Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سامنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو امان دے دی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے گھر کے صحن میں   عبادت کرنا شروع کردی جسے کفار کے بچے وغیرہ دیکھتے اور خوش ہوتے۔ کفار کو اس سے تکلیف ہوئی اور انہوں   نے ابن دغنہ سے شکایت کی  ،  ابن دغنہ نے آپ سے بات کی تو فرمایا مجھے تمہاری امان کی کوئی ضرورت نہیں   ،  میرے لیے رب کی امان ہی کافی ہے۔وہ اپنی امان توڑ کر چلا گیا اور رب عَزَّ وَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنی حفظ وامان میں   لے لیا اور ظالموں   کے ظلم وستم سے انہیں   محفوظ کیا۔ انہی دنوں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دعا فرمائی کہ یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ اسلام کو ابو جہل یا عمر بن خطاب کے ایمان سے قوت دے۔ ‘‘  ([1])

(3) ......اسلام فاروقِ اعظم بزبان فاروقِ اعظم:

حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  روایت کرتے ہیں   کہ ایک بارامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا تم لوگ پسند کرو گے کہ میں   تمہیں   اپنے اسلام لانے کا واقعہ سناؤں  ؟ ‘‘  ہم نے کہا:  ’’ جی ہاں  ! کیوں   نہیں  ۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں   حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سخت ترین مخالفین میں   سے تھا۔ ایک دن شدت کی گرمی تھی ،  اس گرمی میں   مکے کی گلیوں   میں   ایک شخص نے مجھے دیکھ کر کہا:   ’’ تم اس وقت کدھر جارہے ہو؟ ‘‘  میں   نے کہا:   ’’ اس شخص کی طرف جا رہا ہوں   جو خود کو نبی سمجھتا ہے۔ ‘‘   وہ بڑے تعجب سے بولا:   ’’ اے عمر! تو اُنہیں   شہید کرے گا جب کہ ان کا دین توتمہارے گھر میں   بھی داخل ہو چکا ہے؟ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ کہاں   ؟ ‘‘   اس نے کہا:   ’’ تمہاری بہن کے گھر۔ ‘‘  یہ سن کر میں   شدید غصے کی حالت میں   بہن کی طرف چلا آیا۔میں   نے دروازہ کھٹکھٹایاتواندر سے پوچھا گیا:   ’’ کون ؟ ‘‘   میں   نے کہا :  ’’ عمر بن خطاب۔ ‘‘  اس وقت وہ لوگ اپنے ہاتھوں   میں   لیے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ میرا نام سن کر جلدی جلدی میں   اٹھ کر چھپ گئے اورقرآنی صحیفہ وہیں   چھوڑ دیا۔ میری بہن نے دروازہ کھولا تو میں   نے کہا:   ’’ اے اپنی جان کی دشمن ! تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے یہ کہہ کر میں   نے کوئی چیز اٹھا ئی اور اس کے سر پر دے ماری جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا ،  وہ روتے ہوئے کہنے لگی:  ’’ جو جی چاہے کرلو ،  میں   باز نہیں   آؤں   گی کیونکہ میں   اسلام لا چکی ہوں  ۔ ‘‘  میں   ‘‘   اسی غصے کی حالت میں   کمرے میں   داخل ہوا اور چار پائی پر بیٹھ گیا ،  میں   نے دیکھا کہ وہاں   ایک قرآنی صحیفہ رکھا ہوا ہے۔ میں   نے کہا:   ’’ یہ کیا ہے؟ مجھے دو۔ ‘‘   بہن بولی:   ’’ تم اس کے اہل نہیں   ہو ،  کیونکہ اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں  ۔ ‘‘  بہرحال پاکی وغیرہ کے بعد آخر کار بہن نے مجھے وہ صحیفہ دے دیا۔ میں   نے اسے کھو ل کر پڑھنا شروع کیا تو اس میں   لکھا تھا:   ’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ‘‘  جب میں   نے اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھا تو مجھے مزید پڑھنے کا شوق ہوا ،  جب میں   نے دوبارہ پڑھا تو کانپنے لگ گیایہاں   تک کہ میں   نے وہ صحیفہ رکھ دیا۔ پھر مجھے ہوش آیا تو میں   نے اسے دوبارہ اٹھاکر پھر پڑھنا شروع کردیا۔جوں   جوں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اسماء میرے سامنے سے گزرتے گئے  ،  مجھ پر لرزہ طاری ہوتا گیا یہاں   تک کہ میں   بے ساختہ پکار اٹھا:   ’’ اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللہ۔ ‘‘  یہ سن کر گھر میں   چھپے ہوئے لوگ تکبیر کہتے ہوئے باہر نکل آئے اورمجھے بشارت دینے لگے کہ  ’’ اے ابن خطاب ! مبارک ہو حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیر کے روز یہ دعامانگی تھی:  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!دو مردوں   ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب میں   سے کسی ایک کے ساتھ جو تجھے زیادہ پسند ہے ،  اسلام کو عزت عطا فرما۔  ‘‘  اور ہمیں   یقین ہے کہ آپ ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دعا کا ثمرہ ہیں  ۔ میں   نے کہا:   ’’ مجھےبتاؤ کہ شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں   ہیں  ؟ ‘‘   انہوں   نے آپ کا پتا بتا دیا۔میں   وہاں   پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایاتو آواز آئی  ’’ کون ؟ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ ابن خطاب۔ ‘‘   مگر کسی نے دروازہ کھولنے کی ہمت نہ کی کیونکہ تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ میری سخت مخالفت سب پر آشکار تھی اور میرے مسلمان ہوجانے سے یہ لوگوں   بے خبر تھے۔ حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ دروازہ کھول دو ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے بہتری چاہے گا تو اسے ہدایت عطافرما دے گا۔ ‘‘  چنانچہ انہوں   نے دروازہ کھول دیااور دو مردوں   نے مجھے پکڑ کر سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   پیش کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اسے چھوڑ دو۔ ‘‘   پھر آپ نے میرا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اے ابن خطاب! اسلام لے آئو۔ ‘‘  پھر آپ نے میرے لیے یوں   دعا کی:   ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہدایت دے دے۔ ‘‘  یہ دعا کرنا تھی کہ میں   بے ساختہ پکار اُٹھا:   ’’ اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ وَاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ۔ ‘‘  مسلمانوں   نے یہ سن کر اس زور سے نعرۂ تکبیرہ بلند کیا کہ حرمِ کعبہ تک اس کی گونج جا پہنچی۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کے حق میں   رسول اللہ کی دعا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجس دن اسلام لائے اس دن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سینے پر تین بار ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اَللّٰهُمَّ اَخْرِجْ مَا فِيْ صَدْرِهٖ مِنْ غِلٍّ وَاَبْدِلْهُ اِيْمَاناًیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! عمر کے سینے میں   جوبھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل فرمادے۔ ‘‘  ([3])

