Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭سیِّدُنا اویس قرنی:      ’’ نَعَم جی ہاں  ! بالکل ہیں  ۔ ‘‘ 

اِس کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کے بارے میں   جو غیبی خبر دی تھی وہ تفصیل سے سنائی کہ میں   نے حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے یہ سنا ہے کہ  ’’ اہل یمن کی امداد کے ساتھ تمہارے پاس قبیلہ مراد سے قرن کا ایک شخص آئے گا جس کا نام اُویس بن عامر ہوگا ،  اُس کو برص کی بیماری ہوگی اور پھر ایک درہم کی مقدار کے علاوہ باقی سب ٹھیک ہوجائے گی ،  قرن میں   اُس کی والدہ ہے جس کے ساتھ وہ بہت نیکی والا سلوک کرتا ہو گا ،  اگر وہ کسی چیز پر   اللہ1 کی قسم اٹھالے تو اللہ تَعَالٰی بھی اُس کو ضرور پورا فرمائے گا ،  اگر تم سے ہو سکے تو اُس سے مغفرت کی دعا کروانا۔ ‘‘   لہٰذا اب آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ یہ سن کر سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم:     ’’ اَيْنَ تُرِيدُ یعنی اب آپ کا کہاں   کا ارادہ ہے؟ ‘‘ 

٭سیِّدُنا اویس قرنی:      ’’ الْكُوفَةَ یعنی میں   کوفہ جاؤں   گا۔ ‘‘ 

٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم:     ’’ اَلَا اَكْتُبُ لَكَ اِلَى عَامِلِهَا میں   کوفہ کے گورنرکو آپ کے بارے میں   ایک مکتوب نہ لکھ دوں   تاکہ آپ کو وہاں   کوئی تکلیف نہ ہو۔ ‘‘ 

٭سیِّدُنا اویس قرنی:      ’’ اَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَيَّ یعنی خاک نشیں   لوگوں   میں   رہنا مجھے پسند ہے۔ ‘‘ 

جب دوسرا سال آیا تو کوفہ کے اَشراف میں   سے ایک شخص آیا اور اُس نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کی ،  تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس سے سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے متعلق پوچھا ،  اس نے کہا:   ’’ تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ میں   جب اُن کے پاس سے آیا تو اُس وقت وہ ایک خستہ حالت والے گھر میں   تھوڑے سے ضروری سامان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُسے بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کے متعلق تفصیلی حدیث سنائی۔ پھر وہ شخص جب سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس دوبارہ گیا تو اُن سے عرض کیا کہ میرے لیے دعائے استغفار کر دیجئے۔اُنہوں   نے جواباً اِرشاد فرمایا کہ تم ایک اچھے سفر سے آرہے ہو تم میرے لیے دعا کرو لیکن اُس شخص نے دوبارہ آپ ہی کو دعا کے لیے کہا تو اُنہوں   نے فورا ًامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ لَقِيتَ عُمَرَ کیا تم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کرکے آئے ہو؟ ‘‘  اُس نے عرض کیا:   ’’ جی ہاں  ۔ ‘‘   پھر سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اُن کے لیے دعائے مغفرت  فرمائی۔اِس واقعے کے بعد لوگوں   کو سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کے مقام ومرتبے کا علم ہوا۔([1])

فاروقِ اعظم اُویس قرنی کو ہر سال تلاش کرتے :

بعض روایات میں   یوں   بھی آیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں   کہ جب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے بارے میں   اِرشاد فرمایا تھا تب سے میں   عہد ِرسالت میں   بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو ڈھونڈتا رہا لیکن وہ نہ ملے۔ پھر خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ خلافت میں   بھی اُنہیں   بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ ملے۔پھر اپنے ہی عہدِ خلافت میں   جب دیگر علاقوں   کے وفود آئے تو میں   اُن میں   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو تلاش کرتا رہا بالآخر ایک وفد میں   آپ مجھے مل گئے۔ میں   نے اُن سے کہا:   ’’ يَا عَبْدَ اللہِ اَنْتَ اُوَيْسٌ  الْقَرَنِىُّ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے! کیا آپ ہی اُویس قرنی ہیں  ؟ ‘‘   انہوں   نے کہا:   ’’ جی ہاں  ! میں   ہی اُویس قرنی ہوں  ۔ ‘‘   میں   نے کہا:   ’’ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللہِ   صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَاُعَلَيْكَ السَّلَامَ یعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو سلام ارشاد فرمایا ہے۔ ‘‘  انہوں   نے عرض کیا:   ’’ عَلٰى رَسُوْلِ اللہِ السَّلَامُ وَعَلَيْكَ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی میرا سلام ہو اور اے امیر المؤمنین آپ پر بھی سلامتی نازل ہو۔ ‘‘  سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِرشاد فرماتے ہیں   کہ پھر میں   نے اُنہیں   دعا کی درخواست کی ۔بعد ازاں   ہرسال ہماری ملاقات ہوتی وہ مجھے اپنی خیر خیریت سے آگاہ کرتے اور میں   اُنہیں   اپنے بارے میں   آگاہ کرتا۔([2])

علم وحکمت کے مدنی پھول:

٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے سامنے مدینہ منورہ میں   بیٹھ کر یمن میں   مقیم تابعی بزرگ حضرت سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے متعلق غیب کی خبر دی ،  نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ وہ یمن کی امداد کے ساتھ آئیں   گے۔

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جو غیبی خبر دی تھی وہ بحمد اللہ تعالی پوری ہوئی اور سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   واقعی یمنی مددگارفوج کے ساتھ تشریف لائےاور فاروقِ اعظم سے ملاقات کی۔

٭… یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا بھی یہ پختہ عقیدہ تھا کہحضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےجو غیبی خبر دی ہے وہ پوری ہوکر ہی رہے گی ،  جبھی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عہدِ رسالت وعہدِ صدیقی دونوں   میں   سیِّدُنا اُویس قرنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کو تلاش کرتے رہے اور بالآخر اپنے ہی عہدِ خلافت میں   اُن سے ملاقات کی ترکیب بن گئی۔

 



[1]     مسلم ،  کتاب الفضائل ،  باب من فضائل اویس القرنی ،  ص۱۳۷۵ ،  حدیث: ۲۲۵۔

[2]     تاریخ ابن عساکر ،   ج۹ ،  ص۴۳۱۔



Total Pages: 349

Go To