Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بولا:   ’’ اَلا اِنِّي قَدْ اَجَرْتُ ابْنَ اُخْتِي فَلا يَمَسُّهُ اَحَدٌیعنی اے لوگو! میں   نے اپنے بھانجے کو پناہ دے دی ہے اب اسے کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ ‘‘   یہ سننا تھا کہ سب لوگ مجھ سے دور ہو گئے۔ تب میں   انتظا رمیں   کھڑا رہا کہ اب کوئی مجھے مارے ،  مگر کوئی میرے قریب نہ آیا۔ میں   نے دل میں   سوچا:  ’’ مَا هَذَا بِشَيْءٍ اِنَّ النَّاسَ يُضْرَبُونَ وَاَنَا لاَ اُضْرَبُ وَلاَ يُقَالُ لِي شَيْءٌ یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ دیگر مسلمانوں   کو تو راہِ خدا میں   تکالیف دی جائیں   لیکن مجھے نہ تو مارا جائے اور نہ ہی کچھ کہا جائے۔ ‘‘  بہرحال میں   نے مزیدکچھ انتظار کیا جب لوگ اطمینان سے حرم میں   بیٹھ گئے تو میں  نے اپنے خالو سے آکر کہا:   ’’ اِسْمَعْ جِوَارُكَ عَلَيْكَ رَدٌّ یعنی

غور سے سنو! تم نے مجھے جو پناہ دی ہے وہ میں   تمہیں   واپس لوٹاتا ہوں  ۔ ‘‘  وہ کہنے لگا:   ’’ بھانجے ! ایسا نہ کر۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ نہیں   ،  مجھے تمہاری امان کی ضرورت نہیں  ۔ ‘‘   اس کے بعد کفار سے میری اکثر جھڑپیں   ہوتی رہتیں   یہاں   تک کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسلام کو عزت وطاقت عطا فرمائی ۔  ([1])

ایک اہم بات:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دورِ جاہلیت میں   جب کوئی بڑا آدمی یا سردار کسی شخص کو پناہ دے دیتا تو پھر اسے کوئی کچھ نہ کہتا تھا ،  کہ اب اس کو کسی قسم کی تکلیف دینا اس سردار سے بغاوت کے مترادف تھا ، یہی وجہ ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ان کے خالو عاص بن وائل نے پناہ دی تو تمام لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو چھوڑ کرپیچھے ہٹ گئے۔

ایمانِ فاروقِ اعظم سے تقویت اسلام

(1).....اعلانیہ عبادت کا سلسلہ شروع ہوگیا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: میرے اسلام لانے کے بعدہم (یعنی مسلمانوں  ) نے کبھی چھپ کر عبادت نہ کی اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیت مبارک نازل فرمائی :  (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠) (پ۱۰ ،  الانفال: ۶۴)ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اے غیب کی خبریں   بتانے والے نبی اللہ تمہیں   کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔ ‘‘  اورقرآن میں   نازل ہونے والی یہ پہلی آیت تھی جس میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو  ’’ مومنین ‘‘   کا نام دیا گیا۔ ان دنوں   عمربن خطاب مکہ مکرمہ میں   باطل کے خلاف لڑائی کا جھنڈا گاڑے ہوئے تھا۔ کفارقریش اس سے حق بات پر لڑتے تھے ،  جب کہ عمربن خطاب ان سے یہی کہتا تھا کہ اگر ہم تین سو ہوجائیں   تو فیصلہ ہوجائے اوریہ مکہ کی سرداری یا ہم تمہیں   دے دیں   گے یا تم ہمیں   دے دو گے۔([2])

(2).....مسلمان محفوظ ہوگئے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن اسحاق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص جنہیں   کفار قریش نے یہ ذمہ داری دی تھی کہ وہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو ورغلا کر وہاں   گئے ہوئے مسلمانوں   کو واپس لائیں   لیکن نجاشی بادشاہ نے انہیں   بے مراد لوٹا دیا۔ ادھر مکہ مکرمہ میں   حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمان ہوگئے۔ آپ بڑے ہی رعب اوردبدبہ والے تھے  ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی پیٹھ پیچھے بھی کوئی آپ پر اعتراض نہیں   کرسکتا تھا۔ اسی لیے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وجہ سے مسلمان کفار قریش کے شر اور ان کی تکالیف سے محفوظ ہوگئے۔([3])

(3).....مسلمان معزز ہوگئے:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ جب سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلام لائے ہم (یعنی سب مسلمان) معزز ہوگئے۔ ([4])

(4).....مسلمانوں   کے حوصلے بلند ہوگئے:

٭…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اِسلام لانافتح تھا۔(یعنی جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسلام قبول فرمایا گویا مسلمانوں   کو ایک عظیم الشان فتح حاصل ہوگئی)۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہجرت سراپا نصرت اور حکومت عین رحمت تھی۔ جب تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمان نہ ہوئے تھے ہمیں  کعبۃ اللہ میں   جا کر نماز پڑھنے کی ہمت نہ ہوتی تھی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلام قبول کرکے کفار سے جنگ کی پس ہم نے کعبۃ اللہ میں   نماز پڑھی ۔

٭…حضرت سیِّدُناصہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے پر ہی ہم کعبہ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھے اورطواف کیا۔([5])

(5).....مؤمنوں   کو نئی پہچان ملی :

حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ جب تک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمان نہ ہوئے تھے تب تک



[1]     مسند بزار ،  اسلم مولی عمر عن عمر ،  ج۱ ،  ص۴۰۰ ،   حدیث: ۲۷۹۔

[2]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ،  ص۲۸۲۔

[3]     ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۲۸۳۔

[4]     بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۲۵ ،  حدیث: ۳۶۸۴۔

[5]     طبقات کبری  ، اسلام عمر ، ج۳ ،  ص۲۰۴۔



Total Pages: 349

Go To