابھی اس دیوار کے وسط میں   مجھ پر جنت ودوزخ پیش کی گئی اس سے پہلے میں   نے خیر وشر کی ایسی مثال نہیں   دیکھی۔ ‘‘  ([3])

رسول اللہ کا جلال دیکھ کر فوراًتوبہ :

حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک بار ہمارے پاس تشریف لائے تو انتہائی جلال کی حالت میں   تھے۔ ہمیں   یوں   لگا جیسے جبریل امین بھی آپ کے ساتھ ہیں  ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف لے گئے۔سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ اس دن سے زیادہ میں   نے آپ کو کبھی روتے ہوئے نہ دیکھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:   ’’  سَلُوْنِیْ فَوَاللہِ لَا تَسْئَلُوْنِیْ عَنْ شَیْءٍ اِلَّا اَنْبَئْا تُکُمْ یعنی آج پوچھو ،  جو بھی پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔ خدا کی قسم! جو کچھ تم پوچھو گے میں   تمہیں   ضروربتاؤں   گا۔ ‘‘   ایک صحابی نے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرا باپ کون ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ حذافہ۔ ‘‘   ایک منافق بولا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   جنت میں   جائوں   گا یا جہنم میں  ؟ ‘‘   فرمایا:   ’’  جہنم میں  ۔ ‘‘  ایک اور شخص بولا:  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم پر ہر سال حج فرض ہے؟ ‘‘   فرمایا :  ’’  اگر میں   کہہ دوں  :  ہرسال تو ہرسال حج فرض ہوجاتا جسے تم پورا نہ کرسکتے اور تم ہر سال حج نہ کرتے تو تم پر عذاب نازل ہو تا۔ ‘‘  دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا جلال دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فوراً پکار اٹھے:  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے ،  اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نبی ہونے پر راضی ہیں  ۔ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمارے سر بستہ ایسے راز نہ کھولیں  ۔ ہمیں   معاف فرمادیجئے ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے گا۔ ‘‘  یہ سُن کر سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا غصہ جاتا رہا۔اس کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ



[1]     دارمي ،  باب ما یتّقي من تفسیر حدیث النبی ۔۔۔ إلخ ،  ج۱ ،  ص۱۲۶ ،  حدیث: ۴۳۵۔

[2]     مسلم ، کتاب الصیام ،  استحباب  صیام ثلاثۃ ایام ،  ص۵۸۹ ،  حدیث: ۱۱۶۲۔

[3]     بخاری ،  کتاب مواقیت الصلاۃ ،  باب وقت الظھر عند الزوال ،  ج۱ ،  ص۲۰۰ ،  حدیث: ۵۴۰۔



Total Pages: 349

Go To