Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عہدِ رسالت میں   بھی سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اتباع میں   اپنی زندگی گزارتے تھے اور بعد میں   بھی آپ کی یہی عادت مبارکہ رہی ،  یہی وجہ ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا اویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   سے ملاقات ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے اُن سے دعائے مغفرت کی درخواست کی۔

٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں   سے دعائے مغفرت کروانے کا حکم خود نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے دیا۔نیز بزرگوں   سے دعا کروانا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے ثابت ہے۔

٭…علمائے کرام نے اِس بات کی تصریح فرمائی ہے  ،  نیز اَحادیث مبارکہ سے بھی یہ واضح ہوتاہے کہ سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   اَپنی والدۂ ماجدہ کی بہت خدمت کیا کرتے تھے ،  اِسی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کو بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ اور بارگاہِ رسالت سے یہ مقام ومرتبہ ملا کہ اگرچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   صحابی نہیں   لیکن بارگاہِ رسالت میں   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کا ذکر خیر ہوتا تھا۔

٭…اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نہ کرسکے۔ چنانچہ منقول ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک بار اپنی والدہ سے بارگاہِ رسالت میں   حاضری کی اِجازت طلب کی  ،  والدہ نے اجازت تو دے دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ:  ’’  بیٹا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدرِ دولت پر موجود نہ ہوں   تو واپس آجانا۔ ‘‘   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   یمن سے سفر کرکے جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تو اپنے کاشانۂ اقدس پر تشریف فرما نہیں   ہیں  ۔فوراً والدہ کی بات یاد آئی اور واپسی کا سفر شروع کردیا۔ یوں   والدہ ماجدہ کی اطاعت میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نہ ہوسکی۔جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدرِ دولت پر تشریف لائے تو سیدنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے نور کو ملاحظہ فرمالیا اور استفسار فرمایا کہ  ’’ یہاں   کوئی آیا تھا؟ ‘‘   عرض کی گئی:   ’’ جی! یمن سے اُویس نامی شخص آئے تھے اور آپ کو سلام عرض کرگئے ہیں  ۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ یہ نور اُویس ہی کا ہے جسے وہ بطور ہدیہ چھوڑ گئے ہیں  ۔ ‘‘ 

یہ بھی منقول ہے کہ جب سیدنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے پیارے آقا ،  مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کاشانۂ نبوت پر زیارت نہ کی تو اُمّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے استفسار کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کب تشریف لائیں   گے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ شاید ظہر تک تشریف لے آئیں  ۔ ‘‘   عرض کیا:   ’’ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے میرا سلام عرض کردیجئے گا۔ ‘‘  جب خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدرِ دولت پر تشریف لائے تو سیدنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے نور کو ملاحظہ فرمالیا اور اُمّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے استفسار فرمایا۔عرض کیا:   ’’ جی! یمن سے اُویس نامی شخص آئے تھے اور آپ کو سلام عرض کرگئے ہیں  ۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ یہ نور اُویس ہی کا ہے جسے وہ بطور ہدیہ چھوڑ گئے ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

٭…حضرت سیِّدُنا اُوَیس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی یہ شان بھی ظاہر ہوئی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   مستجاب الدعوات تھے ،  نیز آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی یہ شان تھی کہ اگر کسی بات پر قسم اٹھالیتے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اسے ضرور پورا فرماتا تھا۔معلوم ہوا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولیوں   کو بلند درجات رب عَزَّ وَجَلَّ ہی کی بارگاہ سے ملتے ہیں   ،  ربّ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی عطا ہوتے ہیں   ،  انہیں   بیان کرنا شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے ثابت اور ان کو تسلیم کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت مبارکہ ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

چھٹا باب

فاروق اعظم عھدِ رسالت میں

اس باب میں ملاحظہ کیجئے

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبول ِ اسلام میں معاون  چند واقعات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  قبول ِ اسلام  کے چند واقعات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   کے قبولِ اسلام کا سبب حقیقی

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی قوت ایمانی اور دجال

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا اظہار واعلان اسلام

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے اظہار اسلام کا انوکھا انداز

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے قبول اسلام سے تقویت اِسلام

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہا تھ پر اسلام قبول کرنے والے حضرات

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

 



[1]     خواجہ اویس قرنی صحابی یا تابعی؟ ،   ص ۲۳ ،  ذکر اویس ،  ص۶۸۔



Total Pages: 349

Go To