قبول اسلام کے بعد فاروقِ اعظم کے اشعار:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبول اسلام کے بعد درج ذیل اشعار پڑھے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ذِي الْمَنِّ الَّذِي وَجَبَتْ ...... لَهُ عَلَيْنَا اَيَادٍ مَا لَهَا غَيْرُ

ترجمہ:  ’’ تمام تعریفیں   اس رب عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں   جس کے ہم پر بہت احسانات ہیں   ،  اور ہم پر وہی احسان فرمانے والا ہےاس کے سوا کوئی دوسرا نہیں   جو ہم پر احسان کرے۔ ‘‘ 

وَقَدْ بَدَاَنَا فَكَذَّبْنَا فَقَالَ لَنَا ...... صِدْقَ الْحَدِيْثِ نَبِيٌّ عِنْدَهُ الْخَبَرُ

 



[1]     انوار جمال مصطفےٰ ، ص۱۱۴بتصرف ۔

[2]     مسند بزار ، اسلم مولی عمر عن عمر ، عمر بن خطاب  ، ج۱ ، ص۴۰۰ ،  حدیث: ۲۷۹۔

[3]     معجم کبیر ،  سالم عن ابن عمر ،  ج۱۲ ،  ص۲۳۶ ،  حدیث: ۱۳۱۹۱۔



Total Pages: 349

Go To